عظیم کی شاعری برائے اصلاح و تنقید و تبصرہ

آبی ٹوکول — جون 7، 2014 12:50 شام
میاں عزیزم عظیم نے اپنی غزلوں کے ڈھیر لگا دئے ہیں اور مجھے بھی پریشان کر رکھا ہے اور تم اب بھی یہی پوچھ رہے ہو کہ ’سیتا کون تھا‘
@عظیم، یہ غزل اچھی ہے، کراہنے کو درست کر سکتے ہو آسانی سے۔ ’روتے “ یا ’گریاں‘ الفاظ لا کر
اہاہاہ سوری بابا جانی میں نے غور نہیں کیا واہ کیا بات ہے یہ تو کلام شاعر بزبان شاعر والا معاملہ تھا میں تو جہ نہ کرسکا عد توجہی پر معذرت خواہ آپ اور عظیم بھائی دونوں سے
عظیم — جون 8، 2014 12:50 صبح

پُوچھتے ہیں وہ شاعری کیا ہے
ہے جنہیں علم بندگی کیا ہے
موت کو روز دیکھتے ہیں ہم
اپنے شہروں میں زندگی کیا ہے
کیا خبر غم ہے کیا بلا یارو
کیا ہمیں علم کہ خوشی کیا ہے
گنگناتے ہیں رات بھر کس کو
دل کو اب کے لگن لگی کیا ہے
اپنے آگے کیا روشنی صاحب
اپنے پہلو میں تیرگی کیا ہے
الف عین — جون 8، 2014 6:18 صبح
اس پر کیا رائے دی جائے!
عظیم — جون 8، 2014 6:30 صبح
اس پر کیا رائے دی جائے!

اتنی بری ہے بابا : ) ؟
الف عین — جون 8، 2014 6:35 صبح
کوئی اچھا شعر بھی نہیں، کوئی خاص بات بھی نہیں، اور کوئی غلطی بھی نہیں۔
عظیم — جون 8، 2014 6:51 صبح
کوئی اچھا شعر بھی نہیں، کوئی خاص بات بھی نہیں، اور کوئی غلطی بھی نہیں۔

o_O اور میں رات سے "ایویں" خوش ہو رہا تها
عظیم — جون 8، 2014 8:09 صبح

ریت کا اک گهر بنانا ہے ہمیں
ساحلو ! یہ کر دکهانا ہے ہمیں
آپ کے نزدیک آنے کیلئے
یعنی خود سے دور جانا ہے ہمیں
کب تلک قسمت پہ اپنی روئیں ہم
ایک دن تو مسکرانا ہے ہمیں
آج کے دن بهول جانے دو تمہیں
آج خود کو یاد آنا ہے ہمیں
یہ نئی تہزہب کے بیمار ہیں
روگ لیکن اک پرانا ہے ہمیں
دوستوں سے ہارنے کے شوق میں
دشمنوں سے جیت جانا ہے ہمیں
کیا خبر کب تک عظیم اپنا یہ حال
آئینوں سے بهی چهپانا ہے ہمیں
واسطی خٹک — جون 8، 2014 9:36 صبح
بہت آلہ
منیب احمد فاتح — جون 8، 2014 4:29 شام
بہت اچھی غزل!
اور مطلع تو بہت ہی شاندار ہے۔
عظیم — جون 8، 2014 8:44 شام

جب کبھی ہم سکون پاتے ہیں
اُس دِل افروز پر لٹاتے ہیں
عشق میں یہ گمان کیسا ہے
تُجھ سے بُت پر یقین لاتے ہیں
جن کی قربت میں ہم نہیں ملتے
ہم سے ملنے جناب آتے ہیں
شیخ صاحب سے اِک شکایت ہے
بات اپنی ہی کہہ سُناتے ہیں
جانے والو کوئے بتاں سے دور
ٹھہرو ٹھہرو کہ ہم بھی آتے ہیں
کُچھ دِکھائی نہ دے سِوا اُن کے
دیکھ کر ہم نہ دیکھ پاتے ہیں
کُچھ ہمارا بھی غم سنیں صاحب
آپ اپنے ہی دُکھ سُناتے ہیں
عظیم — جون 8، 2014 8:48 شام
بابا تخلص پر وہ جو ایک '' ڈُنڈی '' سی لگی ہوتی ہے وہ کیسے لگائی جاتی ہے : ) ؟
عظیم — جون 9، 2014 8:40 صبح

