غالب کی استعمال کردہ مانوس بحریں از محمد ریحان قریشی

محمد خلیل الرحمٰن — مارچ 24، 2017 2:52 شام
محمد ریحان قریشی بھائی کی پیش کردہ مانوس بحور کی فہرست ہم مبتدیوں کے لیے ۔
غالب نے جن بحور کا استعمال کیا وہ درج ذیل ہیں:
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن(رمل مثمن محذوف)
مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن(مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف)
فاعلن مفاعیلن فاعلن مفاعیلن(ہزج مثمن اشتر)
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن(ہزج مثمن سالم)
مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن(ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف)
مفعول مفاعلن فعولن(ہزج مسدس اخرب مقبوض محذوف)
فعولن فعولن فعولن فعولن(متقارب مثمن سالم)
فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعِلن(رمل مثمن مخبون محذوف)
مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعِلن(مجتث مثمن مخبون محذوف)
فعلات فاعلاتن فعلات فاعلاتن(رمل مثمن مشکول)
مفعول فاعلاتن مفعول فاعلاتن(مضارع مثمن اخرب)
فاعلاتن مفاعلن فعِلن(خفیف مسدس سالم مخبون محذوف)
فاعلاتن فعِلاتن فعِلن(رمل مسدس سالم مخبون محذوف)
مفتعلن فاعلات مفتعلن فع( منسرح مثمن مطوی منحور)
مفتعلن مفاعلن مفتعلن مفاعلن (رجز مثمن مطوی مخبون)
مفاعیلن مفاعیلن فعولن(ہزج مسدس محذوف)
فاعلاتن فاعلاتن فاعلن(رمل مسدس محذوف)
مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن(ہزج مثمن اخرب)
مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلاتن (مجتث مثمن مخبون)
انھیں ہی مانوس بحور سمجھیے اور ان میں ہی طبع آزمائی بھی کیجیے۔
غیر مانوس بحور کے اوزان پرکھنا مشکل کام ہے۔
غالب نے جن بحور کا استعمال کیا وہ درج ذیل ہیں:
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن(رمل مثمن محذوف)
مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن(مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف)
فاعلن مفاعیلن فاعلن مفاعیلن(ہزج مثمن اشتر)
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن(ہزج مثمن سالم)
مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن(ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف)
مفعول مفاعلن فعولن(ہزج مسدس اخرب مقبوض محذوف)
فعولن فعولن فعولن فعولن(متقارب مثمن سالم)
فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعِلن(رمل مثمن مخبون محذوف)
مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعِلن(مجتث مثمن مخبون محذوف)
فعلات فاعلاتن فعلات فاعلاتن(رمل مثمن مشکول)
مفعول فاعلاتن مفعول فاعلاتن(مضارع مثمن اخرب)
فاعلاتن مفاعلن فعِلن(خفیف مسدس سالم مخبون محذوف)
فاعلاتن فعِلاتن فعِلن(رمل مسدس سالم مخبون محذوف)
مفتعلن فاعلات مفتعلن فع( منسرح مثمن مطوی منحور)
مفتعلن مفاعلن مفتعلن مفاعلن (رجز مثمن مطوی مخبون)
مفاعیلن مفاعیلن فعولن(ہزج مسدس محذوف)
فاعلاتن فاعلاتن فاعلن(رمل مسدس محذوف)
مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن(ہزج مثمن اخرب)
انھیں ہی مانوس بحور سمجھیے اور ان میں ہی طبع آزمائی بھی کیجیے۔
غیر مانوس بحور کے اوزان پرکھنا مشکل کام ہے۔
امان زرگر — مارچ 24، 2017 2:54 شام
بہت اعلی سر
عبید انصاری — مارچ 24، 2017 3:46 شام
محمد ریحان قریشی بھائی کی پیش کردہ مانوس بحور کی فہرست ہم مبتدیوں کے لیے ۔
غالب نے جن بحور کا استعمال کیا وہ درج ذیل ہیں:
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن(رمل مثمن محذوف)
مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن(مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف)
فاعلن مفاعیلن فاعلن مفاعیلن(ہزج مثمن اشتر)
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن(ہزج مثمن سالم)
مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن(ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف)
