اسے عموما
فعلن فعلن فعلن فع
کہا اور سمجھا جاتا ہے ۔ اس اس کے کئی عام ؔمشتقات ؔ کی شکلیں برتی جاتی ہیں ۔
فعلن فعلن فعلن فع
کہا اور سمجھا جاتا ہے ۔ اس اس کے کئی عام ؔمشتقات ؔ کی شکلیں برتی جاتی ہیں ۔
کچھ لوگوں کے مطابق یہ بحر فعل فعول فعول فعل ہے اور تسکینِ اوسط کے ذریعے اس کی دیگر شکلیں حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس اصول کے مطابق دو فَعَل اس بحر میں ایک ساتھ واقع نہیں ہو سکتے لیکن ایسا عین ممکن اور جائز ہے، جیسا کہ اس مصرع میں ہے:
ہاں یہ بات بھی درست ہے ۔ مجھے تو لگتا ہے کہ بحر ہندی کی تعبیرات کافی پرسنلائزڈ انٹرپریٹیشنز کے کئی امکانات رکھتی ہیں ۔
ابھی اور انتظار کرنا پڑے گا
غزل کی پذیرائی کے لیے تہہِ دل سے شکر گزار ہوں
؟؟؟؟
ایک مشہور گانا ہے۔
ہاں بھائی، وہ تو معلوم ہے ۔۔۔ آپ کو کیا لگا کہ ہم نے اپنے مراسلے میں تازہ آمد شریک کی تھی؟ 👨🍼
سلامت رہیں محترمہ سیما علی صاحبہ