خواتین ڈائجسٹ ختم کر کے بات کرتی ہوں۔ 


پہلے پہل جب شاعری سے واسطہ صرف پڑھنے اور امتحان پاس کرنے تک تھا تو مجھے مرزا غالب پر شدید حیرت اور کبھی کبھی غصہ بھی آتا تھا کہ یہ کیا وظیفہ خوار ہیں۔ برے حال ہیں مگر کام وام نہیں کرتے وغیرہ وغیرہ ۔ میری ان سے توقعات بہت زیادہ تھیں کہ اتنا عقلمند شخص کیسے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلا سکتا ہے! جب ہماری استاد (جو کہ خود بھی صاحب کتاب شاعرہ تھیں اور جن سے متاثر ہو کر ہم نے بھی اپنی پہلی دو غزلیں فٹافٹ لکھ ڈالیں!
لکھتے وقت چھٹی حس کی نہ سنی جو بار بار کہہ رہی تھی مہدی حسن نہیں ہیں ۔ اللہ نے اس غزل کو صحیح سے سننے کی توفیق اور موقع دیا ہی نہیں!
بھئی کسی دن بات کرنے کا دل چاہنے لگا ہے اب!

اخاہ ! نور وجدان ۔۔ کیسی ہیں آپ ۔ آپ کو دیکھ کر بہت اچھا لگا!

تذکرہ آب حیات میں لکھا ہے کہ 1842 میں جب کہ دہلی کالج نئے اصولوں پر قائم کیا گیا، مسٹر ٹامس سیکرٹری گورنمنٹ ہند، جو آخر میں اضلاعِ شمال و مغرب میں لیفٹیننٹ گورنر بن گئے تھے، مدرسین کے امتحان کے لیے دلی میں آئے اور چاہا کہ جس طرح سو روپے ماہوار کا ایک عربی مدرس کالج میں مقرر ہے، اسی طرح ایک فارسی کا مدرس مقرر کیا جائے۔ لوگوں نے مرزا، مومن خان اور مولوی امام بخش کا ذکر کیا۔ سب سے پہلے مرزا صاحب کو بلایا گیا۔ مرزا پالکی میں سوار ہو کر سیکرٹری صاحب کے ڈیرے پر پہنچے، صاحب کو اطلاع ہوئی، انہوں نے فوراً بلایا۔ مگر یہ پالکی سے اتر کو اس انتظار میں کھڑے رہے کہ دستور کے موافق سیکرٹری صاحب انہیں لینے کے لیے آئیں گے۔ جب بہت دیر ہو گئی اور صاحب کو معلوم ہوا کہ اس وجہ سے نہیں آئے تو وہ خود باہر چلے آئے اور مرزا سے کہا کہ جب آپ دربار گورنری میں تشریف لائیں گے تو آپ کا اسی طرح استقبال کیا جائے گا، لیکن اس وقت آپ نوکری کے لیے آئے ہیں، اس موقع پر وہ برتاؤ نہیں ہو سکتا۔ مرزا صاحب نے کہا کہ گورنمنٹ کی ملازمت کا ارادہ اس لیے کیا ہے کہ اعزاز کچھ زیادہ ہو، اس لیے نہیں کہ موجودہ اعزاز میں بھی فرق آئے۔ صاحب نے کہا: ہم قاعدے سے مجبور ہیں۔ مرزا صاحب نے کہا کہ مجھ کو اس خدمت سے معاف رکھا جائے، اور یہ کہہ کر چلے آئے۔
یہی بات میں نے بھی پچھلی سالگرہ پہ "اردو محفل میں خواتین سے امتیازی برتاؤ " میں کہی تھی۔
کیا یہاں ہم طرح مصرع کی مثال دے سکتے ہیں؟ ایک ہی طرح مصرع کئی شعراء کے اشعار میں استعمال ہوتا ہے تو ہر شعر مکمل یا جزوی طور پہ علیحدہ مضمون بیان کر رہا ہوتا ہے۔
تو کیا شاعر اپنی شاعری میں بس بہادری دکھائے؟ کیا وہ ملمع کاری کرے اگر وہ خود کو بزدل، کمزور، کم ہمت سمجھ رہا ہے۔ اگر وہ صبر نہیں کر سکتا، بعض اوقات دکھ برداشت کرنے کی سکت نہیں پاتا تو چیخنے کی بجائے ضبط کرے؟
یہ بہت مزے کی بات ہے۔ کیا اس کی اور مثالیں مل سکتی ہیں؟
آپ نے مثال بہت اچھی دی ہے۔
ہاہاہا! یہی بات شاید عرفان علوی نے بھی کی ہے کہ کچھ دنوں کے لیے بھول جائیں اس شعر/غزل کو۔
سو فیصد متفق۔ اس لیے محمد احسن سمیع راحلؔ ! لالٹین لائیں اور روشنی فراہم کریں۔
خواہرم ، بات اس لیے سمجھ میں نہیں آئی کہ آپ میرے جملے کے سیاق و سباق کو نہیں دیکھ رہیں ۔
مجھے ان کی توجیہہ پسند آئی اور اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے میں نے جواباً کہا:
لالٹین تو ہے ۔ ان سے کہیں کہ تیل لے آئیں ۔لالٹین میں تیل ختم ہورہا ہے ۔
تجسیم اور تمثیل کی مثالیں تو اردو شعر و نثر میں جابجا بکھری ہوئی ہیں ۔ جیسے ہی وقت ملا تو میں آپ کے اور دیگر قارئین کے استفادے کے لیے کچھ اچھی مثالیں کاپی پیسٹ کردوں گا ۔ ان شاء اللّٰہ۔
جی ہاں ۔ یہ بھی نکتۂ زیرِ بحث کی ایک مثال ہے کہ کس طرح ایک ہی مصرع طرح سے مختلف شعرا اپنی فکر اور زاویہٌ نظر کے مطابق مختلف النوع مضامین پیدا کرتے ہیں ۔
وفا شعار بیوی نے یقیناً شوہرِ نامدار کی یہ خواہش پوری کردی ہوگی اور بہت جلد ایمبولینس والے گھر پر آگئے ہوں گے ۔
ہاہاہا ۔ ۔ اس پر سنجیدہ بحث بعد میں ہو گی، ان شا اللہ ۔ ۔ مگر پراٹھے چھ ہرگز نہیں تھے!
یعنی سات تھے۔۔۔
ہاہاہاہا ۔ یہ ہوا نہلے پہ دہلا ۔۔۔ ۔ بلکہ چھکیّ پہ ستّہ !
آپ کے منہ میں حلوہ پوری! کیسا اچھا طریقہ بتایا ہے آپ نے ۔ آئندہ ویک اینڈ پر گنتی اسی طرح ہوگی۔
اس سے بہتر طریقہ میرے پاس ہے جو حال ہی میں دیافت ہوا ہے، اور وہ یہ کہ پراٹھے دو ایک دفعہ خود پکا کر کھائیں ۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جو خود پکائیں وہ پراٹھا نہیں ہوتا۔ 😐
Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D9%84%D9%81-%D8%B9%DB%8C%D9%86-%D8%A7%D8%B3%D9%B9%D9%88%DA%88%DB%8C%D9%88-1.119258/page-4