آپ نے وقت نکالا بہت شکریہ، کچھ باتیں تھیں جن کی مزید وضاحت ہو جائے تو شکرگزار ہوں گی

مقصد یہ ہے کہنے کا پریم کی کہانیاں جیسی چلی آرہی ہیں اور ہر شخص کے پاس ہی ایسا کوئی نہ کوئی نہ قصہ ضرور ہے جسے وہ ہر نفس کو پکڑ پکڑ کر سُناتا ہے (مالا جپنا )اور اپنے درد کو الفاظ میں ڈھال کر بیتی پر روتا ہے تو میرے پاس ایسا کوئی قصہ کہانی نہیں سنانے کو۔
÷÷مالا جپنا اور گلے کا ہار دو الگ الگ محاورے ہیں۔ ان کو خلط ملط مت کرو۔ جو مفہوم تم نے لکھا ہے، وہ شعر سے برامد نہیں ہو تا۔ اسی لئے دوسرے ٹکڑے کو دوبارہ کہنے کی ضرورت ہے
میں سمجھ نہیں پائی۔
÷÷’نا‘ بر وزن فع، دوحرفی ، غلط سمجھتا ہوں۔ درست طریقہ محض ’ن‘ کی طرح باندگنا ہے، یعنی’ہ‘ کا اسقاط
سنجوگ یہاں کسی گہری دوستی، میل ملاپ، اتفاقات غرض اپنے تمام تر معنوں کے ساتھ یہاں استعمال ہو رہا ہے، اس نظر سے دیکھیں شعر کو۔
پریم لفظ کی تکرار کچھ جچے گی نہیں۔
اگر آپ کی بات مانوں تو دوسرا مصرع پوچھنے کی بجائے بتانے کی طرز پر چلا جائے گا، جو کہ مقصد نہیں۔
÷÷پریم لفظ کہاں استعمال ہو رہا ہے اس مصرع میں؟ ویسے ’دل کی بازی‘ بھی لا سکتی ہو۔"یہ" لکھنے والی کو ہی کہا ہے، لیکن اگر "دل" بن کر دیکھا جائے تو "یہ" ہی ہو گا کیونکہ جہاں تک میرا خیا ل ہے دل اپنے ہی مالک کا نام لیتا نہیں سنا گیا کبھی