ایک زمانے میں ہمارے کاتب دل چسپ غلطیاں کرتے تھے، مشتاق یوسفی نے ایسی کئی دلچسپ باتیں لکھی ہیں۔ آج جمپیوریت کے ’فروخت‘ کی بات پر یاد آیا کہ یہ سلسلہ شروع کیا جائے جس میں کچھ دلچسپ غلطیاں جمع کی جائیں۔
ابھی دو تین دن پہلے ہی کہیں کسی کہانی میں دیکھا تھا۔۔۔ ’وہ دروازہ میں مبتلا تھی‘۔
ذرا Guess کریں کہ درست کیا ہوگا۔
الف عین — مارچ 13، 2008 5:43 شام
اس سے پہلے کہ گیس کریں آپ لوگ،۔ ایک بات اور یاد آ گئی۔
یادش بخیر 1966أ67 میں جب میں مرحوم روزنامہ سفیرِ مالوہ کے بچوں کے صفحے کا مدیر تھا، ایک کہانی میں لفظ مجسٹریٹ‘ تھا۔ ہمارے کاتب محترم نے اس کو ’جھرمٹ‘ میں تدیل کر دیا۔ ماسٹر اسحٰق قریشی، کاتب سے میں نے اگلے دن بتایا، تو خود بھی خو ہنسے۔ ’ہاں اعجاز میاں، گڑبڑان ہو گئی‘۔ یہ گڑڑان ان کا مخصوص لفظ تھا۔ دل چسپ آ دمی تھے، اچھے خطاط بھی تھے۔
یہ تو میں نے اکثر دیکھا ہے کہ ہاتھ سے لکھی تحریر کو جب تائپ کرتے ہیں کمپوزرسم تو اگر فارسی کا کعوئی لفظ جس میں ’و‘ یا ’د‘ ہو، تو وہ لوگ کنفیوز ہو جاتے ہیں۔ ’در ماندی‘ کو ’ور ماندی‘، وامانہ کو داماندہ لکھنا عام غلطی ہے ۔ لیجیے، میں اوپر کے سوال کا ہنٹ بھی دے گیا۔ جی ہاں،۔ یہ لفظ در اصل دردِ زہ
تھا۔ کمپوزر صاحب نے اسے دروزہ پڑھا، اور اپنے حسا سے ’املا کی غلطی سدھار‘ کر اسے ’دروازہ‘ بنا دیا!!
شمشاد — مارچ 13، 2008 6:03 شام
پاکستان کے مشہور اخبار " جنگ " میں ایک خبر شائع ہوئی تھی۔ خاصی پرانی بات ہے۔ طلباء طلبات منانے کے لیے سخت اقدامات کریں گے۔ جبکہ اصل خبر ایسے تھی " طلبا مطالبات منانے کے لیے سخت اقدامات کریں گے۔"
ابن سعید — مارچ 13، 2008 6:12 شام
علامہ اقبال کے بارے میں آتا ہے کہ زمانہ طالب علمی میں ایک بار املا جاںچتے ہوئے ان کے استاد نے کہا کیوں میاں اقبال یہ آپ نے غلط کو غلت کیوں لکھا ہے؟
علامہ کا برجستہ جواب تھا کہ محترم غلط کو تو غلت ہی لکھنا چاہیئے۔
فرخ منظور — مارچ 14، 2008 5:11 صبح
واہ اچھا سلسلہ ہے - میرے ایک دوست پروف ریڈر تھے تو ایک لفظ غلط لکھا ہوا آگیا - "بزرگانِ سیلف" کاتب نے سلف کی جگہ سیلف لکھ دیا تھا تو ان صاحب نے اس لفظ کے ساتھ سٹارٹ کا اضافہ کر دیا یوں یہ لفظ بن گیا "بزرگانِ سیلف سٹارٹ"
محسن حجازی — مارچ 14، 2008 5:11 صبح
پھر طالبات مانیں کہ نہیں؟
شمشاد — مارچ 14، 2008 7:06 صبح
اس سے پہلے ہی میم کا اضافہ ہو گیا تھا۔
خرم شہزاد خرم — مارچ 14، 2008 7:20 صبح
ہم دعا لکھتے رہے وہ دغا پڑھتے رہے
ایک نقطے نے مخرم سے مجرم بنا دیا شعر اگر اگے پیچھے ہو گیا ہو تو اس کے لیے معافی چاہتا ہوں شکریہ
شمشاد — مارچ 14، 2008 9:06 صبح
ہم دعا لکھتے رہے وہ دغا پڑھتے رہے
اک نقطے نے ہم کو محرم سے مجرم کر دیا
فرخ منظور — مارچ 14، 2008 9:16 صبح
ایک نقطے نے ہمیں محرم سے مجرم کردیا
ہم دعا لکھتے رہے وہ دغا پڑھتے رہے
