بچوں کے لیے نظمیں چاہئیں

سید عمران — اگست 27، 2019 7:00 صبح
بچوں کے لیے چھوٹی بحر میں نظمیں چاہئیں۔۔۔
چاہے محفل کے شعراء اپنی نظمیں پیش کردیں چاہیں دوسروں کی!!!
محمد وارث ، محمد خلیل الرحمٰن ، محمداحمد ، فرخ منظور ، فلسفی ، فرحان محمد خان ، فرقان احمد ، یاسر شاہ ، محمد تابش صدیقی ، سید عاطف علی ، عاطف ملک ، انس معین ، میم الف ، عباد اللہ ، اور دیگر وہ حضرات بھی جن کو ٹیگ نہ کرسکے!!!
محمد تابش صدیقی — اگست 27، 2019 7:05 صبح
بچوں کی نظمیں
ماں باپ
بچوں کی نظمیں از محمد حسین وفا جونپوری
ساتویں سالگرہ کے موقع پر بچوں کے لیے نظمیں
بچوں کے لیے نظمیں محفل کی چھٹی سالگرہ کے موقع پر
محمد تابش صدیقی — اگست 27، 2019 7:05 صبح
اور بھی دیکھتے ہیں
محمد تابش صدیقی — اگست 27، 2019 7:06 صبح
یہ سیکشن دیکھیے
سید عاطف علی — اگست 27، 2019 7:11 صبح
یہ ایک پرانا دھاگا کام آسکتا ہے ۔
بافقیہ — اگست 27، 2019 7:26 صبح
بچوں کے لیے چھوٹی بحر میں نظمیں چاہئیں۔۔۔
چاہے محفل کے شعراء اپنی نظمیں پیش کردیں چاہیں دوسروں کی!!!
محمد وارث ، محمد خلیل الرحمٰن ، محمداحمد ، فرخ منظور ، فلسفی ، فرحان محمد خان ، فرقان احمد ، یاسر شاہ ، محمد تابش صدیقی ، سید عاطف علی ، عاطف ملک ، انس معین ، میم الف ، عباد اللہ ، اور دیگر وہ حضرات بھی جن کو ٹیگ نہ کرسکے!!!
ہمیں بھی ضرورت ہے:)
سید عمران — اگست 27، 2019 7:32 صبح
آجائیں پھر میدان میں!!!
فرخ منظور — اگست 27، 2019 9:12 صبح
بچوں کے لیے چھوٹی بحر میں نظمیں چاہئیں۔۔۔
چاہے محفل کے شعراء اپنی نظمیں پیش کردیں چاہیں دوسروں کی!!!
محمد وارث ، محمد خلیل الرحمٰن ، محمداحمد ، فرخ منظور ، فلسفی ، فرحان محمد خان ، فرقان احمد ، یاسر شاہ ، محمد تابش صدیقی ، سید عاطف علی ، عاطف ملک ، انس معین ، میم الف ، عباد اللہ ، اور دیگر وہ حضرات بھی جن کو ٹیگ نہ کرسکے!!!

