نیلم — فروری 17، 2013 7:31 صبح
شمشاد — فروری 17، 2013 7:40 صبح
کبھی کوہ ہمالیہ کے پہاڑ پر جانے کا اتفاق ہوا؟
محمد اسامہ سَرسَری — فروری 17، 2013 7:43 صبح
نہیں تو۔
آپ کا ہوا ہے کیا قبل ایک سال پہلے یا کسی اور وقت؟
الف عین — فروری 17، 2013 9:42 صبح
دلچسپ مزے کی تحریر لکھی ہے، میں بھی خوب قہقہے مار کر ہنسا
محمد اسامہ سَرسَری — فروری 17، 2013 9:43 صبح
دلچسپ مزے کی تحریر لکھی ہے، میں بھی خوب قہقہے مار کر ہنسا
بہت شکریہ جزاکم اللہ خیرا۔
محمد علم اللہ — فروری 17، 2013 9:49 صبح
آپ نے اپنے دست مبارک ہاتھ سے کیا عمدہ تحریر لکھی ہے

۔
محمداحمد — فروری 17، 2013 9:56 صبح
اس طرزِ تحریر کا انداز کافی دشوار مشکل ہے، اس سے تو توبہ ہی بھلی اچھی ہے۔

مغزل — فروری 17، 2013 10:00 صبح
جزاک اللہ عمدہ طرزِ نشاندہی ہے ۔
محمد اسامہ سَرسَری — فروری 17، 2013 10:11 صبح
آپ نے اپنے دست مبارک ہاتھ سے کیا عمدہ تحریر لکھی ہے

۔
بہت شکریہ جزاکم اللہ خیرا۔
محمد اسامہ سَرسَری — فروری 17، 2013 10:11 صبح
اس طرزِ تحریر کا انداز کافی دشوار مشکل ہے، اس سے تو توبہ ہی بھلی اچھی ہے۔
بہت شکریہ جزاکم اللہ خیرا۔
محمد اسامہ سَرسَری — فروری 17، 2013 10:12 صبح
جزاک اللہ عمدہ طرزِ نشاندہی ہے ۔
تعریف کا شکریہ۔ جناب۔
عینی شاہ — فروری 17، 2013 11:29 صبح
عمومی اطلاعِ عام
اگر ذرا کچھ غور سے آپ میرے اس کلامِ ہذا میں غور کریں تو آپ کو لگ پتا چل جائے گا کہ اہلِ زبان والے اگر یہ کہنا چاہیں کہ بخدا کی قسم! شبِ جمعہ کی رات کو ساحلِ سمندر کے کنارے ایک صاحبِ حیثیت والا شخص آبِ زم زم کے پانی سے رو بقبلہ منہ کرکے استفادہ حاصل کررہا تھا تو اِن شاء اللہ اگر رب نے چاہا تو وہ تا قیامت تک یہ بات کہہ سکنے کی طاقت نہ پائیں گے، بلکہ اس طرح کی غلطیوں پر چوک کرنے سے آدمی از خود اپنی بے عزتی آپ خراب کرتا ہے، کیونکہ وجہ یہ ہے کہ اس جیسے جملوں کی طرح میں لغتِ اردو کی زبان کا بے فضول ستیاناس خراب ہوجاتا ہے۔
لہٰذا اس لیے آپ سے مؤدبانہ طور پر عرضِ گزارش ہے کہ ایسی تعجب خیز عجیب باتوں سے حسبِ طاقت کے موافق اپنی شیریں لسانی کی مٹھاس کو بحفاظت محفوظ رکھیں۔ اﷲ تعالیٰ آپ کو بہت بہت جزائے کثیر کا بدلہ عنایت دے۔

سمجھ ہی نہیں آیا انکل
محمد اسامہ سَرسَری — فروری 17، 2013 11:33 صبح

سمجھ ہی نہیں آیا انکل

عینی شاہ — فروری 17، 2013 11:36 صبح

آپکو بھی سمجھ نہیں آیا نا مجھے بھی

محمداحمد — فروری 17، 2013 11:38 صبح

سمجھ ہی نہیں آیا انکل
نیلم سے پوچھیے۔۔۔ اُنہیں سمجھ آ گیا ہے۔

عینی شاہ — فروری 17، 2013 11:39 صبح
نیلم سے پوچھیے۔۔۔ اُنہیں سمجھ آ گیا ہے۔
اس وقت تو وہ نہین ہیں نا آپ بتا دی احمد بھای

محمداحمد — فروری 17، 2013 11:41 صبح
اس وقت تو وہ نہین ہیں نا آپ بتا دی احمد بھای
یہ کوئی "سرسری" بات نہیں ہے جو ہم سمجھائیں اور آپ کی سمجھ آ جائے۔ نیلم سے کہیں گے اسے کسی حکایت کی مدد سے سمجھائیں۔

عینی شاہ — فروری 17، 2013 11:43 صبح
محمد اسامہ سَرسَری — فروری 17، 2013 11:43 صبح
یہ کوئی "سرسری" بات نہیں ہے جو ہم سمجھائیں اور آپ کی سمجھ آ جائے۔ نیلم سے کہیں گے اسے کسی حکایت کی مدد سے سمجھائیں۔
رہنے دیں، انھیں سمجھانا بہت مشکل بلکہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمداحمد — فروری 17، 2013 11:44 صبح
رہنے دیں، انھیں سمجھانا بہت مشکل بلکہ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔
ایسے نہ کہیے بھائی۔۔۔!
پچھلی بار بھی کافی مشکل ہو گئی تھی۔۔۔!
