ٹیگ تو ابھی بھی نہیں کیا مجھے؟ بہر حال میں بن بلائے آ گیا ہوں۔
آداب
جی ٹیگ کرنے میں مسئلہ تھا۔ ۔ آپ کا بہت بہت شکریہ ۔ ۔

ممکن ہی نہیں دل کی جو اس پر نہ نظر ہو
محبوب کے چوبارے سے جب اسکا گزر ہو
....ٹھیک، دل کی نظر کچھ عجیب ضرور لگا
ملاحظہ کیجیئے:
ممکن ہی نہیں ہے کہ نہ اس در پہ نظر ہو
محبوب کے کو چے سے اگر اپنا گزر ہو
یا
محبوب کے کو چے سے کبھی اپنا گزر ہو
ممکن ہی نہیں ہے کہ نہ اس در پہ نظر ہو
سر چڑھ کر بولے گا مرے عشق کا جادو
گرتیرِ نظر میرا، ترے پارِ جگرہو
... پہلا مصرع بحر سے خارج ہے
دوسرے مصرعے میں پارِ جگر پر سوال اٹھتا ہے، پار ہندی لفظ ہے جس کے ساتھ اضافت ممکن نہیں
سر چڑھ کے ہی بولے گا مرے عشق کا جادو
گر تیرِِ نظر میرا جو پیوستِ جگر ہو
یا
ہو جائے گا دیوانہ مرے عشق میں تو بھی
گر تیرِِ نظر میرا جو پیوستِ جگر ہو
یا
سر چڑھ کے ہی بولے گا مرے عشق کا جادو
گر تیرِِ نظر تجھ میں جو پیوستِ جگر ہو
یا
ہو جائے گا دیوانہ مرے عشق میں تو ، گر
گھائل ہوانظروں نے مری تیرا جگر ہو
خیرات ترے عشق کی پوری نہیں پڑتی
اتنا تو مجھے دان کہ جو میری گذر ہو
.. دوسرا مصرع نا مکمل ہے کہ فعل غائب ہے، دان دینا یا دان کرنا فعل ہوتا ہے، محض دان تو اسم ہے
اتنا دے مجھے دان... ہو سکتا ہے
میری جو گذر ہو.. بھی نا مکمل لگتا ہے، گذر بسر یا پوری گذر کہنا چاہئے تھا
خیرات ترے عشق کی پوری نہیں پڑتی
اتنا دے مجھے دان مری زیست بسر ہو
یا
خیرات غمِ عشق کی کم پڑتی اےدوست
اتنا تو عطا کر کہ مری رات بسر ہو
کیونکر نہ کرے گریہ ہر ایک گھڑی وہ
جب زیست ہی قدرت کے شکنجے میں بسر ہو
.. پہلا مصرع بحر سے خارج، گریہ کے بعد ایک حرف جیسے 'جو'( و کے اسقاط سے ایک ہی حرف) کے اضافے سے مکمل ہو سکتا ہے، غافل میاں @
abdul.rouf620 کا مشورہ قبول کر لو
جی بہتر
کیوں کر نہ کرے زندگی پھر گریہ و زاری
جب ہر گھڑی قدرت کے شکنجے میں بسر ہو
یا
کیونکر نہ کرے گریہ الٰہی ترے بندے
جب زیست مصائب کے شکنجے میں بسر ہو
ہر گام پہ ہیں ساتھ مرے، ماں کی دعائیں
ایام کی گردش میں جو درپیش سفر ہو
.. ٹھیک
اگرچہ کہ یہ درست قرار پایا۔ پر ایک متبادل اور ملاحظہ کیجیئے۔
ہر گام پہ ہیں ساتھ، مری ماں کی دعائیں
افلاک کی گردش میں جو درپیش سفر ہو
کیوں اطلس و کمخواب و جواہرکی ہوس ہو
دو گز کا کفن ہی جو مرا رختِ سفر ہو
.. ہو پر پہلا مصرع بھی ختم ہو رہا ہے جس سے تقابل ردیفین کا سقم پیدا ہو رہا ہے، دوسرے مصرعے میں بھی ردیف کی وجہ سے 'ہو' لانا پڑ رہا ہے ورنہ 'ہے' کا محل تھا
اب ملاحظہ کیجیئے ۔ ۔
کیوں ریشم و کمخواب و جواہر کی ہو خواہش
آسان سفر ہو گا جو کم زاد سفر ہر
یا
پھر اطلس و کمخواب و جواہر کی ہوس کیا
دو گز کا کفن ہی جو مرا رختِ سفر ہو
استادِ محترم، ان اشعار کی تصحیح کرتے ہوئے کچھ اور خیالات نے ذہن پر دستک دے ڈالی ۔ ۔ آپ کی خدمت میں اس امید کے ساتھ پیش کرتی ہوں کہ ہمیشہ کی طرح قیمتی وقت دے کر ان کی بھی اصلاح کر دیں گے ۔ ۔ میں شکر گذار رہوں گی ۔ ۔
کردو گے فنا آتشِ جذبات میں اک روز
تم دل کے شبستاں میں وہ خوابیدہ شرر ہو
یا
کردو گے فنا آتشِ جذبات میں اک روز
تم دل کے شبستان میں خوابیدہ شرر ہو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہے آسرا رب کا وہ بچائے گا سفینہ
گر سامنے طوفان ہو یا کوئی بھنور ہو
تم پاس نہیں ہو یہ مگر آس ہے دل کی
مل جاؤ گے تم جذبہِ صادق جو اگر ہو