ویسے مجھے اردو ادب کے بارے میں بنیادی معلومات حاصل کرنی ہے۔ جیسا کہ
ظہیراحمدظہیر صاحب نے توجہ دلائی کہ مجھے محاورے نہیں بلکہ 'کہاوت یا ضرب المثل ' کی تلاش ہے۔ اور وہ سمجھے کے مجھے ان کا فر ق معلوم ہے اور غلطی سے میں نے محاورہ دے لکھ دیا۔ مگر مجھے حقیقت میں محاورہ اور کہاوت کا فرق معلوم نہیں ہے۔
برائے مہربانی اگر آپ میں سے کسی کو انٹر نیٹ پر موجود ایسے وسائل (مواد) کا علم ہو جہاں پر آسان الفاظ میں اردو نثر کی بنیادی باتیں سکھائی گئی ہو تو مجھے ضرور بتائیں۔ میں اُن کے لیے پیشگی شکریہ ادا کرتا ہوں۔
ضرب المثل یا کہاوت ایک سبق آموز فقرہ ہوتا ہے جو واقعات یا روایات یا تجربات سے اخذ کیا جاتا ہے اور کسی بھی زبان میں تمثیلی بیانیے کی شکل میں رائج ہوتا ہے ۔ جیسے ۔
اب پچھتاوے کیا ہووت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ دودھ کا جلا چھاچھ پھونک پھونک کر پیتا ہے ۔ وغیرہ ۔
جب کہ محاورے ایسے الفاظ کی تراکیب ہوتے ہیں جو اپنے اصلی معنی سے ہٹ کر بات چیت کے خاص پہلو کے لیے استعمال ہو تے ہیں ، مثلاً ۔ غصہ پینا ۔ ہوا کھانا ۔ سر پر چڑھنا وغیرہ ۔
اس کے علاوہ ایک روز مرہ بھی ہوتا ہے جو ان دونوں سے لفظی و معنوی تحویل میں اخف ہوتا ہے ۔ یہ عام الفاظ کے خاص رواج کا استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے
میں روزانہ ہونے والے جھگڑے سے تنگ آگیا ہوں ۔
میں روز روز کے جھگڑے سے تنگ آگیا ہوں ۔ یا آئے دن کے جھگڑے سے تنگ آگیا ہوں ۔
یہاں "روز روز" یا آئے دن روز مرہ ہیں ۔ جو روزانہ کے استمرار کو ایک خاص انداز کا اسلوب عطا کرتے ہیں ۔
دو چار دن کی بات ہے ۔یعنی تھوڑے دن کی بار ہے ۔