آداب
بہت شکریہ ۔ ۔ ایک مرتبہ پھر کہ اب اشعار کی باریکیوں پر بھی روشنی ڈالی ۔ ۔ آپ کے زیرک ہونے میں کوئ کلام نہیں کہ دور بیٹھے ہی سمجھ گئے کہ جو پہلا لفظ/ترکیب ذہن میں آئی وہی لکھ دی ۔ ۔بلکل ایسا ہی ہے۔ سب سے پہلے ایک شعر ذہن میں آیا، اس کی تقطیع کی صحیح ہونے پر اسی وقت اشعار لکھتے گئے ۔ یکے بعد دیگرے ۔ کچھ واقعی بھرتی کے الفاظ ہیں جیسے چشم ۔ ۔ اور جب لگا کہ کوئ غلطی نہیں تو اتاولے پن کی انتہا دکھاتے ہوئے فورا آپ کی خدمت میں پیش کر ڈالے کہ پہلی مرتبہ تقطیع کے سوفٹوئر نے آدھی شاعری کو ہڑپ نہیں کیا ۔ ۔ جان بوجھ کر ایک بھی لفظ کی اینٹ ادھر سے ادھر نہ کی کہ غزل کی تمام عمارت دھڑام سے نہ گر جائے ۔ ۔ اس ساری کاروائ میں آدھے گھنٹے سے بھی کم وقت لگا ۔ ۔ اپنا حال تو نئے نئے عاشق کی مانند لگتا ہے جو محبوب کے چوبارے میں ڈر ڈر کر جاتا ہے کہ پٹائ نہ ہو جائے۔ ۔ اگر لاک ڈاؤن اسی طرح جاری رہا تو جلد ہی پکا پاپی بن جانے کی امید ہے ۔ ۔ اب باریکیوں پر بھی دھیان ہو گا ۔ ۔ انشااللہ ۔۔ ۔
ایک بات کی وضاحت اور کیجیئے گا کہ جب مختلف شعرا کا کلام دھیان سے پڑھیں اور سمجھیں تو قدرت کی طرف سے وہ ذہن کے کسی گوشے میں بیٹھ جاتا ہو اور پھر ہمارے اشعار میں بلا ارادہ نظر آنے لگے تو کیا وہ عیب کہلائے گا۔ ۔ ۔ جیسے اپنا ایک شعر پیش کرنا چاہوں گی ۔ ۔
اب نہ جائیں گے اس کی چوکھٹ پر
ماسوا عشق راحتیں ہیں بہت
جیسے ہی لکھا اس کے چند لمحے بعد ہی فیض صاحب کی غزل ذہن میں آ گئ ۔ ۔ جس میں خیال اور الفاظ ملتے جلتے ہیں ۔ ۔ جب کہ میری کوئ کوشش نہ تھی ۔ ۔( پوری شاعری خود بخود ہو رہی ہے اب تک ۔ ۔ تبھی تو پریشانی ہے) ۔ ۔ ۔ ہمیں اپنا شعر ضائع کر دینا چاہیے یا نہیں ۔ ۔ آپ کی راہنمائ کی منتظر