ایک طرح میں طبع آزمائی

محمد ریحان قریشی — مئی 13، 2016 4:03 شام
یہ لڑی میرے جیسے نو آموز شعرا کے لیے ہے. یہاں ہم طرح تجویز کریں گے اور اس پر طبع آزمائی کریں گے. میں نے ایک شعر آج کہا ہے وہ ہی پہلی تجویز کردہ طرح ہوگی.
ہے شعلہ از نفس افشاں جو آتش دانِ جوہر کا
بدل ڈالا ہے رنگ اس نے رخِ بالِ سمندر کا
عباد اللہ
مزمل حسین
Mdfaiqusayyed
La Alma
مزمل حسین — مئی 13، 2016 4:42 شام
ہے شعلہ از نفس افشاں جو آتش دانِ جوہر کا
بدل ڈالا ہے رنگ اس نے رخِ بالِ سمندر کا

واااہ واااہ
کیا کہنے جناب، غالب بھی جھوم اٹھیں گے۔
محمد ریحان قریشی — مئی 13، 2016 4:53 شام
واااہ واااہ
کیا کہنے جناب، غالب بھی جھوم اٹھیں گے۔
نوازش جناب۔
عباد اللہ — مئی 13، 2016 5:06 شام
یہ لڑی میرے جیسے نو آموز شعرا کے لیے ہے. یہاں ہم طرح تجویز کریں گے اور اس پر طبع آزمائی کریں گے. میں نے ایک شعر آج کہا ہے وہ ہی پہلی تجویز کردہ طرح ہوگی.
ہے شعلہ از نفس افشاں جو آتش دانِ جوہر کا
بدل ڈالا ہے رنگ اس نے رخِ بالِ سمندر کا
عباد اللہ
مزمل حسین
Mdfaiqusayyed
La Alma
واااااااااااہ وااااہ بہت خوب
La Alma — مئی 13، 2016 5:15 شام
اور ہم تو گھوم اٹھے ھیں ۔۔۔
ذرا گردش تھمے تو کچھ سوچتے ھیں ۔۔۔
La Alma — مئی 13، 2016 8:38 شام

دروں سےچھیڑ خانی میں، تخیل سے نقاب اترا
عیاں پھر عالمِ امکاں، ہوا ہے آج اندر کا
محمد ریحان قریشی — مئی 14، 2016 4:58 صبح
دروں سےچھیڑ خانی میں، تخیل سے نقاب اترا
عیاں پھر عالمِ امکاں، ہوا ہے آج اندر کا
کیا بات ہے۔ لاجواب۔
محمد ریحان قریشی — مئی 14، 2016 9:36 صبح
مزید تین اشعار
ازل سے ہے چلی آتی محبت کفر و ایماں کی
مکیں تبرِ براہیمی ہے بت خانہء آذر کا
ہے سم آبِ بقا کہتا ہے یہ سقراطِ یونانی
کہ ناوک غوطہ زن در زہر تھا ، لشکر سکندر کا
بہ ہر یک جنبشِ خامہ مضامیں از عدم آمد
قلم میرا یہ ہم آواز ہے عنقا کے شہپر کا
La Alma — مئی 14، 2016 11:49 صبح
بہت عمدہ۔
تفہیم کی غرض سے چند معروضات پیش کر رہی ہوں تاکہ لڑی کا اصل مقصد پورا ہو سکے ۔
"ازل سے ہے چلی آتی محبت کفر و ایماں کی
مکیں تبرِ براہیمی ہے بت خانہء آذر کا "
تبر سے آپ کی مراد کیا نسل یا اولاد ہے ؟ اگر ہے توپھر مصرع صحیح ابلاغ نہیں کر رہا ۔
"ہے سم آبِ بقا کہتا ہے یہ سقراطِ یونانی
کہ ناوک غوطہ زن در زہر تھا لشکر سکندر کا "
میرے خیال سے لشکر کے نیچے اضافت ہونی چاہیے یا پھر ناوک یہاں اضافی ہے
"بہ ہر یک جنبشِ خامہ مضامیں از عدم آمد
قلم میرا یہ ہم آواز ہے عنقا کے شہپر کا"
بہت خوب ۔
زبردست ۔
La Alma — مئی 14، 2016 11:50 صبح
.
محمد ریحان قریشی — مئی 14، 2016 12:14 شام
بہت عمدہ۔
تفہیم کی غرض سے چند معروضات پیش کر رہی ہوں تاکہ لڑی کا اصل مقصد پورا ہو سکے ۔
"ازل سے ہے چلی آتی محبت کفر و ایماں کی
مکیں تبرِ براہیمی ہے بت خانہء آذر کا "
تبر سے آپ کی مراد کیا نسل یا اولاد ہے ؟ اگر ہے توپھر مصرع صحیح ابلاغ نہیں کر رہا ۔
"ہے سم آبِ بقا کہتا ہے یہ سقراطِ یونانی
کہ ناوک غوطہ زن در زہر تھا لشکر سکندر کا "
میرے خیال سے لشکر کے نیچے اضافت ہونی چاہیے یا پھر ناوک یہاں اضافی ہے
"بہ ہر یک جنبشِ خامہ مضامیں از عدم آمد
قلم میرا یہ ہم آواز ہے عنقا کے شہپر کا"
بہت خوب ۔
زبردست ۔

