چلیئے اس سے مطلب نکال لیجئے۔ یہ بھی وہی تخیل ہے جو اقبال نے ان الفاظ میں پیش کیا۔
ستارہ کیا مری تقدیر کی خبر دے گا
وہ خود فراخیء افلاک میں ہے خوار و زبوں
چلیئے اس سے مطلب نکال لیجئے۔ یہ بھی وہی تخیل ہے جو اقبال نے ان الفاظ میں پیش کیا۔
کیجے ہے یا کیجیئے صحیح لفظ کیا ہے ؟؟؟؟؟
جی ہاں ۔کیجیئے کو کیجے وزن کے لیے کیا گیا ہے۔یہ شاعری میں عام اور جائز ہے۔لیکن ایسا ہر لفظ کو نہیں کیا جاسکتا۔
شکریہ بھائی جی.۔۔۔۔بس ایک آخری بات بتا دیں کیا یہ کیجے ردیف میں استمعال کرنا جائز ہے ؟؟؟؟؟
کیوں نہیں۔اس میں بھلا کیا قباحت ؟
کچھ لوگ ردیف کے لیے الگ قوائد نکل لیتے ہیں نا.۔۔۔۔۔۔۔۔۔
درد ہو دل میں تو دوا کیجے
واقعی کل اس ردیف والی غزل یاد کرنے اور دیوان میں تلاش کرنے کی ایک سرسری سی کاوش کی مگر ناکام رہا ۔۔۔۔۔آپ نے فراہم کر دی بہت نوازش بھائی جی.۔۔۔۔۔۔
اس شعر میں اقبال فرما رہے ہیں کہ ستاروں کا تو اپنا حال پتلا ہے۔۔۔ میرا حال کیا بتائیں گے۔۔۔۔
وہ پاکستانی فلمی ستاروں کے معاشی مستقبل کی بات کر رہے تھے ورنہ تو ان کا "فیل" حال کافی موٹا ہے اور روز بروز موٹا تر ہوتا جا رہا ہے
اوہ اچھا۔۔۔ پھر تو اقبال کے ذہن میں جہانگیر کی موت ہوگی۔۔۔۔
وجہ موت۔۔۔۔