مکھن کی فراوانی سے اندازہ ہو رہا ہے کہ آپ ہمیں کسی اور پر قیاس کر بیٹھی ہیں۔ ہم تو ننھے کاکا ہیں ابھی۔ حیران کن کام کچھ نہیں کرتے، ہاں دوسروں کے حیران کن کاموں پر آئے دن حیران ہوتے ہیں۔
محمد خلیل الرحمٰن بھائی کے تراجم اور ہیروڈیز ہی دیکھ لیں۔ رشک کے مارے دھواں دھواں ہوتے رہتے ہیں۔
بہرحال، دعاؤں کا بے حد شکریہ۔ اللہ قبول کرے۔ آمین۔خصوصاً آخری دعا پر آمین بالجہر۔
اس زندگی میں اور خاص طور پر اس فورم پر کبھی بھی مکھن لگانے کی سعی نہیں کی ۔ ۔ آج تک آپ سمیت سبھی انجان ہیں مگر سبھی مددگار رہے ہیں کہ اس
فورم کی غرض و غایت یہی معلوم ہوتی ہے ۔۔ ہاں اساتذہ کی عزت کی پاسداری کرنے کی کوشش ضرور ہے کہ خود کی بھی یہی برادری ہے۔ ۔ ۔ٰآپ ہماری سادگی کو یقینا نہیں سمجھ پائے ورنہ ایسا نہ کہتے ۔ ۔ - یہاں مکھن لگانا تو دور کی بات کچھ کہے بنا آپ سمیت ہر کوئ ایک دوسرے کی مدد کرتا ہے ۔ ۔ آپ کو جدید دور کا سرسید بننے کی ترغیب دینے کا خیال کی وجہ علمی قابلیت ہرگز نہ تھی(کل ہی آپ کی کتاب پر آنسو بہائے ہیں ۔ ۔ وہ جو بیچتے تھے دوائے دل ۔ ۔ ۔ وہ دکان اپنی بڑھا گئے ۔ ۔ ۔) ورنہ آپ کے چچا جان سے درخواست کی جاتی کہ آپ کی علمی آب و تاب بھی انہی آفتاب ادب سے ضیاء پاتی ہے یا کہ دیگر اساتذہء کرام سے ۔ ۔ ۔سرسید رح اپنی ادبی کاوشوں پر کافی تنقید کی زد میں رہے اور ان پر تو کفر کا فتویٰ تک لگا ۔ ۔ مگر جوبات آپ میں اور ان میں مشترک لگی وہ دراصل "کڑھنے کی عادت" تھی ۔ ۔ ۔ ۔ و ہ بھی اپنی قوم کی علمی جہالت پر آپ کی طرح کڑھتے تھے ۔ ۔ اور اس کو بدلنا چاھتے تھے ۔ ۔ ۔ آپ بھی با رہا اس کا اظہار کرتے ہیں ۔ ۔ اور لوگوں گا ذہن بدلنے کی سعی کرتے ہیں ۔ ۔ تو ہم نے سمجھا کہ شائد آپ سنجیدہ ہیں ۔ ۔ دوسری بات یہ کہ آپ کمپیوٹر ایپس پر کام کرنا جانتے ہیں جو کہ ادب کی دنیا میں کم لوگ کر سکتے ہیں ۔ ۔ (ذاتی خیال غلط بھی ہو سکتا ہے۔ ۔ ) اگر کمپیوٹر لٹریٹ ہیں تو ادب سے دلچسپی نہیں یا ادب کی سجھ بوجھ ہے تو ایپلیکیشن ڈیولپمنٹ کا نہیں معلوم۔ ۔ ۔ تو آن لائن ادبی یونیورسٹی کا خیال آگیا کیونکہ کرونا نے دنیا کو آنے والے کئ سالوں کے لیئے یا ہمیشہ کے لیئے بدل دیا ہے ۔ ۔ بس اتنا ضرور سوچیئے گا کہ آپ کو کاہے کو مکھن لگایا جائے ۔ ۔ شاعری کی دنیا میں تو "جس دیئے میں جان ہو گی وہ دیا رہ جائے گا" کا اصول کار فرما ہے ۔ ۔ کوئ کسی کو شاعر نہیں بنا سکتا ۔ ۔ ۔البتہ آ پ کی کسی بات کا بالکل بھی برا نہیں منایا کہ بچوں کی باتوں کو ہمیشہ ہی درگذر کیا ہے۔ ۔ امید ابھی بھی آپ سے ہے ۔ ۔ جو قوم کا غم کھاتے ہیں ان کی خدا ئ مد د ہوتی ہے ۔ ۔ اور آپ کو تو اتنے قابل چچا جان کی صحبت بھی میسر ہے ۔ ۔ آپ کو کیسی رہنمائ اور آسانیاں مل سکتی ہیں ۔ ۔ سوچیے گا ۔ ۔ اور لوگ یہ کہنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ
"ہماری باتیں ہی باتیں تھیں شکیب کام کرتا تھا" ۔ ۔
اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو ۔ ۔ آمین