تقطیع کیا ہوگی؟؟؟؟

مانی عباسی — نومبر 19، 2013 11:29 صبح
سلام
غا لب کی ایک غزل پڑھی جسکا ایک شعر ہے
مئےعشرت کی خواہش ساقیِ گردوں سے کیا کیجے ...
لیے بیٹھا ہے اک دو چار جامِ واژگوں وہ
بھی
اس شعر کی تقطیع کیا ہوگی؟؟؟؟
سید عاطف علی — نومبر 19، 2013 11:45 صبح
سلام
غا لب کی ایک غزل پڑھی جسکا ایک شعر ہے
مئےعشرت کی خواہش ساقیِ گردوں سے کیا کیجے ...
لیے بیٹھا ہے اک دو چار جامِ واژگوں وہ بھی
اس شعر کی تقطیع کیا ہوگی؟؟؟؟

مفاعیلن ۔۔۔۔۔۔۔ مفاعیلن۔۔۔۔۔۔ مفاعیلن۔۔۔۔۔۔۔ مفاعیلن
مئےعشرت۔۔۔۔ کی خواہش سا۔۔۔۔قیِء گردوں۔۔۔۔ سے کیا کیجے
یے بیٹھا۔۔۔۔ہے اک دو چا۔۔۔۔۔ر جامِ وا۔۔۔۔۔۔ژگوں وہ بھی
قیصرانی — نومبر 19، 2013 11:50 صبح
سلام
غا لب کی ایک غزل پڑھی جسکا ایک شعر ہے
مئےعشرت کی خواہش ساقیِ گردوں سے کیا کیجے ...
لیے بیٹھا ہے اک دو چار جامِ واژگوں وہ
بھی
اس شعر کی تقطیع کیا ہوگی؟؟؟؟
میں اسے ہمیشہ جھونک میں گُردوں ہی پڑھا کرتا تھا :(
جیہ — نومبر 19، 2013 11:52 صبح
میں اسے ہمیشہ جھونک میں گُردوں ہی پڑھا کرتا تھا :(
آپ سے کچھ بھی بعید نہیں :p
نیرنگ خیال — نومبر 19، 2013 11:53 صبح
ایک اور سوال۔۔۔ اس شعر کا مطلب کیا ہوگا۔۔۔۔
قیصرانی — نومبر 19، 2013 11:54 صبح
آپ سے کچھ بھی بعید نہیں :p
میں نے بتایا نا کہ میری اردو انتہائی ناقص ہے۔ اس لئے ایسی غلطیاں گاہے بگاہے بلکہ بکثرت ہوتی رہتی تھیں :(
جیہ — نومبر 19، 2013 11:55 صبح
میں نے بتایا نا کہ میری اردو انتہائی ناقص ہے۔ اس لئے ایسی غلطیاں گاہے بگاہے بلکہ بکثرت ہوتی رہتی تھیں :(
صرف اردو ہی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قیصرانی — نومبر 19، 2013 11:56 صبح
صرف اردو ہی نہیں۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔
جی اردو کے علاوہ بھی بہت کچھ، جیسا کہ نظریات، سوچ، اور اور اور۔۔۔ اور بھی بتائیے :)
نیرنگ خیال — نومبر 19، 2013 11:59 صبح
جی اردو کے علاوہ بھی بہت کچھ، جیسا کہ نظریات، سوچ، اور اور اور۔۔۔ اور بھی بتائیے :)
اک دن وہ مرے عیب گنانے لگا فراز
جب خود ہی تھک گیا تو مجھے سوچنا پڑا
جیہ — نومبر 19، 2013 12:01 شام
مئےعشرت کی خواہش ساقیِ گردوں سے کیا کیجے ...
