عظیم کی شاعری برائے اصلاح و تنقید و تبصرہ

عظیم — اگست 30، 2014 11:25 صبح
تو پھر یہ سب مبالغہ آرائی ہو رہی ہے؟ :p

یونہی سمجھ لیجئے ۔ ستھیا گیا ہوں ۔
ابن رضا — اگست 30، 2014 11:28 صبح
یونہی سمجھ لیجئے ۔ ستھیا گیا ہوں ۔
گویا اپنے قیمتی ہنر اور وقت کو کارِ کذب و لایعنی میں وقف کرنے کا مصمم تحیہ کر رکھا ہے؟
عظیم — اگست 30، 2014 11:33 صبح
گویا اپنے قیمتی ہنر اور وقت کو کارِ کذب و لایعنی میں وقف کرنے کا مصمم تحیہ کر رکھا ہے؟

بھائی اتنی گاڑھی اُردو مت بولئے مُجھ سے ۔ کہاں ڈکشنری کھولتا پھروں :ROFLMAO:
عظیم — اگست 30، 2014 9:58 شام
جُنوں کو آزمانے پر تُلا ہُوں
مَیں تیرا غم کمانے پر تُلا ہُوں
تُجھے کیسے مَیں خُود سے دُور کردُوں
تِرے ہی پاس آنے پر تُلا ہُوں
نہیں مُجھ کو خبر اپنی بھی یارو
اور اُن کو ڈُھونڈ لانے پر تُلا ہُوں
وہ مُجھ کو یاد آنا چاہتے ہیں
مَیں خُود کو بُھول جانے پر تُلا ہُوں
عجب عاشق ہُوں رو رو حال دِل کا
زمانے کو سنانے پر تُلا ہُوں
مِری آوارگی کا کیا بَتاؤں
کہ خاک اپنی اُڑانے پر تُلا ہُوں
سُنو اے صاحبو اِس کھیل میں مَیں
سبھی سے جِیت جانے پر تُلا ہوں
الف عین — اگست 31، 2014 1:58 صبح
واہ، اچھی غزل ہے ماشاء اللہ
عظیم — اگست 31، 2014 6:32 صبح
بابا --
x boy — اگست 31، 2014 6:46 صبح
بہت خوب
زبردست غزل ہے
عظیم — اگست 31، 2014 6:50 صبح
یُوں نہ کہئے کہ مر ہی جاؤں گا
میں کہاں اُن سے دل لگاؤں گا
دیکھئے تو یہ میری حالت آپ
آہ خود سے چلا بھی جاؤں گا
اور کب تک میں اپنے لکھے کو
آپ کے واسطے مٹاؤں گا
دل میں اُٹھا ہے درد عشقے کا
کیوں بھلا اب سکون پاؤں گا
میں نہ کہتا تھا اے جہاں تُجھ کو
دیکھنا اُن کو ڈھونڈ لاؤں گا
جو مری مشکلیں ہُوئیں آساں
اور مشکل میں خود کو پاؤں گا
میں وہ بگڑا ہُوا ہوں اے واعظ
ساری دنیا سدھار جاؤں گا
پھر یہ صاحب وہی تکبر کیوں
تم نے بولا تھا سر جُھکاؤں گا
عظیم — اگست 31، 2014 11:07 صبح
شوق سے جائیے کہ جائیں آپ
ہم کہاں جائیں یہ بتائیں آپ
دیکهئے ہو چکیں کئی صدیاں
ایک لمحے کو لوٹ آئیں آپ
مر کے بهی جی اٹهیں گے سن لیجے
ہم کو ایسے جو یوں بلائیں آپ
ایسے مظلوم پر خدا خاطر
آج تهوڑا سا رحم کهائیں آپ
خود کو صاحب جو ہم بتاتے ہیں
آپ کو صاحبہ بتائیں آپ
عظیم — اگست 31، 2014 10:00 شام
بیخودی حد سے بڑھ بھی جانے دو
یاد آتے ہو یاد آنے دو
کہہ نہ پاتا ہُوں حال اِس دل کا
ایک عالم کو کہہ سنانے دو
دُنیا والوں نے جُوں ستایا ہے
آج مُجھ کو تمہیں ستانے دو
ہاں کہ گریہ ہی کو بُلا رکھو
کُچھ تو ملنے کے تُم بہانے دو
اور کتنا جلاؤں دل بابا
اب تو کہتا ہُوں مر ہی جانے دو
عظیم — اگست 31، 2014 10:12 شام
رات دن یُوں نڈھال رکھتے ہیں