چاند بابو — مارچ 14، 2008 9:26 صبح
بہت خوب اچھا سلسلہ ہے۔
الف عین — مارچ 14، 2008 2:42 شام
ایک مصرع ا بھی غلط ہے
ہم دعا لکھتے رہے
اور
وہ دغا پڑھتے رہے پچھلے ہفتے کا ایک مضمون آج پڑھ رہا تھا منصف میں ہی، اس میں درج تھا کہ انسان اپنے گناہوں کا بہ وجہ اٹھاتا ہے۔
درست لفظ بوجھ تھا۔ مصنف نے ممکن ہے کہ دو چشمی کی جگہ چھوٹی ہ لک دی ہو۔ کمپوزر ’بوجہ’ کو بَ وجہ‘ سمجھے، اور اس کی مزید اصلاح‘ کر کے اسے ’بہ وجہ‘ کر دیا۔
ابن حسن — مارچ 14، 2008 11:26 شام
بہت خوب سلسلہ ہے کاتب حضرات کے لطائف کچھ اور "حضرات" کی طرح شہرہ آفاق ہیں۔ یادش بخیر جناب ابن صفی مرحوم نے بھی اس سلسلے میں کچھ شکوہ اپنے ایک دیباچہ میں کیا تھا بلکہ انہوں نے ایک لطیفہ بھی لکھا تھا جو کچھ یوں تھا کہ ایک مرتبہ ایک کاتب کے پاس کتابت کے لیے مسودہ آیا جس میں جگہ جگہ مشہور اسپینی آرٹسٹ پکاسو کا نام تھا کاتب نے غور سے پکاسو کے نام کو دیکھا ، زیر لب مسکرائے اور کہنے لگے "شاید بھول گئے" اور پکاسو کے ساتھ" ر" کا اضافہ کرتے چلے گئے اور یوں پکاسو "پکا سور" بن گیا۔ ویسے کمپیوٹر کی ایجاد کے بعد ایسی غلطیاں ہونے اور کرنے کا دائرہ بڑا وسیع ہو گیا ہے۔
شمشاد — مارچ 15، 2008 2:39 صبح
اب دیکھیں ناں، اوپر اعجاز بھائی نے بھی تو مصنف کو منصف بنا دیا ہے۔
شمشاد — مارچ 16، 2008 8:29 شام
United opposition nominates Farooq Sattar as candidate for PM slot
ISLAMABAD: The united opposition on Sunday nominated Farooq Sattar of MQM as joint candidate for the slot of Prime Minister. This was announced in a joint press conference of the United Opposition at the residence of PML president Chaudhry Shujaat Hussain, who had hosted a reception in honour of the opposition leaders. Chaudhry Pervez Ellahi was nominated as the joint parliamentary leader of the united opposition in the National Ass ... Full Story
یہ میں نے جیو کی سائیٹ سے نقل کر کے چسپاں کیا ہے۔ آخری لائین مکمل نہیں کی اور دیکھ لیں کیا بن گیا ۔۔۔۔
راہب — مارچ 16، 2008 10:53 شام
او ہو زبردست یہ تو" پکا سور " سے بھی زیادہ بڑی" اصلاح" ہے۔
شمشاد۔ ویسے میں ٹائپو تو بہت کرتا ہوں۔ لیکن یہاں ٹائپو بھی نہیں۔ منصف حیدر آباد کا مشہور روز نامہ ہے جس کا اکثر ذکر کیا ہے میں نے۔ یہاں اسی اخبار کا حوالہ تھا۔ ربط بھی تو اسی کا دیا تھا۔۔۔
2 دن پہلے ہی اس کا ابن صفی موحرم کی کتاب زہریلی تصویر کے پیشرس میں پڑھا
یونس رضا — مارچ 24، 2008 9:09 صبح
"وہ بہیت جلدی میں تھے خوشقسمتی سے انہیں سیٹ مل گئی تو وہ رنڈوے سے ہوکر گئے " اصل جملہ یہ " وہ بہت جلدی میں تھے خوشقسمتی سے انہیں سیٹ مل گئی تو روانڈہ سے ہوکر گئے"۔۔۔۔۔۔ جناب حنیف محمد "کرکٹر" نے اپنی ایک تحریر کا کا قصہ سنایا تھا جس میں کتابت کی غلطی تھی