اپنے شانوں پہ جدائی کے عذابوں کو لیے
شہرِ فرقت میں ہر اک گام ٹھٹکتی ہے غزل
نہ صرف سپاٹ پن ختم ہوا بلکہ ایسا لگا کہ تانبے کے پرانے برتن پر قلعی کر دی گئی ہو۔ زبردست بنا دیا ہے اس شعر کو آپ نے !! کیا اس کو مزید سوچنے کی ضرورت ہے؟
مرزا کا سوال سن کر استاد ذوق تو چپ ہیں لیکن مصحفی کہتے ہیں کہ جی ہاں اس پر ابھی مزید سوچنے کی ضرورت ہے۔
نوک پلک سنوارنا:اس محاورے کا پس منظر کیا ہوسکتا ہے وہ صاف ظاہر ہے۔ اچھی طرح تیار ہونے کے بعد (بلکہ تیار شیار ہونے کے بعد

) خواتین جو سلوک ڈریسر کے سامنے کھڑے ہوکر اپنے رخِ روشن کے ساتھ کرتی ہیں ویسا ہی سلوک شعر گوئی کے آخری مرحلے میں شاعر اپنے شعر کے ساتھ کرتا ہے۔ یعنی شعر کی نوک پلک درست کرتا ہے۔ جب شاعر اپنے شعر کے "ڈھانچے" سے مطمئن ہوجاتا ہے کہ اب وزن بھی برابر ہوگیا، مضمون کی ادائیگی کے لیے ضروری کلیدی الفاظ بھی میسر آگئے ، پیرایہ بھی مناسب اختیار کرلیا تو پھر وہ اپنی توجہ زبان و بیان کی باریکیوں اور شعر کے عیوب و محاسن پر مرکوز کرتا ہے۔ الفاظ پر گہری نظر ڈالتا ہے ، ان کے متبادلات پر غور کرتا ہے۔ الفاظ کی نشست و برخواست کو ادھر ادھر بدل کر مصرع کو رواں تر اور چست بنانے کی کوشش کرتا ہے ۔ عیب تنافر کو دیکھتا ہے ۔ حشو و زوائد کو نکالنے کی کوشش کرتا ہے ۔ غرض یہ کہ ہر ممکن طریقے سے مصرع کو بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے ۔
جس طرح نوک پلک درست کرنے کے چکر میں دعوت میں دو گھنٹے تاخیر سے پہنچنا نارمل بات ہے اسی طرح غزل کا سامعین کے سامنے تاخیر سے جلوہ افروز ہونا بھی متوقع سمجھا چاہیئے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ نوک پلک سنوارنے میں ذرا تاخیر تو ہوجاتی ہے لیکن وڈیو اچھی بنتی ہے ۔

اب مذکورہ بالا شعر کو نوک پلک سنوارنے کی غرض سے دیکھا جائے تو ایک بات تو یہ نظر آتی ہے کہ ٹھٹکتی کا قافیہ صوتی طور پر کچھ گراں ہے ۔ اس کے ممکنہ متبادلات کو دیکھا جائے تو جھجکتی اور بھٹکتی سامنے آتے ہیں ۔ جھجکتی کے استعمال سے شعر کے مفہوم میں کچھ زیادہ تبدیلی نہیں آتی لیکن اس کی صوتی ثقالت ٹھٹکتی سے ذرا بھی کم نہیں ۔ سو اسے رد کردیا جائے تو بہتر ہے۔ بھٹکتی کم ثقیل ہے سو اس پر غور کیا جاسکتا ہے ۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جھجکتی اور بھٹکتی دونوں میں سے کون سا لفظ شاعر کے مافی الضمیر کو بہتر طور پر ادا کرتا ہے اور کون سا لفظ شعر ی منظرنامے پر زیادہ فٹ بیٹھ رہا ہے ۔ ان سوالات کو حل کرنے کے بعد لفظ کا انتخاب آسان ہوجاتا ہے ۔ ہر گام بھٹکتی ہے غزل کہنا چونکہ درست نہیں ہے اس لیے اس متبادل کو بھی رد کردیا جائے ۔
دوسری بات یہ کہ "اپنے شانوں پہ" کہا جائے یا "اپنے کاندھوں پہ" کہنا بہتر ہوگا ۔ اپنے شانوں پہ صوتی اعتبار سے بہتر ہے ۔ اس کی قرات نسبتاً زیادہ رواں ہے ۔ ایک باریک سا نکتہ یہ بھی ہے کہ محبت اور عذابوں کی نسبت سے ہندی کے بجائے فارسی لفظ کا انتخاب اچھا رہے گا۔ سو اپنے شانوں پہ بہتر رہے گا ۔
ایک اور بات جو اس شعر میں سامنے آتی ہے وہ ہے لفظ "عذابوں" کا استعمال۔ کیا یہی لفظ مناسب ترین ہے یا اس سے بہتر کوئی متبادل لایا جاسکتا ہے ؟!
