بس پھر تو آپ گنتی کو ہی طاق نسیان پر رہنے دیں اور اسی میں جس قدر عافیت میسر ہے، غنیمت جانیں
چٹ بھی میری اور پٹ بھی میری ۔واہ ۔
بس پھر تو آپ گنتی کو ہی طاق نسیان پر رہنے دیں اور اسی میں جس قدر عافیت میسر ہے، غنیمت جانیں
یعنی یک نہ شد دو شد!!!
تیار ہوتے وقت اتنا تو خواتین بھی نہیں سوچتیں جتنا آپ نے سوچ لیا۔ کمال ہے!!

بالکل صحیح۔ اپنے ہاتھ کے پراٹھے میں مجھے وہ مزا کبھی آیا ہی نہیں جو باجی یا امی کے پراٹھوں میں آتا تھا۔ خاص کر امی کے پراٹھے ۔ ۔ اف!!!
اچانک سے یہ اشعار ذہن میں آگئے!
بلکہ ان کی کہانیاں سچے واقعات کی نسبت زیادہ دلچسپ اور کامیاب ہوتی ہیں۔ اپنے خدا اپنے ہاتھوں بنانے والوں نے ان دیومالائی خداؤں کے بارے میں ایسی ایسی دلچسپ کہانیاں بیان کی ہیں کہ الامان الحفیظ! تو عشق کا مزہ چھکے بغیر بھی قوت تخیل کے زور پر شاندار غزل لکھی جا سکتی ہے۔ اتنی شاندار کہ شاید اصل عشق کہیں پیچھے ہی رہ جائے ۔ ۔ظہیر بھائی ، آپ کا اِخْتِلاف رائے سَر آنكھوں پر .
عرفان بھائی ، اس تنقیدی نشست کا مقصد ہی یہ ہے کہ کسی بھی زیرِ بحث نکتے پر شرکا اپنے اپنے نقطۂ نظر کے مطابق اظہارِ خیال کریں ۔ اختلافِ رائے ہر شخص کا حق ہے اور اس کا خیر مقدم کیا جانا چاہیے ۔ کسی نکتے پر مختلف آرا سامنے آنے سے نہ صرف شاعر بلکہ دیگر قارئین کی سوچ اور فکر کو بھی وسعت ملتی ہے۔ خاکسار کا ایک شعر ہے:
میرا بھی یہی خیال ہے ۔ اور اسی لیے میں نے لفظوں کے تجریدی استعمال پر معقولیت اور روایت کی قید لگائی تھی ۔ یہ دیکھیے گا۔
جی ظہیر بھائی ، شاعر کی آزادی پر آپ نے جو قید لگائی ہے ، وہ میں نے دیکھی تھی ، لیکن بات بنی نہیں . مجھے لگتا ہے کہ یہاں نظریے کا فرق کارفرما ہے . آپ نے جو حد مقرر کی ہے وہ میری حد سے وسیع تر ہے . میرے ذہن کو تَجْرِید كے نام پر ’دِل کی طرح‘ یا ’دِل کی جگہ‘ دیگر چیزوں کا دھڑکنا قبول ہے . لیکن ’دِل كے اندر‘ کسی شئے کا دھڑکنا میرے ذہن كے لیے ایک بالاتر درجے کی تَجْرِید ہے جس كے لیے وہ ابھی تیار نہیں . اور یہ معاملہ صرف میرے ساتھ ہی نہیں ، اوروں كے ساتھ بھی ہے . شاید اسی لیے اَحْمَد مشتاق صاحب كے علاوہ کسی نے اِس قسم کا خیال نہیں باندھا . مثالوں كے تجزیے سے میں یہی ثابت کرنا چاہ رہا تھا .
محمد عبدالرؤوف صاحب کھلی اپورچونیٹی ہے پیش کر دیں اپنا کوئی شاہکار ۔۔ آپریشن کے لیے ۔۔۔سرجن ظہیر صاحب کی معاونت کے لیے عرفان علوی اور وقار صاحب موجود ہیں بقیہ نشتر زنی کے فرائض محترمہ صابرہ صاحبہ انجام دینگی اضافی اسٹاف کے لیے ایک ایکسپرٹ کو بھی طلب کیا جاسکتا ہے ۔۔۔
ان شاءاللہ کوشش کرتے ہیں 🙂
اللہ اللہ ، یہاں صرف چھری یا نشتر کا استعمال کھانا بنانے کے لیے ہی ہوتا ہے۔ آپ سے ایسی امید نہ تھی۔۔


جی ہا ں ، بالکل ٹھیک فرمایا آپ نے ۔ اُن کی تیاری کے دوران دو گھنٹے ٹہل ٹہل کر سوچنے کے علاوہ کیا بھی کیا جاسکتا ہے ۔ 😐
بہت اچھا سوال ہے۔ اگلے مراسلے میں تفصیلی جواب ملاحظہ فرمائیے ۔
آپ نے بلا قصد و ارادہ نہ صرف محاکات کی تعریف بیان کردی بلکہ تخیل پر بھی ننھی سی لیزر بیم ڈال دی ۔
Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D9%84%D9%81-%D8%B9%DB%8C%D9%86-%D8%A7%D8%B3%D9%B9%D9%88%DA%88%DB%8C%D9%88-1.119258/page-5