غزل

عباد اللہ — جون 24، 2017 9:53 شام
ہم ایسے بیراگی ہیں
جس کو راس ہو اپنا جوگ​

محفل محفل برپا ہے
اک بے ہمتائی کا سوگ​

ہم اس کے پرچارک ہیں
نام ہے جس مذہب کا یوگ​

اپنا خوش ہونا بھی کیا
آگ اور پانی کا سنجوگ​

جیون راہ میں ملتے ہیں
جانے کیسے کیسے لوگ​

سب کا اپنا اپنا غم
سب کے اپنے اپنے روگ​
عباد اللہ
لاریب مرزا — جون 24، 2017 11:19 شام
آپ نے یہ کس انداز میں اشعار لکھے ہیں؟؟ :) اعجاز انکل کو اصلاح کرنے میں دشواری ہو گی۔
فرقان احمد — جون 24، 2017 11:43 شام
اپنا خوش ہونا بھی کیا
آگ اور پانی کا سنجوگ
جیون راہ میں ملتے ہیں
جانے کیسے کیسے لوگ
سب کا اپنا اپنا غم
سب کے اپنے اپنے روگ
بہت اعلیٰ، عباد :)
عباد اللہ — جون 24، 2017 11:47 شام
آپ نے یہ کس انداز میں اشعار لکھے ہیں؟؟ :) اعجاز انکل کو اصلاح کرنے میں دشواری ہو گی۔
بھئی اب اتنا مشکل تبصرہ تو ہماری سمجھ میں آنے سے رہا ۔۔۔کچھ ہماری فہم ہی پر رحم کیا ہوتا :unsure::unsure:
عباد اللہ — جون 24، 2017 11:49 شام
بہت شکریہ بھیا یہ آپ ہی کی خواہش کے احترام میں حاضر ہوئے ہیں ورنہ شعر سے نسبت ایک مدت ہے منقطع ہے
مہدی نقوی حجاز — جون 25، 2017 1:50 صبح
جیون اور راہ کی ترکیب ہندی فارسی کی ترکیب ہے، تس کا عدم جواز مشہور ہے۔ علاوہ بر ایں، جب راہ کو رہ باندھا گیا ہے تو لکھنا بھی اسی طور چاہیے۔
غزل بے حد خوبصورت ہے۔
لاریب مرزا — جون 25، 2017 3:37 صبح
بھئی اب اتنا مشکل تبصرہ تو ہماری سمجھ میں آنے سے رہا ۔۔۔کچھ ہماری فہم ہی پر رحم کیا ہوتا :unsure::unsure:
ہاہاہا۔ چھوٹے بھیا، ہمارے سیل فون پہ ایک لائن میں صرف دو دو حرف لکھے نظر آ رہے ہیں۔ نتیجتاً دو لفظوں کے ساتھ غزل بہت لمبی چلی گئی ہے۔
جبکہ ابھی ہم دیکھ رہے ہیں کہ فرقان احمد نے جو اقتباس لیا ہے وہ تو بالکل ٹھیک ہے۔ :oops:
جبکہ ہمارے اقتباس لینے پہ صورتحال کیا بنی ہے،ملاحظہ کیجیے ۔
ہم ایسے بیراگی ہیں
جس کو راس ہو اپنا جوگ
محفل محفل برپا ہے
اک بے ہمتائی کا سوگ
ہم اس کے پرچارک ہیں
نام ہے جس مذہب کا یوگ
اپنا خوش ہونا بھی کیا
آگ اور پانی کا سنجوگ
جیون راہ میں ملتے ہیں
جانے کیسے کیسے لوگ
سب کا اپنا اپنا غم
سب کے اپنے اپنے روگ
عباد اللہ​
لاریب مرزا — جون 25، 2017 3:39 صبح
ویسے بہت اچھی کاوش ہے۔ کافی دنوں کے بعد نظر آئے آپ۔ :)
فرقان احمد — جون 25، 2017 11:27 صبح
جبکہ ہمارے اقتباس لینے پہ صورتحال کیا بنی ہے،ملاحظہ کیجیے ۔
لاریب! آپ کے لیے گئے اقتباس میں بھی غزل درست فارمیٹ میں نظر آ رہی ہے۔ شاید کوئی تکنیکی وجہ رہی ہو گی۔
محمد خلیل الرحمٰن — جون 25، 2017 11:32 صبح
ہاہاہا۔ چھوٹے بھیا، ہمارے سیل فون پہ ایک لائن میں صرف دو دو حرف لکھے نظر آ رہے ہیں۔ نتیجتاً دو لفظوں کے ساتھ غزل بہت لمبی چلی گئی ہے۔
جبکہ ابھی ہم دیکھ رہے ہیں کہ فرقان احمد نے جو اقتباس لیا ہے وہ تو بالکل ٹھیک ہے۔ :oops:
جبکہ ہمارے اقتباس لینے پہ صورتحال کیا بنی ہے،ملاحظہ کیجیے ۔