مفعول مفاعلن فعولن(ہزج مسدس اخرب مقبوض محذوف)
فعولن فعولن فعولن فعولن(متقارب مثمن سالم)
فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعِلن(رمل مثمن مخبون محذوف)
مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعِلن(مجتث مثمن مخبون محذوف)
فعلات فاعلاتن فعلات فاعلاتن(رمل مثمن مشکول)
مفعول فاعلاتن مفعول فاعلاتن(مضارع مثمن اخرب)
فاعلاتن مفاعلن فعِلن(خفیف مسدس سالم مخبون محذوف)
فاعلاتن فعِلاتن فعِلن(رمل مسدس سالم مخبون محذوف)
مفتعلن فاعلات مفتعلن فع( منسرح مثمن مطوی منحور)
مفتعلن مفاعلن مفتعلن مفاعلن (رجز مثمن مطوی مخبون)
مفاعیلن مفاعیلن فعولن(ہزج مسدس محذوف)
فاعلاتن فاعلاتن فاعلن(رمل مسدس محذوف)
مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن(ہزج مثمن اخرب)
مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلاتن (مجتث مثمن مخبون)
انھیں ہی مانوس بحور سمجھیے اور ان میں ہی طبع آزمائی بھی کیجیے۔
غیر مانوس بحور کے اوزان پرکھنا مشکل کام ہے۔
حرف بحرف درست، کہ ہم تو 'تجربہ' کر بھی چکے ہیں۔:cry2:
فرحان محمد خان — مارچ 29، 2017 3:52 شام
اس سے کافی آسانی ہو گی جزاک اللہ
عابد علی خاکسار — مئی 4، 2017 10:10 صبح
یہ بہت عمدہ کام ہے جزاک اللہ۔
عابد علی خاکسار — مئی 4، 2017 10:12 صبح
معزرت سے اگر ایک ایک مثال بھی ساتھ ہوتی تو مجھ سے لوگوں کے لئے زیادہ آسانی ہوتی
محمد ریحان قریشی — مئی 5، 2017 2:08 شام
معزرت سے اگر ایک ایک مثال بھی ساتھ ہوتی تو مجھ سے لوگوں کے لئے زیادہ آسانی ہوتی
ایک انتخاب ملاحظہ فرمائیں۔ تمام اشعار غالب کے ہیں
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن(رمل مثمن محذوف)
نقش فریادی ہے کس کی شوخیء تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا
مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن(مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف)
ہر چند ہو مشاہدۂ حق کی گفتگو
بتنی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر
فاعلن مفاعیلن فاعلن مفاعیلن(ہزج مثمن اشتر)
ہم کہاں کے دانا تھے کس ہنر میں یکتا تھے
بے سبب ہوا غالب دشمن آسماں اپنا
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن(ہزج مثمن سالم)
نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن(ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف)
ہیں اور بھی دنیا میں سخنور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالب کا ہے اندازِ بیاں اور
مفعول مفاعلن فعولن(ہزج مسدس اخرب مقبوض محذوف)
کیوں ردِ قدح کرے ہے زاہد
مے ہے یہ مگس کی قے نہیں ہے
فعولن فعولن فعولن فعولن(متقارب مثمن سالم)
جہاں تیرا نقشِ قدم دیکھتے ہیں
خیاباں خیاباں ارم دیکھتے ہیں
فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعِلن(رمل مثمن مخبون محذوف)
بوئے گل، نالۂ دل دودِ چراغِ محفل
جو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا
مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعِلن(مجتث مثمن مخبون محذوف)
نظر لگے نہ کہیں اس کے زورِ بازو کو
یہ لوگ کیوں مرے زخمِ جگر کو دیکھتے ہیں
فعلات فاعلاتن فعلات فاعلاتن(رمل مثمن مشکول)
کوئی میرے دل سے پوچھے، ترے تیرِ نیم کش کو
یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا
مفعول فاعلاتن مفعول فاعلاتن(مضارع مثمن اخرب)
میں اور بزمِ مے سے، یوں تشنہ کام آؤں
گر میں نے کی تھی توبہ ساقی کو کیا ہوا تھا
فاعلاتن مفاعلن فعِلن(خفیف مسدس سالم مخبون محذوف)
جان دی دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
فاعلاتن فعِلاتن فعِلن(رمل مسدس سالم مخبون محذوف)
ہم بھی دشمن تو نہیں ہیں اپنے
غیر کو تجھ سے محبت ہی سہی
مفتعلن فاعلات مفتعلن فع( منسرح مثمن مطوی منحور)
دیتے ہیں جنت حیاتِ دہر کے بدلے
نشہ بہ اندازۂ خمار نہیں ہے
مفتعلن مفاعلن مفتعلن مفاعلن (رجز مثمن مطوی مخبون)
