سبحان اللہ ، سبحان اللہ!! کیا خوبصورت کلام ہے تابش بھائی!! دیر آید درست آید! مجھے بالکل حیرت نہیں ہوئی ۔ حیرت تب ہوتی کہ جب اشعار اس سے کم درجہ کے ہوتے ۔ آپ کے توپاؤں ہمیں پہلے دن ہی نظر آگئے تھے ۔ نہ صرف غزل فنی لحاظ سے کامل ہے بلکہ لفظیات اور اسلوب بھی بہت پختہ اور منجھا ہوا ہے ۔ اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ!
آپ کو اصلاح کی ضرورت تو نہیں ۔ وقت کے ساتھ مزید نکھار آتا جائے گا ۔ چونکہ آپ نے اس زمرے مین ارسال کی ہے تو میں اپنی ناقص رائے پیش کرتا ہوں ۔ شاید کوئی کام کی بات نکل آئے ۔
خدایا لاج رکھ احباب کی اندھی محبت کی
مِرے اخلاص کی خاطر، چھُپا کم مائیگی میری
بہت ہی اچھا شعر ہے ! کیا بات ہے !!
یہ کچھ سطریں جو اُبھری ہیں، مِرے بحرِ تخیل میں
فقط احساس ہے میرا، نہیں ہے شاعری میری
اچھا شعر ہے ۔ عمومی اصول یہ ہے کہ شعر ی تلازمات جس قدر آپس میں مربوط ہوں گے اور جس قدر رعایات کا التزام ہوگا شعر اتنا ہی موثر ہوگا ۔ چنانچہ اس شعر میں سطریں اور بحر کی مناسبت نہیں بن رہی۔ یا تو لہریں اور بحر ہو یا پھر سطروں کی مناسبت سے کاغذ، ورق، صفحہ یا قرطاس وغیرہ لایا جائے ۔ میری رائے مین اسے یوں کردیکھئے:
یہ کچھ سطریں جو ابھری ہیں ، مری لوحِ تخیل پر
فقط احساس ہے میرا، نہیں ہے شاعری میری
یا ایسا ہی کچھ اور۔
نگاہِ التفاتِ ساقیِ کوثر کا پیاسا ہوں
مئے گُلرنگ سے کیونکر بُجھے گی تشنگی میری؟
اس شعری خیال کو پھر دیکھئے ۔ دونوں مصرع دو الگ الگ لفظی تصویریں بنارہے ہیں جو آپس میں مربوط نہیں ۔ پہلا مصرع تو یہ تصویر کھینچ رہا ہے کہ آپ ساقیء کوثر کی محفل میں ہیں اور ان کی نگاہ کے منظر ہیں ۔ لیکن دوسرا مصرع؟!؟!
بتا اے چارہ گر مجھ کو، سبب کیا ایسی نسبت کا
جو دل میں درد بڑھتا ہے، تو بڑھتی ہے ہنسی میری
اچھا شعر ہے !!! بہت اعلی مضمون ہے!! کلاسیک!!! لیکن ایک آنچ کی کسر ہے۔ میری رائے میں پہلا مصرع بہتری چاہتا ہے ۔ ’’سبب کیا ہے ایسی نسبت کا‘‘ ۔ یہ ٹکڑا بہتری چاہتا ہے ۔ نسبت کا لفظ یہاں مبہم ہے ۔
تابش بھائی یہ میری ناقص رائے ہے کہ جس سے آپ کامتفق ہونا بالکل ضروری نہیں ۔ یہ معروضات صرف اور صرف اس لئے پیش کی ہیں کہ تبصروں سے افہام و تفہیم کے دروازے کھلتے ہیں ۔
ایک دفعہ پھر بہت بہت داد!! اللہ کرے زور قلم اور زیادہ!