اِن خیالوں کے سمندرمیں روانی ڈھونڈئیے
جایئے جا کرگھٹاؤں کا بھی پانی ڈھونڈیئے
اُس طرف جو پھر گیا وہ لوٹ کر آیا نہیں
عشق کی دہلیز پر نہ اب جوانی ڈھونڈیئے
ذرا ذرا جس کے ہونے کی گواہی دے جہاں
مانیئے میری وہیں پر وہ نشانی ڈھونڈیئے
کچھ مجھےمعلوم نہ میں کون ہوں کس واسطے
آیئے اب آپ ہی میری کہانی ڈھونڈئیے
میں تو آیا ہوں یہاں پر موت اپنی ڈھونڈنے
آپ کو مل جائے گر تو زندگانی ڈھونڈیئے
سادگی اتنی مری تحریر میں کس واسطے
کیا سنائی دے رہا میری زبانی ڈھونڈیئے
آگئی اپنے خیالوں پر مجھے تو اب ہنسی
کیا لگا رکھا ہے کب سے ڈھونڈئیے جی ڈھونڈئیے
ہم عظیم اُس کے سوالی ہیں جہاں سے آج تک
کوئی لیکر آ گیا جھولی جو خالی ڈھونڈیئے