دیر نہیں حرم نہیں در نہیں آستاں نہیں
بیٹھے ہیں رہگزر پہ ہم کوئی ہمیں اٹھائے کیوں
مفاعیلن مفاعیلن فعولن(ہزج مسدس محذوف)
ہوس کو ہے نشاطِ کار کیا کیا
نہ ہو مرنا تو جینے کا مزا کیا
فاعلاتن فاعلاتن فاعلن(رمل مسدس محذوف)
پوچھتے ہیں وہ کہ غالب کون ہے
کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا
مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن(ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف)
گلشن کو تری صحبت از بسکہ خوش آئی ہے
ہر غنچے کا گل ہونا آغوش کشائی ہے
مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلاتن (مجتث مثمن مخبون)
خدا کے واسطے داد اس جنونِ شوق کی دینا
کہ اس کے در پہ پہنچتے ہیں نامہ بر سے ہم اگے
شوکت پرویز — اکتوبر 30، 2017 2:10 شام
بہت خوب محمد ریحان صاحب!
۔۔۔۔
اس مثال میں الگ بحر مقتبس ہو گئی ہے۔
گلشن کو تری صحبت از بسکہ خوش آئی ہے
ہر غنچے کا گل ہونا آغوش کشائی ہے

۔۔۔۔
اس کی درست بحر اور درست اقتباس یہ ہوگا۔
گلشن کو تری صحبت از بسکہ خوش آئی ہے
ہر غنچے کا گل ہونا آغوش کشائی ہے
محمد ریحان قریشی — اکتوبر 30، 2017 3:45 شام
بہت خوب محمد ریحان صاحب!
۔۔۔۔
اس مثال میں الگ بحر مقتبس ہو گئی ہے۔
۔۔۔۔
اس کی درست بحر اور درست اقتباس یہ ہوگا۔
گلشن کو تری صحبت از بسکہ خوش آئی ہے
ہر غنچے کا گل ہونا آغوش کشائی ہے
بہت بہت شکریہ!
درست نشاندہی فرمائی آپ نے۔
خوش رہیں۔
سید نبیل شاہ — دسمبر 26، 2017 9:31 شام
واہ بہت خوب
اللہ آپ کو سلامتی عطا کرے
بہت جامع و مفصل بحور تحریر فرمائیں ہیں
آپ کا بہت شکریہ
سید ذیشان — مئی 15، 2018 5:00 صبح
معزرت سے اگر ایک ایک مثال بھی ساتھ ہوتی تو مجھ سے لوگوں کے لئے زیادہ آسانی ہوتی

سوال پرانا ہو گیا ہے لیکن نئے دیکھنے والوں کے لئے درج ذیل معلومات مفید ہو سکتی ہیں:
1۔ اس لنک پر جائیں جہاں غالب کا مکمل دیوان موجود ہے: دیوانِ غالب
2- بائیں جانب بحر کے بٹن کو دبائیں تو لسٹ نمودار ہو گی جس میں بحر کا نام اور غالب کے کلام کی تعداد دکھائی جائے گی:
YXB2epO.png

3۔ کسی بھی بحر کے نام پر کلک کریں تو اس بحر میں غالب کا سارا کلام نمودار ہو جائے گا۔
سفیر آفریدی — جنوری 7، 2019 9:59 صبح
محمد ریحان قریشی بھائی کی پیش کردہ مانوس بحور کی فہرست ہم مبتدیوں کے لیے ۔
غالب نے جن بحور کا استعمال کیا وہ درج ذیل ہیں:
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن(رمل مثمن محذوف)
مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن(مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف)
فاعلن مفاعیلن فاعلن مفاعیلن(ہزج مثمن اشتر)
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن(ہزج مثمن سالم)
مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن(ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف)
مفعول مفاعلن فعولن(ہزج مسدس اخرب مقبوض محذوف)
فعولن فعولن فعولن فعولن(متقارب مثمن سالم)
فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعِلن(رمل مثمن مخبون محذوف)
مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعِلن(مجتث مثمن مخبون محذوف)
فعلات فاعلاتن فعلات فاعلاتن(رمل مثمن مشکول)
مفعول فاعلاتن مفعول فاعلاتن(مضارع مثمن اخرب)
فاعلاتن مفاعلن فعِلن(خفیف مسدس سالم مخبون محذوف)
فاعلاتن فعِلاتن فعِلن(رمل مسدس سالم مخبون محذوف)
مفتعلن فاعلات مفتعلن فع( منسرح مثمن مطوی منحور)
مفتعلن مفاعلن مفتعلن مفاعلن (رجز مثمن مطوی مخبون)
مفاعیلن مفاعیلن فعولن(ہزج مسدس محذوف)
فاعلاتن فاعلاتن فاعلن(رمل مسدس محذوف)
مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن(ہزج مثمن اخرب)
مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلاتن (مجتث مثمن مخبون)
انھیں ہی مانوس بحور سمجھیے اور ان میں ہی طبع آزمائی بھی کیجیے۔
غیر مانوس بحور کے اوزان پرکھنا مشکل کام ہے۔
جی یہ کیا ہے
عرفان سعید — جنوری 7، 2019 10:10 صبح
اب کچھ سمجھ آئی!