اس سوال کے جواب کو پانے کے لیے شعری خیال کو کچھ گہرائی میں جا کر دیکھنا پڑے گا ۔ شاعر یہ کہنا چاہتا ہے کہ وہ ہجراں نصیب ہے ، فرقت کے راستوں پر محبت کے بوجھ اور عذاب اٹھائے پھررہا ہے ، کارِ ضرورت میں بھی مصروف ہے لیکن یادِ یار میں اس طرح سخن سرا ہے کہ غزل ہر گام سہم سہم جاتی ہے ، ٹھٹک جاتی ہے ۔ شعری تخیل کی اس لفظی تصویر پر غور و فکر کیا جائے ، ہر ہر پہلو سے سوچا جائے تو یہ بات کھلتی ہے کہ ہجر میں وفا کے تقاضوں کو ساتھ لے کر چلنا اور نبھانا دراصل ایک امانت کو سنبھالنے کے برابر ہوتا ہے۔ اور ہجر کے مصائب و امتحان دراصل اسی امانت کو نبھانے کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں ۔ سو اس شعر کو اب یوں کرکے دیکھا جائے:
اپنے شانوں پہ محبت کی امانت کو لیے
شہرِ فرقت میں ہر اک گام ٹھٹکتی ہے غزل
اب شعر کی اس نئی صورت کا پہلی شکل سے تقابل کیا جائے گا ۔ کون سی شکل شاعر کا مافی الضمیر بہتر طور پر ادا کر تی ہے ؟ کس میں معائب کم اور محاسن زیادہ ہیں ؟ کون سا شعر مجموعی طور پر زیادہ مؤثر اور برجستہ سنائی دیتا ہے ؟! وغیرہ وغیرہ ۔ اب اس موقع پر یہ بھی کیا جاسکتا ہے کہ شعر کی دونوں صورتیں لکھنےکے بعد کچھ دنوں کے لیے اسے پال میں لگادیا جائے ۔ دو چار ہفتے میں جب شعر ذہن سے محو ہوجائے تو پھر اسے فرصت میں نکال کر دیکھئے ۔ دونوں صورتوں میں فیصلہ کرنے میں بہت آسانی ہوجاتی ہے ۔ کم ازکم اس معاملے میں میرا طریقۂ کار عموماً یہی ہوتا ہے۔
مندرجہ بالا تمام باتیں تخلیقی عمل کا حصہ ہیں اور شاعر کے ذہن میں غیر شعوری یا لاشعوری طور پر خود بخود طے ہوتی رہتی ہیں ۔ لیکن ان تجریدی باتوں کااس طرح غیر تجریدی انداز اور امثال کی مدد سے بیان کرنا تعلیم و تعلم کے اس سلسلے کا تقاضا ہے کہ جو اس دھاگے کا بنیادی مقصد ہے ۔ غیر ضروری طوالت کے لیے آپ سےمعذرت کا پیشگی طلبگار ہوں ۔