"غزل" برائے اصلاح

الف عین — مارچ 13، 2016 4:22 شام
اببہتر ہو ھئی ہے غزل ماشاء اللہ۔
بس ان کو پھر دیکھ لو۔
جھوٹ ہے مصلحت کے پردے میں
سچ کے ہم دور سے گزرتے ہیں
۔۔دوسرا مصرع بہتر یوں ہو تو
دور سے سچ کے ہم ۔۔۔
ان کی طاعت عمل میں ہے ہی نہیں
ہم محبت کا دم ہی بھرتے ہیں
اب بھی واضح نہیں، ’ان‘ سے کون مراد ہیں؟
محمد تابش صدیقی — مارچ 13، 2016 4:30 شام
اببہتر ہو ھئی ہے غزل ماشاء اللہ۔
بس ان کو پھر دیکھ لو۔
جھوٹ ہے مصلحت کے پردے میں
سچ کے ہم دور سے گزرتے ہیں
۔۔دوسرا مصرع بہتر یوں ہو تو
دور سے سچ کے ہم ۔۔۔
ان کی طاعت عمل میں ہے ہی نہیں
ہم محبت کا دم ہی بھرتے ہیں
اب بھی واضح نہیں، ’ان‘ سے کون مراد ہیں؟

جزاک اللہ، استادِ محترم توجہ پر۔
مذکورہ پہلے شعر کو اسی طرح کر لیتا ہوں
جھوٹ ہے مصلحت کے پردے میں
دُور سے سچ کے ہم گزرتے ہیں
دوسرے شعر میں اشارہ تو نبیؐ کی ذات کی طرف ہے۔ مگر آپ کی بات بجا ہے کہ چونکہ مکمل نعتیہ کلام نہیں ہے تو واضح نہیں ہے۔
اس پر سوچتا ہوں۔
محمد تابش صدیقی — مارچ 13، 2016 5:55 شام
ان کی طاعت عمل میں ہے ہی نہیں
ہم محبت کا دم ہی بھرتے ہیں
اب بھی واضح نہیں، ’ان‘ سے کون مراد ہیں؟

اگر یوں کر لوں تو
پیرویِ نبیؐ تو ہے عنقا
ہم محبت کا دم ہی بھرتے ہیں
حمیرا عدنان — مارچ 13، 2016 6:03 شام
ماشاءاللہ تابش بھائی کیا کہنا آپ کا آخر کار آپ بھی صف اول کے شاعر بن ہی گے بہت سی داد قبول کیجیے
محمد تابش صدیقی — مارچ 13، 2016 6:06 شام
ماشاءاللہ تابش بھائی کیا کہنا آپ کا آخر کار آپ بھی صف اول کے شاعر بن ہی گے بہت سی داد قبول کیجیے
بہت شکریہ۔
مگر یہ زیادتی نہ کریں، میرے ساتھ بھی اور صفِ اول کےشعراء کے ساتھ بھی۔ :)
ابھی تو محفل کے سٹینڈرڈ کے مطابق 'تک بند' کہلائے جانے کے لائق بھی نہیں۔
حمیرا عدنان — مارچ 13، 2016 6:10 شام
بہت شکریہ۔
مگر یہ زیادتی نہ کریں، میرے ساتھ بھی اور صفِ اول کےشعراء کے ساتھ بھی۔ :)
ابھی تو محفل کے سٹینڈرڈ کے مطابق 'تک بند' کہلائے جانے کے لائق بھی نہیں۔
ارے نہیں بھائی ہم جیسوں کے لیے تو آپ صف اول والے ہی ہیں میں کافی کوشش کرتی ہوں لکھنے کی پھر مٹا دیتی ہوں :D پہلے والا تجربہ سے ہی سبق سیکھ لیا تھا
محمد تابش صدیقی — مارچ 13، 2016 6:11 شام
ارے نہیں بھائی ہم جیسوں کے لیے تو آپ صف اول والے ہی ہیں میں کافی کوشش کرتی ہوں لکھنے کی پھر مٹا دیتی ہوں :D پہلے والا تجربہ سے ہی سبق سیکھ لیا تھا
یعنی آپ اناڑیوں کی صف کی بات کر رہی ہیں؟ :p
حمیرا عدنان — مارچ 13، 2016 6:14 شام
یعنی آپ اناڑیوں کی صف کی بات کر رہی ہیں؟ :p
اناڑیوں سے بھی تھلے والا کوئی درجہ ہے تو میرا شمار انہی میں ہوتا ہے:p
محمد تابش صدیقی — مارچ 14، 2016 5:25 صبح
ابن رضا بھائی اور استادِ محترم الف عین صاحب کی رہنمائی کی روشنی میں کی گئی تبدیلیوں کے ساتھ
مثلِ روشن سحر نکھرتے ہیں
عشق کی راہ میں جو مرتے ہیں
یاد اس کی سمیٹ لیتی ہے
جب بھی ہم ٹوٹ کر بکھرتے ہیں
دوستوں کو فریب دے کر ہم
کیوں بھروسے کا خون کرتے ہیں
جھوٹ ہے مصلحت کے پردے میں
دُور سے سچ کے ہم گزرتے ہیں
پیرویِ نبیؐ تو ہے عنقا
ہم محبت کا دم ہی بھرتے ہیں
ہے یہ احساں اسی کا اے تابشؔ
کہ بگڑ کر جو ہم سنورتے ہیں
ابن رضا — مارچ 14، 2016 6:46 صبح
بہت خوب غزل کے لیے داد
پیرویِ نبیؐ تو ہے عنقا
یہ مصرع کچھ کھٹک رہا ہے تاہم ہے تو درست اس کی ترتیب نثر کے قریب کر دیں جیسے
پیرویِ نبیؐ تو عنقا ہے
یا
اتباعِ نبیؐ تو عنقا ہے
محمد تابش صدیقی — مارچ 14، 2016 6:52 صبح
بہت خوب غزل کے لیے داد
یہ مصرع کچھ کھٹک رہا ہے تاہم ہے تو درست اس کی ترتیب نثر کے قریب کر دیں جیسے
پیرویِ نبیؐ تو عنقا ہے
یا
اتباعِ نبیؐ تو عنقا ہے
درست۔
ایسے کر لیتا ہوں پھر
پیرویِ نبیؐ تو عنقا ہے
ہم محبت کا دم ہی بھرتے ہیں
سید لبید غزنوی — مارچ 14، 2016 8:14 صبح
(خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع
فاعلاتن مفاعلن فِعْلن)
غزل اس وزن پر ہے
ما شاءاللہ اچھی غزل ہے اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ہو۔۔
اسی بحر میں کلام۔۔۔
ہستی اپنی حباب کی سی ہے (غزل) - میر تقی میر
اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا (غزل) - حکیم مومن خان مومن
پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہے (غزل) - مرزا اسد اللہ خان غالب
مرد ہو، عشق سے جہاد کرو (نظم) - جوش ملیح آبادی
ادب دوست — مارچ 14، 2016 8:33 صبح
ارے نہیں بھائی ہم جیسوں کے لیے تو آپ صف اول والے ہی ہیں میں کافی کوشش کرتی ہوں لکھنے کی پھر مٹا دیتی ہوں :D پہلے والا تجربہ سے ہی سبق سیکھ لیا تھا