ہمیں بھی نہیں پتا چلتا جو آپ لکھتے ہیں!
فلسفی — جنوری 7، 2019 10:14 صبح
اب کچھ سمجھ آئی؟
ہمیں بھی نہیں پتا چلتا جو آپ لکھتے ہیں!
آپ بھی لگتا ہے آفریدی صاحب کا تعاقب کر رہے ہیں۔ :)
عرفان سعید — جنوری 7، 2019 10:16 صبح
آپ بھی لگتا ہے آفریدی صاحب کا تعاقب کر رہے ہیں۔ :)
وہ ہر پچ پر ہر آنے والی بال کو اٹھا کر گراؤنڈ سے باہر پھینک رہے ہیں۔
میں تو بولڈ یا کیچ کروانے کی کوششوں میں مصروف ہوں!
سفیر آفریدی — جنوری 7، 2019 10:36 صبح
آداب پیارے پیارے وارے نیارے آپ لوگوں کے بیچ عرض ہے میں نہیں سمجها تو فاعلن فاعلاتن ان لفظوہ کی کیا معنی ہے گزارش ہے جیسے کیسی کو آواز دیتے ہو یعنی ماضی مستقبل حال اب یہ بهی مشکل ہے ان لفظوں کے متعلق معنی بحر غیر مانوس اور مانوس چلو
سفیر آفریدی — جنوری 7، 2019 10:37 صبح
برداشت کر رہے ہیں شکریہ
محمد تابش صدیقی — جنوری 7، 2019 10:40 صبح
آداب پیارے پیارے وارے نیارے آپ لوگوں کے بیچ عرض ہے میں نہیں سمجها تو فاعلن فاعلاتن ان لفظوہ کی کیا معنی ہے گزارش ہے جیسے کیسی کو آواز دیتے ہو یعنی ماضی مستقبل حال اب یہ بهی مشکل ہے ان لفظوں کے متعلق معنی بحر غیر مانوس اور مانوس چلو
یہ شاعری کے اوزان ہیں۔ جن پر اشعار تولے جاتے ہیں۔
فلسفی — جنوری 7، 2019 10:46 صبح
ازراہ تفنن
آپ کے اس جملے اور آفریدی صاحب کی میٹھی میٹھی پشتو زدہ اردو سن کر بے اختیار ذہن لاہور میں گھر کے قریب ایک پرانے لکڑی کے ٹال کی طرف چلا گیا جہاں بڑا سا ترازو تھا جس میں جلانے کی لکڑی کو تولا جاتا تھا۔
سید عمران — جنوری 7، 2019 10:50 صبح
غیر مانوس بحر تو بچ گئی۔۔۔
اور مانوس بحر کو چلو بھر پانی نصیب ہوا!!!
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%A7%D9%84%D8%A8-%DA%A9%DB%8C-%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D8%B9%D9%85%D8%A7%D9%84-%DA%A9%D8%B1%D8%AF%DB%81-%D9%85%D8%A7%D9%86%D9%88%D8%B3-%D8%A8%D8%AD%D8%B1%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%D8%B2-%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%B1%DB%8C%D8%AD%D8%A7%D9%86-%D9%82%D8%B1%DB%8C%D8%B4%DB%8C.95452/