خود سے آپ ایک اور کردار فرض کر لیں۔
یاد ہیں غالب تجھے وہ دن کے وجدِ ذوق میں
زخم سے گرتا تو میں پلکوں سے چنتا تھا نمک
ویسے اقبال نے بھی میں اور خودی کو دو الگ چیزیں قرار دیا ہے۔
یہ جناب دراصل ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں تو کلامِ موزوں فی الحال پہلی سیڑھی ہے جو انھیں چرھنی ہوگی۔ مادری زبان ان کی غالباََ اردو نہیں ہے۔