آپ کے اس طرزِ عمل کی بھرپور حوصلہ آفزائی کی جاتی ہے
:p:p:p
ادب دوست — مارچ 14، 2016 8:34 صبح
تابش میاں بہت بہت داد قبول ہو اچھی غزل ہے ماشاءاللہ
محمد تابش صدیقی — مارچ 14، 2016 8:37 صبح
تابش میاں بہت بہت داد قبول ہو اچھی غزل ہے ماشاءاللہ
بہت شکریہ ادب دوست بھائی۔آپ کی توجہ پر ممنوں ہوں۔ :)
الف عین — مارچ 14، 2016 11:03 صبح
اب درست ہے غزل
محمد تابش صدیقی — مارچ 14، 2016 11:07 صبح
جزاک اللہ ابن رضا بھائی اور استادِ محترم الف عین
مثلِ روشن سحر نکھرتے ہیں
عشق کی راہ میں جو مرتے ہیں
یاد اس کی سمیٹ لیتی ہے
جب بھی ہم ٹوٹ کر بکھرتے ہیں
دوستوں کو فریب دے کر ہم
کیوں بھروسے کا خون کرتے ہیں
جھوٹ ہے مصلحت کے پردے میں
دُور سے سچ کے ہم گزرتے ہیں
پیرویِ نبیؐ تو عنقا ہے
ہم محبت کا دم ہی بھرتے ہیں
ہے یہ احساں اسی کا اے تابشؔ
کہ بگڑ کر جو ہم سنورتے ہیں
یوسف سلطان — مارچ 14، 2016 5:08 شام
دوستوں کو فریب دے کر ہم
کیوں بھروسے کا خون کرتے ہیں
بہت خوب
جھوٹ ہے مصلحت کے پردے میں
دُور سے سچ کے ہم گزرتے ہیں
ہے یہ احساں اسی کا اے تابشؔ
کہ بگڑ کر جو ہم سنورتے ہیں
بہت خوب
محمد تابش صدیقی — مارچ 14، 2016 7:37 شام
بہت شکریہ یوسف بھائی، محبتوں کا.
سید اسد معروف — مارچ 30، 2016 9:14 صبح
تمام اشعار بہت اچھے ہیں۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.88598/page-2