جیسا کہ تابش صاحب نے کہا کہ گوشہ اطفال میں چلے جائیں وہاں بہت کچھ آپ کو مل جائے گا۔
الف نظامی — اگست 27، 2019 9:34 صبح
جھولنے از صوفی غلام مصطفی تبسم
آئی کے عمران — دسمبر 3، 2019 3:51 شام
قوسِ قزح نے رنگ بکھیرے
دیکھو بچو سات طرح کے
آؤ دیکھو جلدی جلدی
مہماں ہے یہ کچھ ہی پل کی
دیکھو کیسا خوب سماں ہے
صورت اس کی مثلِ کماں ہے
جو بھی دیکھے اس کا جلوہ
بول اٹھے وہ سبحان اللہ
خوب نظارہ رب نے دکھایا
دھوپ سے قطروں کو چمکایا
عمران کمال
آئی کے عمران — دسمبر 3، 2019 3:52 شام
دیکھو بچو بہتا پانی
گیت سنائے اس کی روانی
موجیں اس کی بل کھاتی ہیں
آپس میں گھل مل جاتی ہیں
کھیتوں کو سیراب کرے یہ
فصلوں کو شاداب کرے یہ
پیاسوں کی یہ پیاس بجھائے
انساں پنچھی اور چوپائے
ہاتھ ملائے اوروں سے یہ
چلتا جائے زوروں سے یہ
رستے میں ہر گز نہ رکے گا
منزل پر جا کر دم لے گا
منزل پر ہیں نظریں اس کی
لہر اٹھائیں لہریں اس کی
اپنی دھن میں بہتا جائے
کوئی رکاوٹ روک نہ پائے
جہدِ مسلسل اس سے سیکھو
بڑھتے جاؤ آگے بچو
عمران کمال
آئی کے عمران — دسمبر 3، 2019 3:55 شام
*ایفائے عہد*
جب بھی کوئی وعدہ کرنا
بچو اس کو پورا کرنا
حکمِ خدا بھی ہے سنت بھی
اجر ہے اس میں اور عزت بھی
وعدہ خلافی،جھوٹ،خیانت
یہ تو منافق کی ہے علامت
دین نہیں کچھ وعدہ شکن کا
رب نے قرآں میں فر مایا
قولِ نبی ہے،حکمِ خدا ہے
ذمہ داری ،عہدِ وفا ہے
جھوٹے پر ہےرب کی لعنت
بے سود اس کی ساری عبادت
فرض ہے وعدے کی پابندی
اس میں بھلائی دونوں جہاں کی
ہو جائے گر وعدہ خلافی
رب سے اپنے مانگومعافی
سچے مسلم بن کے دکھانا
ہر صورت وعدے کو نبھانا
* عمران کمال*
الف نظامی — دسمبر 3، 2019 4:52 شام
آئی کے عمران بہت خوب! زبردست کام کیا آپ نے۔ ماشاء اللہ
فاخر رضا — دسمبر 3، 2019 4:52 شام
بہت خوب. بہت اچھی نظمیں ہیں
محمد خلیل الرحمٰن — دسمبر 4، 2019 1:59 صبح
خوبصورت خوبصورت۔ کیا کہنے آئی کے عمران بھائی۔ کمال کیا ہے۔داد قبول فرمائیے۔
آئی کے عمران — دسمبر 5، 2019 12:16 شام
آئی کے عمران بہت خوب! زبردست کام کیا آپ نے۔ ماشاء اللہ
بہت بہت شکریہ۔بہت نوازش
جزاک اللہ
آئی کے عمران — دسمبر 5، 2019 12:17 شام
بہت خوب. بہت اچھی نظمیں ہیں
بہت شکریہ۔بہت نوازش آپ کی۔
آئی کے عمران — دسمبر 5، 2019 12:18 شام
خوبصورت خوبصورت۔ کیا کہنے آئی کے عمران بھائی۔ کمال کیا ہے۔داد قبول فرمائیے۔
حوصلہ افزائی پر بہت ممنون ہوں۔
بہت بہت شکریہ۔
آئی کے عمران — دسمبر 5، 2019 12:21 شام
ایک اور نظم بچوں کے لیے ۔امید ہے آپ احباب کو پسند آئے گی۔
(فصلِ گل)
موسم آیا فصلِ گل کا
گیت سنیں گے پھر بلبل کا
ہر جانب ہو گی ہریالی
پھول کھلیں گے ڈالی ڈالی
خوب خدا کی کاریگری ہے
پھر سے ہوئی ہر شاخ ہری ہے
پنچھی آئے نیلے پیلے
گیت سنانے ہم کو سریلے
شان نرالی دیکھو رب کی
آواز اپنی اپنی سب کی
سیب ،انار، آڑو خوبانی
دیکھ کے آئے منہ میں پانی
رب نے لگائے سارے میوے
میٹھے میٹھے اور رسیلے
پھول پہ آ کر بیٹھی تتلی
رنگ برنگی پیاری پیاری
خوب خدا نے اس کو بنایا
کتنے حسیں رنگوں سے سجایا
دھرتی کے یہ سارے نظارے
اور فلک کے چاند ستارے
رب نے بنایا سارے جہاں کو
شکر سکھاؤ اپنی زباں کو
موسم آیا فصلِ گل کا
گیت سنیں گے پھر بلبل کا
(عمران کمال)
ظہیراحمدظہیر — دسمبر 5، 2019 10:19 شام
ایک اور نظم بچوں کے لیے ۔امید ہے آپ احباب کو پسند آئے گی۔
(فصلِ گل)
موسم آیا فصلِ گل کا
گیت سنیں گے پھر بلبل کا
ہر جانب ہو گی ہریالی
پھول کھلیں گے ڈالی ڈالی
خوب خدا کی کاریگری ہے
پھر سے ہوئی ہر شاخ ہری ہے
پنچھی آئے نیلے پیلے
گیت سنانے ہم کو سریلے
شان نرالی دیکھو رب کی
آواز اپنی اپنی سب کی
سیب ،انار، آڑو خوبانی
دیکھ کے آئے منہ میں پانی
رب نے لگائے سارے میوے
میٹھے میٹھے اور رسیلے
پھول پہ آ کر بیٹھی تتلی
رنگ برنگی پیاری پیاری
خوب خدا نے اس کو بنایا
کتنے حسیں رنگوں سے سجایا
دھرتی کے یہ سارے نظارے
اور فلک کے چاند ستارے
رب نے بنایا سارے جہاں کو
شکر سکھاؤ اپنی زباں کو
موسم آیا فصلِ گل کا
گیت سنیں گے پھر بلبل کا
(عمران کمال)

واہ! اچھی نظم لکھی ہے جناب! بہت خوب!
پہلےمصرع میں جناح کیپ ٹوپی کا سقم آگیا ہے ۔ اسے درست کرلیجئے ۔
صفحات: 1 2 3 4

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%DA%86%D9%88%DA%BA-%DA%A9%DB%92-%D9%84%DB%8C%DB%92-%D9%86%D8%B8%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%A6%DB%8C%DA%BA.108211/