ایک طرح میں طبع آزمائی

عباد اللہ — مئی 15، 2016 5:14 صبح
بھئی یہ میری املا کا ہندوستانی دوست برا نہ منائیں !!!
وہ املا پر توجہ دینے کے علاوہ اور بھی تو بہت غم ہیں نا
اور ہاں
وہ ریٹینگز والے حضرات کا میں منتطر ہوں اسی لئے تدوین نہیں کر رہا
محمد ریحان قریشی — مئی 15، 2016 7:55 صبح
وزن میں شک کی بنا پر مصرعہ تبدیل کر دیا ہے
براہیمی تبر مہماں ہے بت خانہء آزر کا
عباد اللہ — مئی 15، 2016 12:16 شام
ازل سے ہے چلی آتی محبت کفر و ایماں کی
مکیں تبرِ براہیمی ہے بت خانہء آذر کا
ریحان بھیا اول تو مصرع اولی میں الفاظ کی نشست اسے مکدر کر رہی ہے اور کفر و ایمان میں محبت (میں اس محبت کو پیکار پر قیاس کرتا ہوں
ابراہیم ؑ کا تبر اسی انتہائی محبت کا اظہار کرتا ہے)
اگر آپ مذہب پر چوٹ کر رہے ہیں تو ٹھیک ورنہ اصل خیال شاید یہ ہے
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغَ مصطفوی سے شرارَ بولہبی
محمد ریحان قریشی — مئی 15، 2016 12:24 شام
ریحان بھیا اول تو مصرع اولی میں الفاظ کی نشست اسے مکدر کر رہی ہے اور کفر و ایمان میں محبت (میں اس محبت کو پیکار پر قیاس کرتا ہوں
ابراہیم ؑ کا تبر اسی انتہائی محبت کا اظہار کرتا ہے)
اگر آپ مذہب پر چوٹ کر رہے ہیں تو ٹھیک ورنہ اصل خیال شاید یہ ہے
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغَ مصطفوی سے شرارَ بولہبی
نہیں در حقیقت اس میں خیال گہرہ ہے. باقی جہاں تک شاعری کا تعلق ہے تو بقول جناب فاتح گهڑی جاتی ہے. کعبے کو ان بتوں سے بهی نسبت ہے دور کی. اب قاری جو چاہے مطلب نکال لے.
عباد اللہ — مئی 15، 2016 12:30 شام
نہیں در حقیقت اس میں خیال گہرہ ہے. باقی جہاں تک شاعری کا تعلق ہے تو بقول جناب فاتح گهڑی جاتی ہے. کعبے کو ان بتوں سے بهی نسبت ہے دور کی. اب قاری جو چاہے مطلب نکال لے.
مجھے سمجھا دیجئے
عباد اللہ — مئی 15، 2016 12:33 شام
کعبے کو ان بتوں سے بهی نسبت ہے دور کی.
بھی وہ تو قریب کی نسبت ہے یہاں دیکھئے
خداکے واسطے پردہ نہ کعبے سے اٹھا ظالم(یا شاید غالب)
کہیں ایسا نہ ہو یاں بھی وہی کافر صنم نکلے
محمد ریحان قریشی — مئی 15، 2016 12:34 شام
حقیقی مطلب شعر کا تو یہ ہوگا کہ کفر کے بغیر ایمان کچه نہیں ہے ہر چیز کی پہچان اس کے متضاد سے ہوتی ہے. اگر غم نہ ہوتا تو کوئی خوشی کو بهی نہ پہچانتا.
عباد اللہ — مئی 15، 2016 12:43 شام
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغَ مصطفوی سے شرارَ بولہبی[/QUOTE
اس شعر کا بھی یہ مطلب لیا جا سکتا ہے
ازل سے تا امروز کفر و ایمان موجود ہیں اور مستقبل میں بھی رہیں گے یعنی دونوں ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں
کہ ان میں سے کسی ایک کے ختم ہو جانے پر دوسرا اپنا منطقی جواز کھو بیٹھتا ہے
محمد ریحان قریشی — مئی 15، 2016 12:46 شام
وارستہ اس سے ہیں کہ محبت ہی کیوں نہ ہو
کیجے ہمارے ساته عداوت ہی کیوں نہ ہو
مزمل حسین — مئی 15، 2016 2:51 شام
مکیں تبرِ براہیمی ہے بت خانہء آذر کا
اس کی تقطیع کیسے کی جائے؟
محمد ریحان قریشی — مئی 15، 2016 4:55 شام
اس کی تقطیع کیسے کی جائے؟
غلط ہے جناب. مزمل شیخ بسمل صاحب سے معلوم کر لیا ہے. تبدیلی کر لی ہے.
محمد ریحان قریشی — مئی 15، 2016 5:08 شام
وزن میں شک کی بنا پر مصرعہ تبدیل کر دیا ہے
براہیمی تبر مہماں ہے بت خانہء آزر کا
ایسے کر لیا ہے.
La Alma — مئی 15، 2016 7:11 شام
عیب تقابلِ ردیفین (کچھ ایسا ہی نام تھا) ہے شعر میں۔ بغیر قافیے کے ردیف کی تکرار۔
الفاظ آگے پیچھے کر کے دیکھیں۔
صحیح۔
تم اس آتش مزاجی کا سبب گر ڈھونڈنا چاہو
کہیں ترکیبِ ہستی میں ملے گا عیب عنصر کا
عباد اللہ — مئی 15، 2016 7:19 شام
لیجئے صاحب گرہ لگائیے
بہ ہر پہلو یہ طرفہ ماجرا ہے میرے محضر کا
محمد ریحان قریشی — مئی 16، 2016 5:43 صبح
لیجئے صاحب گرہ لگائیے
بہ ہر پہلو یہ طرفہ ماجرا ہے میرے محضر کا
پہلو سے غالبا" سمت مراد ہے۔ تو کچھ ایسے ہوسکتا ہے
عیاں ہے چہرہ در پردہ نہاں جلوہ ہے پردے میں
بہ ہر پہلو یہ طرفہ ماجرا ہے میرے محضر کا
La Alma — مئی 16، 2016 7:16 صبح
لیجئے صاحب گرہ لگائیے
بہ ہر پہلو یہ طرفہ ماجرا ہے میرے محضر کا