تبر کلہاڑے کو کہتے ہیں جو ابراہیم علیہ السلام وہیں چھوڑ آئے تھے۔
مسئلہ یہ ہے کہ اس میں ت اور ب دونوں متحرک ہیں۔ مگر میرے خیال میں وزن تب بھی درست ہے۔
دوسرے شعر میں سکندر کے لشکر کو ایسا تیر قرار دیا گیا ہے جو کہ زہر میں ڈوبا ہوا ہے یعنی کہ سقراط نے جو زہر پیا اسی کی بدولت اس کے بعد ایسا لشکر پیدا ہوا جس نے دنیا پر قبضہ کر لیا۔ یونان ، سقراط، زہر، آب بقا ، سکندر ، ناوک اور لشکر کی مناسبتیں واضح ہیں۔
La Alma — مئی 14، 2016 12:47 شام
تبر کلہاڑے کو کہتے ہیں جو ابراہیم علیہ السلام وہیں چھوڑ آئے تھے۔
مسئلہ یہ ہے کہ اس میں ت اور ب دونوں متحرک ہیں۔ مگر میرے خیال میں وزن تب بھی درست ہے۔
دوسرے شعر میں سکندر کے لشکر کو ایسا تیر قرار دیا گیا ہے جو کہ زہر میں ڈوبا ہوا ہے یعنی کہ سقراط نے جو زہر پیا اسی کی بدولت اس کے بعد ایسا لشکر پیدا ہوا جس نے دنیا پر قبضہ کر لیا۔ یونان ، سقراط، آب بقا ، سکندر ، ناوک اور لشکر کی مناسبتیں واضح ہیں۔

وضاحت کا شکریہ ۔
"ازل سے ہے چلی آتی محبت کفر و ایماں کی
مکیں تبرِ براہیمی ہے بت خانہء آذر کا "
درست ۔اچھا شعر ہے ۔
کہ ناوک غوطہ زن در زہر تھا لشکر سکندر کا "
شاید تعقیدِ لفظی کی وجہ سے مصرع میں وہ ربط نہیں بن پایا ۔ یوں لگتا ہے " کہ ناوک غوطہ زن در زہر تھا " پر بات مکمل ہو گئی اور " لشکر سکندر کا " کچھ ابہام پیدا کر رہا ہے ۔
اگر ممکن ہے تو الفاظ کی نشست و برخاست ایک بار پھر دیکھ لیں۔
محمد ریحان قریشی — مئی 14، 2016 3:06 شام
ایک اور شعر
سراپا آگ ہوں مجھ سے مرا سایہ گریزاں ہے
سبب کوئی بتا کیونکر نہ پوجوں یار پتھر کا
La Alma — مئی 14، 2016 8:47 شام
ایک اور شعر
سراپا آگ ہوں مجھ سے مرا سایہ گریزاں ہے
سبب کوئی بتا کیونکر نہ پوجوں یار پتھر کا