ہمیں بھی غزل اسی طرح عمودی سمت میں ایک دو لفظ پھر اس کے نیچے ایک لفظ۔ اسی طرح نظر آرہی ہے جس طرح لاریب بٹیا کہہ رہی ہیں۔
لاریب مرزا — جون 25، 2017 11:36 صبح
لاریب! آپ کے لیے گئے اقتباس میں بھی غزل درست فارمیٹ میں نظر آ رہی ہے۔ شاید کوئی تکنیکی وجہ رہی ہو گی۔
واقعی درست نظرآ رہی ہے؟؟ :barefoot: اففف!! ہمیں تو ابھی بھی ویسے ہی نظر آ رہی ہے۔ :|
شاید کوئی مسئلہ ہی ہو گا۔
فرقان احمد — جون 25، 2017 11:38 صبح
واقعی درست نظرآ رہی ہے؟؟ :barefoot: اففف!! ہمیں تو ابھی بھی ویسے ہی نظر آ رہی ہے۔ :|
شاید کوئی مسئلہ ہی ہو گا۔
عباد نے پہلی بار آسان لفظوں میں غزل کہی ہے۔ اب انہوں نے کسی نہ کسی طور تو خراج وصول کرنا ہے۔
مذاق ہے بھئی، دل پرلے کے جانے کا نہیں
ویسے معلوم تو یہی ہوتا ہے کہ سیل فون پر ہی یہ مشکل پیش آ رہی ہے۔ لیپ ٹاپ پر تو کوئی ایشو دکھائی نہیں دیتا۔ :)
محمد خلیل الرحمٰن — جون 25، 2017 12:28 شام
عباد نے پہلی بار آسان لفظوں میں غزل کہی ہے۔ اب انہوں نے کسی نہ کسی طور تو خراج وصول کرنا ہے۔
مذاق ہے بھئی، دل پرلے کے جانے کا نہیں
ویسے معلوم تو یہی ہوتا ہے کہ سیل فون پر ہی یہ مشکل پیش آ رہی ہے۔ لیپ ٹاپ پر تو کوئی ایشو دکھائی نہیں دیتا۔ :)
فرقان احمد بھائی آپ ہی پوری غزل کا اقتباس لے کر بھیج دیجیے کہ آپ کے اقتباس میں غزل پڑھ سکتے ہیں
فرقان احمد — جون 25، 2017 12:32 شام
فرقان احمد بھائی آپ ہی پوری غزل کا اقتباس لے کر بھیج دیجیے کہ آپ کے اقتباس میں غزل پڑھ سکتے ہیں
لیجیے خلیل بھیا! :)
ہم ایسے بیراگی ہیں
جس کو راس ہو اپنا جوگ
محفل محفل برپا ہے
اک بے ہمتائی کا سوگ
ہم اس کے پرچارک ہیں
نام ہے جس مذہب کا یوگ
اپنا خوش ہونا بھی کیا
آگ اور پانی کا سنجوگ
جیون راہ میں ملتے ہیں
جانے کیسے کیسے لوگ
سب کا اپنا اپنا غم
سب کے اپنے اپنے روگ
عباد اللہ
محمد خلیل الرحمٰن — جون 25، 2017 12:34 شام
خوبصورت غزل ہے۔ بہت داد قبول فرمائیے عباد اللہ بھائی
اور غزل پڑھوانے کے لیے فرقان احمد بھائی کا شکریہ
فرقان احمد — جون 25، 2017 12:36 شام
خوبصورت غزل ہے۔ بہت داد قبول فرمائیے عباد اللہ بھائی
اور غزل پڑھوانے کے لیے فرقان احمد بھائی کا شکریہ

خلیل بھیا! اس غزل میں ابن انشاء کی بھی جھلک دکھائی دی ہے ہمیں تو۔
عباد اللہ — جون 25، 2017 6:55 شام
جیون اور راہ کی ترکیب ہندی فارسی کی ترکیب ہے، تس کا عدم جواز مشہور ہے
شاید آپ درست کہتے ہوں مگر جس کثرت سے اسے استعمال کیا گیا وہ اس کی خوبی پر دلیل ہے ۔۔اسناد پیش کرنے کا محل نہیں مگر مقتدر شعرا "جیون راہ" باندھ چکے ہیں سو
"زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھو"
علاوہ بر ایں، جب راہ کو رہ باندھا گیا ہے تو لکھنا بھی اسی طور چاہیے
رہ باندھنے سے تنافر کا عیب باقی نہیں رہتا موزوں دونوں صورتوں میں ہے مشکل مگر یہ ہے کہ ہم تنافر کو عیب نہیں جانتے ۔
غزل بے حد خوبصورت ہے۔
حسن نظر
عباد اللہ — جون 25، 2017 7:17 شام
ویسے بہت اچھی کاوش ہے۔ کافی دنوں کے بعد نظر آئے آپ۔ :)
:redheart::redheart:
خوبصورت غزل ہے۔ بہت داد قبول فرمائیے عباد اللہ بھائی
:redheart::redheart:
عباد اللہ — جون 25، 2017 7:21 شام
عباد نے پہلی بار آسان لفظوں میں غزل کہی ہے۔ اب انہوں نے کسی نہ کسی طور تو خراج وصول کرنا ہے۔
مذاق ہے بھئی، دل پرلے کے جانے کا نہیں
ویسے معلوم تو یہی ہوتا ہے کہ سیل فون پر ہی یہ مشکل پیش آ رہی ہے۔ لیپ ٹاپ پر تو کوئی ایشو دکھائی نہیں دیتا۔ :)
شعر ہیں گو مرے خواص پسند
گفتکو پر مجھے عوام سے ہے
میرؔ
;);)
ہمیں بھی موبائل پر غزل درست نظر نہیں آ رہی کمپیوٹر پر البتہ درست ہے یقینا کوئی تکنیکی مسئلہ رہا ہو گا جو ہماری سمجھ سے پرے ہے ۔
مہدی نقوی حجاز — جون 25، 2017 7:28 شام
مقتدر شعرا "جیون راہ" باندھ چکے ہیں
بہر حال اس قماش کی ترکیبوں (جن میں اضافت بکسرہ نہیں ہوتی اور ہندی لفظ مقدم ہوتا ہے) کے جواز کا تو میں بھی اصولا قائل ہوں، البتہ اساتذہ سے شواہد مل جائیں تو خوب ہو۔
ہم تنافر کو عیب نہیں جانتے
لیکن تنافر تو واقعی عیوب سہ گانہ و پنج گانہ میں سے ہے
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84.97295/