معمول (نظم از عاطف بٹ)

ساجد — ستمبر 6، 2012 2:24 شام
خوب لکھا ہے جناب۔
عاطف بٹ — ستمبر 6، 2012 2:25 شام
بہت شکریہ ساجد بھائی
مزمل شیخ بسمل — ستمبر 6، 2012 2:27 شام
بہت اچھی نظم ہے عاطف بھیا
میں نے اس کو اصلاح سخن میں منتقل کر دیا ہے :)

تھینکیو بہنا. :)
محمد خلیل الرحمٰن — ستمبر 6، 2012 2:52 شام
خوبصورت نظم۔ داد قبول کیجیے جناب
عاطف بٹ — ستمبر 6، 2012 2:52 شام
خوبصورت نظم۔ داد قبول کیجیے جناب
بہت نوازش سر۔
قرۃالعین اعوان — ستمبر 8، 2012 12:34 صبح
خوب!
نایاب — ستمبر 8، 2012 6:16 صبح
کیا خوب نظم کی ہے اک تلخ حقیقت
بہت سی داد بٹ بھائی
عاطف بٹ — ستمبر 8، 2012 11:48 صبح
بہت شکریہ
عاطف بٹ — ستمبر 8، 2012 11:48 صبح
کیا خوب نظم کی ہے اک تلخ حقیقت
بہت سی داد بٹ بھائی
بےحد شکریہ نایاب بھائی
الف عین — ستمبر 10، 2012 12:01 شام
اچھی نظم ہے عاطف۔ بحر میں ہے، بس ایک مصرع باہر ہے۔
کل وہاں پر فون ہے کرنا
جسے ایک بھی کے اضافے سے درست کیا جا سکتا ہے۔
کل بھی وہاں پر فون ہے کرنا
عاطف بٹ — ستمبر 10، 2012 12:05 شام
اچھی نظم ہے عاطف۔ بحر میں ہے، بس ایک مصرع باہر ہے۔
کل وہاں پر فون ہے کرنا
جسے ایک بھی کے اضافے سے درست کیا جا سکتا ہے۔
کل بھی وہاں پر فون ہے کرنا
سر، بہت نوازش۔ یہ میری خوش بختی ہے کہ آپ میری اصلاح کرتے رہتے ہیں۔
حسیب نذیر گِل — ستمبر 11، 2012 9:23 صبح
بہت خوب۔آپ بھی دال روٹی کرنے لگ گئے
عاطف بٹ — ستمبر 11، 2012 2:42 شام
بہت خوب۔آپ بھی دال روٹی کرنے لگ گئے
بہت شکریہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D8%B9%D9%85%D9%88%D9%84-%D9%86%D8%B8%D9%85-%D8%A7%D8%B2-%D8%B9%D8%A7%D8%B7%D9%81-%D8%A8%D9%B9.54092/page-2