عجب کیا ہے عوض اپنے، جو خود ہی دھر لیے جائیں
بہ ہر پہلو یہ طرفہ ماجرا ہے میرے محضر کا
یہاں پر محضر کا مطلب " petition" یا "warrant" لیا گیا ہے ۔
محمد ریحان قریشی — جون 5، 2016 6:42 صبح

ویسے دیکها جائے تو الفاظ میں بهی تسکین اوسط کا استعمال کیا جاتا ہے یعنی اگر تین اکهٹے حروف متحرک آجائیں تو درمیان والے کو ساکن کر دیا جاتا ہے. یہی وجہ ہے کہ نظریں کا ظ ساکن ہے. اسی طرح میرا مصرعہ
مکیں تبرے براہیمی ہے بت خانہء آذر کا
میں تبرے کی ب ساکن کی جا سکتی ہے. اور میرا مصرعہ درست ہے.
محمد ریحان قریشی — جون 5، 2016 6:53 صبح
ویسے دیکها جائے تو الفاظ میں بهی تسکین اوسط کا استعمال کیا جاتا ہے یعنی اگر تین اکهٹے حروف متحرک آجائیں تو درمیان والے کو ساکن کر دینا. یہی وجہ ہے کہ نظریں کا ظ ساکن ہے. اسی طرح میرا مصرعہ
مکیں تبرے براہیمی ہے بت خانہء آذر کا
میں تبرے کی ب ساکن کی جا سکتی ہے. اور میرا مصرعہ درست ہے.
سند
فارسی مصدر گشودن ہے جس کے معنی ہیں کهولنا. گ کے اوپر پیش ہے. خواجہ حافظ کا شعر دیکهیں
حدیث از مطرب و مے گو و راز دہر کمتر جو
کہ کس نگشود و نگشاید بحکمت ایں معما را
یہاں نگشود اور نگشاید گ پر سکون کے ساته پڑهے جائیں گے ورنہ مفاعیلن مفاعلتن بن جائے گا اور شعر بحر سے خارج ہو جائے گا.

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%B7%D8%B1%D8%AD-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%B7%D8%A8%D8%B9-%D8%A2%D8%B2%D9%85%D8%A7%D8%A6%DB%8C.89883/page-2