لفظ!!!

محمد یعقوب آسی — اگست 26، 2015 5:46 شام
مزہ آگیا استادِ محترم۔
دوسرا پیراگراف جس میں مفاعیلن کی تکرار ہے، کمال ہے۔ اس میں تو احساس ہی نہیں ہوا کہ ہم نظم نہیں نثر پڑھ رہے ہیں۔ جبکہ پہلے پیراگراف میں یہ احساس شدت سے ہوا کہ یہ نظم ہے جسے پیراگراف کی شکل میں لکھ دیا ہے۔یہ صرف ہمارا تاثر ہے۔
نثر سمجھ کے پڑھنے کو صرف یہ کرنا پڑے گا کہ الف واو، یاے، ہاے کو گرائیں نہیں۔ :idea2: مگر شاعر کہاں باز رہتا ہے :beermug:
نوید اکرم — ستمبر 2، 2015 2:14 شام
آزاد نظم میں "نظم" (بمعنی نظام) تو رکھنا ہے نا! وہ بھی جاتا رہا تو جانئے مادر پدر آزاد ہو گئی
آپ نے نثری نظم کو کیا ہی خوب صورت نام دیا ہے "مادر پدر آزاد نظم"
محمد یعقوب آسی — ستمبر 2، 2015 4:52 شام
آپ نے نثری نظم کو کیا ہی خوب صورت نام دیا ہے "مادر پدر آزاد نظم"
جی یہ نام نہیں ہے۔ میں کون ہوتا ہوں نام دینے والا! میں نے عرض کیا کہ مادر پدر آزاد ہو گئی۔ لفظ نظم کا اضافہ آپ کر رہے ہیں۔ نام ان سے پوچھئے جو اس کے رسیا ہیں، میں نے تو عفیفہ کا ذکر تک نہیں کیا۔
سوال یہ تھا کہ جب آزاد نظم میں رکن کی پابندی ہے تو پھر وہ آزاد کیوں کر کہلائی۔ جواب میں عرض کیا ہے کہ نظم (ڈسپلن) پیدا ہی پابندی سے ہوتا ہے۔
خالد محمود چوہدری — ستمبر 2، 2015 5:20 شام
واقعی
خاموشی تعلق کی موت ہے
شاباش
زبردست
محمد یعقوب آسی — ستمبر 2، 2015 5:43 شام
خاموشی تعلق کی موت ہے
سیاق و سباق سے قطع نظر کبھی کبھی اقرار بھی! اور اقرار بھی ایسا کہ لفظ گونگے ہو جاتے ہیں۔
خالد محمود چوہدری — ستمبر 2، 2015 5:48 شام
جواباً خاموشی کبھی کبھی متکلم کی توہین ہوتے ہیں ۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%84%D9%81%D8%B8.84147/page-3