لیے بیٹھا ہے اک دو چار جامِ واژگوں وہ بھی
مے شراب،
مئے عشرت کی خواہش یعنی دنیاوی خواہشات
ساقئی گردوں، آسمان کا ساقی یعنی خدا
جام واژگون، الٹے جام۔ سات آسمان
ہم اگر سر اٹھا کر دیکھیں تو آسمان ایک الٹے پیالے کے طرح نظر آتا ہے اس وجہ سے اسے جام واژگوں سے تشبیہ دی
سادہ مطلب یہ ہے ، کہ ہم خدا سے کچھ طلب نہیں کرتے ، کیوں اس کے پاس مجھے دینے کے لئے کچھ نہیں۔ نا امیدی کی انتہا ہے یہ شعر۔ واللہ اعلم
جیہ — نومبر 19، 2013 12:03 شام
جی اردو کے علاوہ بھی بہت کچھ، جیسا کہ نظریات، سوچ، اور اور اور۔۔۔ اور بھی بتائیے :)
خود اپنے گریباں میں جھانک لیجیئے :)
سید عاطف علی — نومبر 19، 2013 12:04 شام
ایک اور سوال۔۔۔ اس شعر کا مطلب کیا ہوگا۔۔۔ ۔
اس کا مطلب یہ ہو گا جو عمر خیام نے ان الفاظ میں کہا ہے۔
نيکی و بدی کہ در نھا د بشر است
شادی و غمی کہ در قضا و قدر است
با چرخ مکن حوالہ کاندر ره عقل
چرخ از تو هزار بار بيچاره تر است
جیہ — نومبر 19، 2013 12:04 شام
مے شراب،
مئے عشرت کی خواہش یعنی دنیاوی خواہشات
ساقئی گردوں، آسمان کا ساقی یعنی خدا
جام واژگون، الٹے جام۔ سات آسمان
ہم اگر سر اٹھا کر دیکھیں تو آسمان ایک الٹے پیالے کے طرح نظر آتا ہے اس وجہ سے اسے جام واژگوں سے تشبیہ دی
سادہ مطلب یہ ہے ، کہ ہم خدا سے کچھ طلب نہیں کرتے ، کیوں اس کے پاس مجھے دینے کے لئے کچھ نہیں۔ نا امیدی کی انتہا ہے یہ شعر۔ واللہ اعلم
نیرنگ خیال
قیصرانی — نومبر 19، 2013 12:07 شام
خود اپنے گریباں میں جھانک لیجیئے :)
اس قابل ہوتا تو آپ سے مشورہ تو نہ مانگتا :)
جیہ — نومبر 19، 2013 12:08 شام
اس قابل ہوتا تو آپ سے مشورہ تو نہ مانگتا :)
میرا نام کب سے مشورہ خانم پڑ گیا ہے ؟ :)
قیصرانی — نومبر 19، 2013 12:10 شام
میرا نام کب سے مشورہ خانم پڑ گیا ہے ؟ :)
میرا گمان یہ ہے کہ چونکہ آپ نے میری ایک خامی کے بارے اشارہ کیا جو مجھ سے مخفی تھی تو عین ممکن ہے کہ آپ مزید بھی بتا سکیں :)
جیہ — نومبر 19، 2013 12:12 شام
میرا گمان یہ ہے کہ چونکہ آپ نے میری ایک خامی کے بارے اشارہ کیا جو مجھ سے مخفی تھی تو عین ممکن ہے کہ آپ مزید بھی بتا سکیں :)
آپ کا گمان غلط ہے
قیصرانی — نومبر 19، 2013 12:12 شام
شکریہ
نیرنگ خیال — نومبر 19، 2013 12:31 شام
بہت شکریہ جیہ۔۔۔ شاد رہیے۔۔۔ :)
نیرنگ خیال — نومبر 19، 2013 12:32 شام
اس کا مطلب یہ ہو گا جو عمر خیام نے ان الفاظ میں کہا ہے۔
نيکی و بدی کہ در نھا د بشر است
شادی و غمی کہ در قضا و قدر است
با چرخ مکن حوالہ کاندر ره عقل
چرخ از تو هزار بار بيچاره تر است
اوہ اچھا۔۔۔ اتنا آسان سا۔۔۔۔
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AA%D9%82%D8%B7%DB%8C%D8%B9-%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%DB%81%D9%88%DA%AF%DB%8C%D8%9F%D8%9F%D8%9F%D8%9F.69423/