اُس جفاکار نے وفا کی ہے
میرے ہر درد کی دوا کی ہے
مُجھ سے روٹھے رہو جہاں والو
اِس میں مرضی مِرے خدا کی ہے
جن نگاہُوں میں شرم اُتری تھی
اُن نگاہُوں نے کب حیا کی ہے
عشق میں درد ہے اگر اتنا
اِس میں شوخی بھی اِک بلا کی ہے
مُجھ کو جس کی ملی سزا یارب
مَیں نے وہ کون سی خطا کی ہے
اور کرتا بھی کیا مَیں اب صاحب
بس ترے واسطے دعا کی ہے
عظیم — جون 9، 2014 9:45 صبح

ایسے جاتے ہیں چھوڑ کر یارو
دل کے رشتوں کو توڑ کر یارو
ہم بھی بیٹھے ہیں دین و دنیا کو
دیر و کعبہ کو چھوڑ کر یارو
ٹوٹ جاتے ہیں اور بھی ایسے
خود کو رکھیں کیا جوڑ کر یارو
اب دکھائیں کیا چاک سینہ کر
اپنے ماتھے کو پھوڑ کر یارو
پھینک دے کاش میرے ہاتھوں سے
کوئی سگریٹ مڑوڑ کر یارو
تُم میں ایسا ہے کون جائے جو
مُجھ کو تنہا نہ چھوڑ کر یارو
عظیم — جون 9، 2014 11:49 صبح

سبھی اپنے پرائے لگ رہے ہیں
یہ جذبے آزمائے لگ رہے ہیں
اٹھا ہے سر ہمارا جس کی خاطر
اُسی کے در جھکائے لگ رہے ہیں
تمہیں کیا ہم بتائیں اپنے بارے
کہ خُود کو خُود بُھلائے لگ رہے ہیں
زمیں میں قید ہیں لیکن یہ سن لو
فلک سے ہم چرائے لگ رہے ہیں
جو ایسی آہ بھرتے ہیں یہ صاحب
کسی بُت کے ستائے لگ رہے ہیں
عظیم — جون 9، 2014 11:57 صبح
بھائی کوئی کُچھ بول بھی دو
عظیم — جون 9، 2014 12:03 شام
بابا
عبدالقیوم چوہدری — جون 9، 2014 12:12 شام
بھائی کوئی کُچھ بول بھی دو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پہلی لائین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔;)
بھائی مجھے تو شاعری کی اتنی سمجھ نہیں۔۔۔ ورنہ کچھ نہ کچھ 'بول' دیتا۔
عظیم — جون 9، 2014 12:14 شام
۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔پہلی لائین ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ;)
بھائی مجھے تو شاعری کی اتنی سمجھ نہیں۔۔۔ ورنہ کچھ نہ کچھ 'بول' دیتا۔

بول کر بھی کہتے ہیں کہ کُچھ نہ کُچھ بول دیتا بھائی بولئے بے شک نہیں مگر پہلی لائن لکھ دیجئے
عبدالقیوم چوہدری — جون 9، 2014 12:20 شام
بول کر بھی کہتے ہیں کہ کُچھ نہ کُچھ بول دیتا بھائی بولئے بے شک نہیں مگر پہلی لائن لکھ دیجئے
جس پوسٹ کا اقتباس لیا اس کا جواب آپ کی پوسٹ کردہ شاعری کی پہلی لائین ہے۔۔۔ خود کہہ رہے ہیں کہ 'سبھی اپنے پرائے لگ رہے ہیں' تو کوئی کیسے بولے بھلا۔۔۔ :p پرائے جو ہوئے :LOL:
۔۔۔۔۔
عظیم — جون 9، 2014 12:28 شام
جس پوسٹ کا اقتباس لیا اس کا جواب آپ کی پوسٹ کردہ شاعری کی پہلی لائین ہے۔۔۔ خود کہہ رہے ہیں کہ 'سبھی اپنے پرائے لگ رہے ہیں' تو کوئی کیسے بولے بھلا۔۔۔ :p پرائے جو ہوئے :LOL:
۔۔۔ ۔۔

مگر میرے پرائے تو کبھی اپنے تھے ہی نہیں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B9%D8%B8%DB%8C%D9%85-%DA%A9%DB%8C-%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%DB%8C-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%88-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF-%D9%88-%D8%AA%D8%A8%D8%B5%D8%B1%DB%81.66516/page-62