یاد کی خشک جھیل میں اکثر
بیٹھے رہتے ہیں پاؤں ڈال کے لوگ
احمد امیر پاشا
شمشاد — دسمبر 4، 2020 1:36 شام
پھر گیا جب سے کوئی آ کے ہمارے در تک
گھر کے باہر ہی پڑے رہتے ہیں گھر چھوڑ دیا
داغؔ دہلوی
سیما علی — دسمبر 4، 2020 4:22 شام
گل زار میں وہ رت بھی کبھی آ کے رہے گی
جب کوئی کلی جور خزاں کے نہ سہے گی شریف کنجاہی
شمشاد — دسمبر 4، 2020 5:01 شام
تمہاری مسکراہٹ کہہ رہی ہے
تمہیں بھی غم چھپانا آ گیا ہے اٹھانی آ گئی دیوار تم کو
ہمیں بھی در بنانا آ گیا ہے
(علی رضا رضی)
لاريب اخلاص — دسمبر 5، 2020 4:51 شام
اس کی آنکھوں کو غور سے دیکھو
مندروں میں چراغ جلتے ہیں
بشیر بدر
شمشاد — دسمبر 5، 2020 6:59 شام
ایک مدت سے تری یاد بھی آئی نہ ہمیں
اور ہم بھول گئے ہوں تجھے ایسا بھی نہیں
فراق گورکھپوری
سیما علی — دسمبر 7، 2020 3:40 شام
ذرہ ام مہرِ منیر آنِ من است
صد سحر اندر گریبانِ من است علامہ اقبال ترجمہ:
اگرچہ میں ایک ذرہ ہوں لیکن اس زمانے کو روشن کرنے والا سورج میرا ہی ہے اور میرے گریبان میں سینکڑوں صبحیں سمائی ہوئی ہیں۔۔۔۔ اس پانچویں شعر سے مثنوی ’’اسرارِ خودی‘‘ کا آغاز ہوتا ہے۔ اقبال فرماتے ہیں کہ میں اگرچہ ایک ذرہ ہوں لیکن سارے زمانے کو روشن کرنے والا سورج بھی ہوں۔ اس سورج سے سینکڑوں ہزاروں صبحیں پیدا ہوتی ہیں۔ جس طرح سورج طلوع ہوتا ہے تو وہ صبح کا خالق کہلاتا ہے اسی طرح اقبال اپنے آپ کو اگرچہ ایک ذرے سے تشبیہ دیتے ہیں لیکن دعویٰ کرتے ہیں کہ میں ایسا ذرہ ہوں جو ’’مہرِمنیر‘‘ یعنی ’’چمکتا ہوا سورج‘‘ ہے جس سے ہزاروں صبحیں تخلیق ہوتی ہیں۔
شمشاد — دسمبر 7، 2020 4:32 شام
یخ بستہ شب گزار کبھی تو بھی ہجر میں
میری طرح کسی سے مروت تجھے بھی ہو
محمد مستحسن جامی
لاريب اخلاص — دسمبر 8، 2020 5:32 شام
ہم نے آباد کیا ملک سخن
کیسا سنسان سماں تھا پہلے
ناصر کاظمی
شمشاد — دسمبر 8، 2020 5:34 شام
آپ کی یاد آتی رہی رات بھر
چشم نم مسکراتی رہی رات بھر رات بھر درد کی شمع جلتی رہی
غم کی لو تھرتھراتی رہی رات بھر
(مخدوم محی الدین)
لاريب اخلاص — دسمبر 8، 2020 5:43 شام
تیری صورت سے کسی کی نہیں ملتی صورت
ہم جہاں میں تری تصویر لیے پھرتے ہیں
امام بخش ناسخ
شمشاد — دسمبر 8، 2020 5:46 شام
پھر چھڑی رات بات پھولوں کی
رات ہے یا برات پھولوں کی پھول کے ہار پھول کے گجرے
شام پھولوں کی رات پھولوں کی
(مخدوم محی الدین)
لاريب اخلاص — دسمبر 8، 2020 5:54 شام
وہ افسانہ جسے انجام تک لانا نہ ہو ممکن
اسے اک خوبصورت موڑ دے کر چھوڑنا اچھا
ساحر لدھیانوی
شمشاد — دسمبر 8، 2020 6:00 شام
ہاں ہاں تری صورت حسیں لیکن تو ایسا بھی نہیں
اک شخص کے اشعار سے شہرہ ہوا کیا کیا ترا بے درد سننی ہو تو چل کہتا ہے کیا اچھی غزل
عاشق ترا رسوا ترا شاعر ترا انشاؔ ترا
(ابن انشاء)
لاريب اخلاص — دسمبر 8، 2020 6:04 شام
ہم ان کو سوچ میں گم دیکھ کر واپس چلے آئے
وہ اپنے دھیان میں بیٹھے ہوئے اچھے لگے ہم کو
احمد مشتاق
شمشاد — دسمبر 8، 2020 8:42 شام
ہم پر یہ سختی کی نظر ہم ہیں فقیر رہ گزر
رستہ کبھی روکا ترا دامن کبھی تھاما ترا
(ابن انشاء)
سیما علی — دسمبر 15، 2020 2:54 شام
مصیبت کا پہاڑ آخر کسی دن کٹ ہی جائے گا
مجھے سر مار کر تیشے سے مر جانا نہیں آتا یگانہ چنگیزی
شمشاد — دسمبر 15، 2020 3:15 شام
دل آباد کہاں رہ پائے اس کی یاد بھلا دینے سے
کمرہ ویراں ہو جاتا ہے اک تصویر ہٹا دینے سے
جلیل عالیؔ
سیما علی — دسمبر 16، 2020 10:58 صبح
سیر کر دنیا کی غافل زندگانی پھر کہاں
زندگی گر کچھ رہی تو یہ جوانی پھر کہاں میر درد
شمشاد — دسمبر 16، 2020 11:06 صبح
دل پر دستک دینے کون آ نکلا ہے
کس کی آہٹ سنتا ہوں ویرانے میں
گلزار