سبب گر ڈھونڈنا چاہو ، تم اِس آتش مزاجی کا
کہیں ترکیبِ ہستی میں، ملے گا عیب عنصر کا
مزمل حسین — مئی 15، 2016 3:35 صبح
بہ ہر یک جنبشِ خامہ مضامیں از عدم آمد
قلم میرا یہ ہم آواز ہے عنقا کے شہپر کا
کیا کہنے!
دوسرے مصرعے میں سے ''یہ'' کو نکال دیں۔
مکیں تبرِ براہیمی ہے بت خانہء آذر کا
یہ وزن میں ہے؟
عباد اللہ — مئی 15، 2016 4:06 صبح
مکیں تبرِ براہیمی ہے بت خانہء آذر کا

ریحان بھیا اگر تبر کو آپ نے ایمان کے استعارے کے طور پر استعمال فرمایا ہے تو ۔۔۔۔۔۔۔
مطلب آپ سمجھ گئے نا؟
محمد ریحان قریشی — مئی 15، 2016 4:58 صبح
کیا کہنے!
دوسرے مصرعے میں سے ''یہ'' کو نکال دیں۔
یہ وزن میں ہے؟
جی میرے خیال سے تو وزن میں ہے مفاعیلن کی ی متحرک ہونے سے کوئی خاص فرق روانی پر بھی نہیں پڑتا۔
یہ واقعی بھرتی کا تھا اس کے لیے
قلم گویا ہے میرا ہمنوا عنقا کے شہپر کا
محمد ریحان قریشی — مئی 15، 2016 5:02 صبح
سبب گر ڈھونڈنا چاہو ، تم اِس آتش مزاجی کا
کہیں ترکیبِ ہستی میں، ملے گا عیب عنصر کا
عیب تقابلِ ردیفین (کچھ ایسا ہی نام تھا) ہے شعر میں۔ بغیر قافیے کے ردیف کی تکرار۔
الفاظ آگے پیچھے کر کے دیکھیں۔
عباد اللہ — مئی 15، 2016 5:07 صبح
وہ ریحان بھائی کسی ہندوسچانی شاعرہ کا مصرع ہے
لائے ہیں اس غزل کی زمیں آسماں سے ہم
تو اس میں ایسے ہی شعر ہوں گے:)
ہم کل پرچہ دے لیں پھر زمین والوں کی سمجھ سے ماورا کچھ شہرہء آفاق شعر کہیں گے اس زمین میں
آپ کے پرچے ختم ہو گئے؟
محمد ریحان قریشی — مئی 15، 2016 5:09 صبح
وہ ریحان بھائی کسی ہندوسچانی شاعرہ کا مصرع ہے
لائے ہیں اس ضزل کی زمیں آسماں سے ہم
تو اس میں ایسے ہی شعر ہوں گے:)
ہم کل پرچہ دے لیں پھر زمین والوں کی سمجھ سے ماورا کچھ شہرہء آفاق شعر کہیں گے اس زمین میں
آپ کے پرچے ختم ہو گئے؟
دو رہ گئے ہیں۔ کیمیسٹری کا پرچہ ہے اگلا اس لیے exothermic اشعار آ رہے ہیں۔
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%B7%D8%B1%D8%AD-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%B7%D8%A8%D8%B9-%D8%A2%D8%B2%D9%85%D8%A7%D8%A6%DB%8C.89883/