غزل برائے اصلاح و تنقید "فاعلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن"

فرحان محمد خان — اگست 26، 2017 4:04 شام
غم کے ماروں کو ستاروں پہ ہنسی آتی ہے
بے سہاروں کو سہاروں پہ ہنسی آتی ہے
اپنی تنہائیوں پہ یوں ہنسی آتی ہے ہمیں
جیسے دریا کو کناروں پہ ہنسی آتی ہے
چشمِ پُر نم کی قسم حسنِ تصوّر کی قسم
اب تو نظروں کو نظاروں پہ ہنسی آتی ہے
"غمِ یاراں غمِ دنیا غمِ عقبی" کی قسم
اب ہمیں اپنے حصاروں پہ ہنسی آتی ہے
اہلِ دل، اہلِ وفا ،اہلِ نظر، اہلِ عشق
دلِ بے تاب کو چاروں پہ ہنسی آتی ہے
چند لمحوں کی ملاقات ہو تم سے جیسے
دلِ ناداں کو بہاروں پہ ہنسی آتی ہے
فرحان محمد خان — اگست 26، 2017 4:06 شام
سر الف عین
سر محمد وارث
دیگر اساتذہءِ کرام
سید ذیشان حیدر — اگست 26، 2017 4:52 شام
بہت خوب فرحان صاحب
رمز مذکر نہیں ہے غالباً۔ حساروں لفظ سمجھ نہیں آیا۔
فرحان محمد خان — اگست 26، 2017 5:11 شام
بہت خوب فرحان صاحب
رمز مذکر نہیں ہے غالباً۔ حساروں لفظ سمجھ نہیں آیا۔
بھائی رمز مذکر اور مؤنث دونوں ہے خسارہ
عباد اللہ — اگست 26، 2017 5:48 شام
بھیا اس غزل سے ہم کو @راحیل فاروق کی ایک غزل یاد آگئی جو غلبا کچھ اس طرح تھی
غم دنیا غم عقبی غم جاناں غم ذات
ہم نشیں آج تو چاروں پہ ہنسی آنے لگی
اگر نادانستگی میں ان کے شعر کا حلیہ بگاڑ دیا ہو تو معذرت
آپ کے تمام اشعار کی ان کے اشعار سے حیرت انگیز مماثلت ہے
:):):)
عباد اللہ — اگست 26، 2017 5:53 شام
لیجیو وہ غزل یوں ہے
فرحان محمد خان — اگست 26، 2017 6:41 شام
بھیا اس غزل سے ہم کو @راحیل فاروق کی ایک غزل یاد آگئی جو غلبا کچھ اس طرح تھی
غم دنیا غم عقبی غم جاناں غم ذات
ہم نشیں آج تو چاروں پہ ہنسی آنے لگی
اگر نادانستگی میں ان کے شعر کا حلیہ بگاڑ دیا ہو تو معذرت
آپ کے تمام اشعار کی ان کے اشعار سے حیرت انگیز مماثلت ہے
:):):)
نہیں جناب مماثلت کیسے آپ سر راحیل کی غزل پوری پڑھ لو ویسا میں نے اخگر مشتاق رحیم آبادی کی زمین میں لکھائی ہے
خود نظاروں پہ نظاروں کو ہنسی آتی ہے - غزل
جہاں میں نے ان کی کوئی چیز استعمال کی ہے اس کا "" میں لکھا ہے
فرحان محمد خان — اگست 26، 2017 6:44 شام
یہ لیجئے جناب سر راحیل فاروق کی غزل
غم کے ماروں کو ستاروں پہ ہنسی آنے لگی
رہ نشینوں کو سواروں پہ ہنسی آنے لگی
چمکے آنسو تو تبسم کا گماں ہونے لگا
آنکھ روئی تو نظاروں پہ ہنسی آنے لگی
اس قدر لوگ ہنسے چار طرف سے کہ معاً
ایک پاگل کو ہزاروں پہ ہنسی آنے لگی
غمِ یاراں غمِ دنیا غمِ عقبیٰ غمِ ذات
چارہ گر آج تو چاروں پہ ہنسی آنے لگی
ہوئے جاتے ہیں زیادہ ہی کچھ اب رمز شناس
عقل مندوں کو اشاروں پہ ہنسی آنے لگی
باغبانو تمھیں ہم کچھ نہیں کہتے لیکن
اف خزاؤں کو بہاروں پہ ہنسی آنے لگی
قطرہ ہوں پر مجھے راحیلؔ خدا جانے کیوں
قعرِ دریا پہ کناروں پہ ہنسی آنے لگی
میری غزل کی زمین بھی اور ہے
فرحان محمد خان — اگست 26، 2017 6:56 شام
سر محمد ریحان قریشی اگر مجھے سے کچھ گڑبڑ ہو گی ہو تو رہنمائی فرمائیں
فرحان محمد خان — اگست 26، 2017 6:58 شام
سر محمد وارث اگر مجھے سے کچھ گڑبڑ ہو گی ہو تو رہنمائی فرمائیں
سر راحیل فاروق اگر مجھے سے کچھ گڑبڑ ہو گی ہو تو رہنمائی فرمائیں
gook — اگست 26، 2017 7:42 شام
بہت اچھے بھئی واہ
فرحان محمد خان — اگست 26، 2017 7:48 شام
شکریہ بھائی
فرحان محمد خان — اگست 27، 2017 7:06 صبح
سر محمد تابش صدیقی اگر کوئی غلطی ہو گی ہو تو رہنمائی فرمائیں شکرگزار ہوں گا
محمد تابش صدیقی — اگست 27، 2017 7:13 صبح
اپنی تنہائیوں پہ یوں ہنسی آتی ہے ہمیں
یہ مصرع گڑبڑ لگ رہا ہے
حصاروں
محمد تابش صدیقی — اگست 27، 2017 7:20 صبح
اپنی تنہائیوں پہ یوں ہنسی آتی ہے ہمیں
تنہائیوں کی کیا تقطیع کریں گے؟
فرحان محمد خان — اگست 27، 2017 7:27 صبح
یہ مصرع گڑبڑ لگا رہا ہے
حصاروں
سر کیا سر راحیل فاروق کی غزل کے مماثلت زیادہ ہے ؟
غم کے ماروں کو ستاروں پہ ہنسی آنے لگی
رہ نشینوں کو سواروں پہ ہنسی آنے لگی
چمکے آنسو تو تبسم کا گماں ہونے لگا
آنکھ روئی تو نظاروں پہ ہنسی آنے لگی
اس قدر لوگ ہنسے چار طرف سے کہ معاً
ایک پاگل کو ہزاروں پہ ہنسی آنے لگی
غمِ یاراں غمِ دنیا غمِ عقبیٰ غمِ ذات
چارہ گر آج تو چاروں پہ ہنسی آنے لگی
ہوئے جاتے ہیں زیادہ ہی کچھ اب رمز شناس
عقل مندوں کو اشاروں پہ ہنسی آنے لگی
باغبانو تمھیں ہم کچھ نہیں کہتے لیکن
اف خزاؤں کو بہاروں پہ ہنسی آنے لگی
قطرہ ہوں پر مجھے راحیلؔ خدا جانے کیوں
قعرِ دریا پہ کناروں پہ ہنسی آنے لگی
La Alma — اگست 27، 2017 7:28 صبح
اچھی کوشش ہے.
سر محمد ریحان قریشی اگر مجھے سے کچھ کڑبڑ ہو گی ہو تو رہنمائی فرمائیں

