میرے پلے ہی نہیں پڑتی چھوٹے بڑے مصرعوں کی ترتیب!
آزاد نظم کی دو بہت عمدہ مثالیں اوپر آ چکیں (جواب نمبر 6 اور جواب نمبر 12)۔ اس میں ہم مصرعے نہیں کہتے؛ (مصرعوں کا باہم ہم وزن ہونا لازمی ہے، وزن ایک سا نہ رہا تو مصرع ہی نہ رہا) سطریں کہتے ہیں۔ ہر سطر کی انفرادی ضخامت کا انحصار آپ کے مضمون اور آپ کے پیرایہء اظہار پر ہے۔ آپ کہاں کس جزو کو کس جزو سے ملا کر دیکھتے ہیں، کس کو الگ رکھتے ہیں، کسے کتنی اہمیت اور قوت دیتے ہیں، کون سے اجزا الگ ہو نہیں سکتے یا آپ ان کو الگ کرنا نہیں چاہتے۔ وزن کا تصور مصرعے کے ساتھ ہے، جب مصرع نہ رہا اور سطر آ گئی تو بات وزن سے گھٹ کر رکن پر آ گئی۔
مقبول طریقہ یہ ٹھہرا کہ آپ سطریں اپنے مضمون اور موضوع اور اظہار اور انداز کے مطابق چھوٹی بڑی کر لیجئے، مگر نظم میں ایک عروضی رکن کی تکرار ہوتی رہے تا آنکہ آپ نظم پوری کر لیں۔ بہاؤ میں اگر آپ ایسی کیفیت لے آتے ہیں کہ معنوی سطح پر کہیں بھی رکنا خود آپ کو محال لگے تو یہ آپ کی کامیابی ہے۔ کیفیت کچھ ایسی بن جاتی ہے کہ "سانس ٹوٹتی ہے تو ٹوٹ جائے، رُکن نہ ٹوٹے تو سونے پر سہاگہ! رکن کو قائم رکھنے میں اخفاء اور اشباع کی ضرورت عین فطری بات ہے سو وہ بھی آزاد نظم میں ہوتی ہے۔ قافیہ اور ردیف کی پابند شاعری والی صورت یہاں نہیں ہوتی تاہم اگر آپ ہم قافیہ الفاظ سلیقے کے ساتھ لا سکیں تو نظم کا حسن نکھرتا ہے۔ املاء، روز مرہ اور محاورہ کی صحت تو خیر زبان و بیان کی کی بنیادی ضرورت ہے۔ ضرب المثل، تلمیح، استعارہ، اشارہ، کنایہ، علامت و رعایت اور دیگر جتنے شعری حربے ہیں وہ سب یہاں کارآمد ہوتے ہیں۔
مختصراً وہی بات، کہ آزاد نظم صرف ہیئت کی حد تک محدود آزادی رکھتی ہے اور اس سے باہر من حیث المجموع شعری نظام کی پابند ہوتی ہے۔ وہ پابندیاں بھی اٹھا لیں تو پھر نظم باقی نہیں رہتی، نثر کی کوئی صورت رہ جائے تو رہ جائے۔