بھئی شاید یوں ہی ہو ۔کوئی بیس پچیس سال پہلے کی یاد داشتوں میں سےذہن میں آگیا۔ کوئی حوالے سے تصدیق ہو جائے تو اور زیادہ اچھاہے۔آتش گل یا شعلہء طور میں ہوگا یہ شعر۔
جی درست فرمایا غالب گمان ہے کہ آتش گل ہی میں ہو
میں پچھلے کئی سالوں سے خان خلیلی میں ہوں اور بازار مصر کا تماشائی ہوچکا ہوں عربی کتابوں میں ہی سر کهپا رہا ہوں . اردو کتابیں اور دواوین کچھ بهی نہیں یہاں. .
بس آپ لوگوں کی مصاحبت اور اردو محفل اردو ادب سے ربط کا واحد ذریعہ ہے البتہ کبھی کبھی یاد داشتےاور ڈائریاں چارہ گری کرتی ہیں. .
نشاندہی کے لیے بہت شکریہ عاطف بھائی، میں نے تدوین کر دی ہے ۔
سید عاطف علی — مئی 1، 2015 1:34 شام
یہاں بہت سے اشعار کو محض مبالغے کی بنیاد پر شامل کیا جارہا ہے ۔جو دراصل شاعرانہ تعلی نہیں۔
شاعرانہ تعلی میں شاعر اپنے شعری ہنر ،انداز اور اسلوب وغیرہ کے کسی پہلو پر عمومی یا خصوصی پر افتخارکا لہجہ اختیار کرتا ہے۔ہر مبالغہ آمیز یا فخریہ لہجہ جو شعر کے مضمون و تخیل پر مبنی ہو ، تعلی نہیں ہوتا۔
شبیر حسین تاب — مئی 1، 2015 3:05 شام
جی مجھے بهی اس بات کا خدشہ تها کہ مبالغہ اور تعلی میں تمیز تهوڑی مشکل ہو جائے گی، خیر تنبیہ کردی جائے
شبیر حسین تاب — مئی 3، 2015 7:09 شام
میں پیمبر نہیں یگانہ سہی
اس سے کیا کسر شان میں آئی
( یگانہ چنگیزی )
ادب دوست — مئی 16، 2015 11:12 صبح
اک طفلِ دبستاں ہے فلاطوں مرے آگے
کیا منہ ہے ارسطو جو کرے چوں مرے آگے
انشا اللہ خان انشاؔ
ادب دوست — مئی 16، 2015 11:15 صبح
مجرے کو مرے خسروِ پرویز ہو حاضر
شیریں بھی کہے آکے، بلالوں ! مرے آگے
انشا اللہ خان انشاؔ
مزمل شیخ بسمل — مئی 16، 2015 11:41 صبح
ریختہ میں کلام ہم سے نہ کر
یہ ہماری زبان ہے پیارے میر
مزمل شیخ بسمل — مئی 16، 2015 11:41 صبح
ہے زبانِ لکھنؤ میں طرزِ دہلی کا نمود
تجھ سے حسرت نام روشن شاعری کا ہوگیا حسرت موہانی
مزمل شیخ بسمل — مئی 16، 2015 11:42 صبح
آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں
غالب صریرِ خامہ نوائے سروش ہے غالب