سر محمد وارث اگر مجھے سے کچھ کڑبڑ ہو گی ہو تو رہنمائی فرمائیں

سر راحیل فاروق اگر مجھے سے کچھ کڑبڑ ہو گی ہو تو رہنمائی فرمائیں
گڑبڑ تو خاص نہیں لیکن آپ کافی گڑبڑا گئے ہیں.
فرحان محمد خان — اگست 27، 2017 7:30 صبح
اچھی کوشش ہے.
گڑبڑ تو خاص نہیں لیکن آپ کافی گڑبڑا گئے ہیں.
شکریہ جی معذرت
محمد تابش صدیقی — اگست 27، 2017 7:31 صبح
سر کیا سر راحیل فاروق کی غزل کے مماثلت زیادہ ہے ؟
غم کے ماروں کو ستاروں پہ ہنسی آنے لگی
رہ نشینوں کو سواروں پہ ہنسی آنے لگی
چمکے آنسو تو تبسم کا گماں ہونے لگا
آنکھ روئی تو نظاروں پہ ہنسی آنے لگی
اس قدر لوگ ہنسے چار طرف سے کہ معاً
ایک پاگل کو ہزاروں پہ ہنسی آنے لگی
غمِ یاراں غمِ دنیا غمِ عقبیٰ غمِ ذات
چارہ گر آج تو چاروں پہ ہنسی آنے لگی
ہوئے جاتے ہیں زیادہ ہی کچھ اب رمز شناس
عقل مندوں کو اشاروں پہ ہنسی آنے لگی
باغبانو تمھیں ہم کچھ نہیں کہتے لیکن
اف خزاؤں کو بہاروں پہ ہنسی آنے لگی
قطرہ ہوں پر مجھے راحیلؔ خدا جانے کیوں
قعرِ دریا پہ کناروں پہ ہنسی آنے لگی
آپ کے پہلے شعر کا پہلا مصرع
تیسرا شعر
جب آپ کی غزل پہلی نظر میں پڑھی تو یہی سمجھا کہ ان کی زمین استعمال کی ہے۔
فرحان محمد خان — اگست 27، 2017 7:33 صبح
آپ کے پہلے شعر کا پہلا مصرع
تیسرا شعر
جب آپ کی غزل پہلی نظر میں پڑھی تو یہی سمجھا کہ ان کی زمین استعمال کی ہے۔
کیا کہیں پہ ان کا خیال بھی استعمال ہوا ہے ؟
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%88-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF-%D9%81%D8%A7%D8%B9%D9%84%D8%A7%D8%AA%D9%86-%D9%81%D9%8E%D8%B9%D9%90%D9%84%D8%A7%D8%AA%D9%86-%D9%81%D9%8E%D8%B9%D9%90%D9%84%D8%A7%D8%AA%D9%86-%D9%81%D9%90%D8%B9%D9%92%D9%84%D9%86.98069/