میرا کتنا خیال رکھتے ہیں
ہائے اُن کی کرم نوازی اُف
کل کی کل پر ہی ٹال رکھتے ہیں
میں ہُوں اُن کے جواب کا طالب
میرے آگے سوال رکھتے ہیں
کیا کہوں اُن کی کج ادائی مَیں
اُس میں صاحب کمال رکھتے ہیں
اُن بتوں سے یہ پوچھئے جا کر
اُن سا حسن و جمال رکھتے ہیں
ہم ہیں صاحب ہمارے ہی دشمن
آپ اپنا خیال رکھتے ہیں
عظیم — اگست 31، 2014 10:15 شام
بابا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عظیم — اگست 31، 2014 10:31 شام
یار کوئی کُچھ بول دیا کرو بھلا ہوگا ۔ پاگل سمجھ کر دھتکار ہی دیا کرو ۔
عظیم — ستمبر 1، 2014 12:47 صبح
ترے غم پر لٹا دوں
کہو دُنیا بُھلا دوں
جگر کو چیر اپنے
رقیبوں کو دکھا دوں
کروں ماتم یُوں اپنا
زمانے کو رُلا دوں
کہاں تک اور خود کو
بتاؤ آسرا دوں
لکھا ہے خونِ دل سے
یہ خط بھی کیا جلا دوں
میں کیسے آپ خود کو
بھلا اپنی دوا دوں
مرے بس میں ہو صاحب
قیامت سی اُٹھا دُوں
الف عین — ستمبر 1، 2014 2:48 صبح
کوئی پتھر سے نہ مارے مرے دیوانے کو!!! اب تو اچھی شاعری کر رہا ہے!!
بس دو خامیاں محسوس ہوئیں۔
ہائے اُن کی کرم نوازی اُف
کرم نوازی لفظ پر غور کرو، اور ’اف‘ تو بھرتی کا ہے۔
کیا کہوں اُن کی کج ادائی مَیں
کج ادائی میں کوئی کیسے کہہ سکتا ہے، اس کے ’ضمن میں “ یا ’اس کے بارے میں تو ممکن ہے
بتوں والا شعر بھی رواں اور بہتر بنایا جا سکتا ہے
الف عین — ستمبر 1، 2014 3:00 صبح
ٹھیک ہے لیکن عمدہ نہیں۔ سچی بات کرتا ہوں میں۔
الف عین — ستمبر 1، 2014 3:01 صبح
ٹھیک ہے لیکن عمدہ نہیں۔ سچی بات کرتا ہوں میں۔
الف عین — ستمبر 1، 2014 3:21 صبح
باقی اشعار خوب ہیں۔
مطلع کا پہلا مصرع گنجلک ہے۔
ہم کو ایسے جو یوں بلائیں آپ
۔۔یہ سب ہم معنی الفاظ ہیں، کچھ کم کر دو
خدا خاطر محاورہ نہیں، خدا کے لئے کہنے میں کیا حرج ہے؟
الف عین — ستمبر 1، 2014 3:25 صبح
اچھی غزل ہے۔ لیکن یہ دونوں اشعار سمجھ میں نہیں آئے
عجب عاشق ہُوں رو رو حال دِل کا
زمانے کو سنانے پر تُلا ہُوں
مِری آوارگی کا کیا بَتاؤں
کہ خاک اپنی اُڑانے پر تُلا ہُوں
عظیم — ستمبر 1، 2014 6:20 صبح
اچھی غزل ہے۔ لیکن یہ دونوں اشعار سمجھ میں نہیں آئے
عجب عاشق ہُوں رو رو حال دِل کا
زمانے کو سنانے پر تُلا ہُوں
مِری آوارگی کا کیا بَتاؤں
کہ خاک اپنی اُڑانے پر تُلا ہُوں

اور مطلع بابا -

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B9%D8%B8%DB%8C%D9%85-%DA%A9%DB%8C-%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%DB%8C-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%88-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF-%D9%88-%D8%AA%D8%A8%D8%B5%D8%B1%DB%81.66516/page-85