مقطع دونوں ۔صورتوں میں درست ہے۔ البتہا
دشت گر ہے دل مرے پھر گل تو گلشن بھی نہیں
چھوڑ گلشن دشت ہی میں بیج بونے دے مجھے
۔۔ابلاغ نہیں ہو رہا۔ اگر دشت ’میرا‘ دل ہو تو کچھ بہتر ہو۔ لیکن الفاظ کی شست تب بھی اچھی اور رواں نہیں۔
اُس اذیت سے تو اچھا ہے مہرباں یہ سکوں
اے مرے غم خار غم کا بھار ڈھونے دے مجھے
÷÷مہرباں کا تلفظ!!
محمد یعقوب آسی سے بھی پوچھا جائے۔ میرے خیال میں تو اس کی ہ پر جزم ہونا چاہئے۔ یہاں ہ متحرک نظم ہوا ہے۔ اور ’غم خار‘ یا ‘غم خوار‘