احسن محی الدین — مئی 8، 2014 6:28 شام
دو گاوں والے مل گئے ہیں ۔
اب سب لوگ فُٹ لیں یہاں سے ۔
آپ ادھر کیا کر رہے ہیں ؟

قیصرانی — مئی 8، 2014 6:29 شام
دو گاوں والے مل گئے ہیں ۔
اب سب لوگ فُٹ لیں یہاں سے ۔
دونوں ہی شہر ہیں، اتفاق سے

محمد علم اللہ — مئی 8، 2014 6:32 شام
آپ ادھر کیا کر رہے ہیں ؟
میں تو غزل اور نظم سنتے سنتے یہاں پہنچ گیا تو دیکھا یہ ویران گاوں ہے اور تو گاوں والے پتہ نہیں کیا کیا بات کر رہے تو ہم سوچے کیا ڈسٹرپ کریں

محمد علم اللہ — مئی 8، 2014 6:33 شام
دونوں ہی شہر ہیں، اتفاق سے
اممممم کس نے کہہ دیا غازی ڈیرہ خان اور ملتان شہر ہے

ایسے بچپن میں ہم نے مولانا مودودی کا ان کے بیٹے کے نام کوئی خط پڑھا تھا جو انھوں نے ملتان سینٹرل جیل سے لکھا تھا تب سے ہم ملتان کو جانتے ہیں

قیصرانی — مئی 8، 2014 6:35 شام
اممم مم کس نے کہہ دیا غازی ڈیرہ خان اور ملتان شہر ہے

ایسے بچپن میں ہم نے مولانا مودودی کا ان کے بیٹے کے نام کوئی خط پڑھا تھا جو انھوں نے ملتان سینٹرل جیل سے لکھا تھا تب سے ہم ملتان کو جانتے ہیں
اچھا۔ یعنی جیلیں گاؤں میں ہوتی ہیں۔ معلوماتی

محمد علم اللہ — مئی 8، 2014 6:36 شام
اچھا۔ یعنی جیلیں گاؤں میں ہوتی ہیں۔ معلوماتی
اور نہیں تو کیا آبادی میں ہونی چاہئے جیل کو ہم نے اب تک جتنی جیل دیکھے سب آبادی سے دور۔۔۔۔۔۔۔۔

قیصرانی — مئی 8، 2014 6:37 شام
اور نہیں تو کیا آبادی میں ہونی چاہئے جیل کو ہم نے اب تک جتنی جیل دیکھے سب آبادی سے دور۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔
ویسے اب تک کتنی جیلیں دیکھ لیں اور کیوں؟

یعنی آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ گاؤں میں انسان نہیں بستے؟

احسن محی الدین — مئی 8، 2014 6:43 شام
اممم مم کس نے کہہ دیا غازی ڈیرہ خان اور ملتان شہر ہے

ایسے بچپن میں ہم نے مولانا مودودی کا ان کے بیٹے کے نام کوئی خط پڑھا تھا جو انھوں نے ملتان سینٹرل جیل سے لکھا تھا تب سے ہم ملتان کو جانتے ہیں
میرا خیال ہے آپ "تب سے" نہیں بلکہ "تب کے" ملتان کو جانتے ہیں

احسن محی الدین — مئی 8، 2014 6:45 شام
اور نہیں تو کیا آبادی میں ہونی چاہئے جیل کو ہم نے اب تک جتنی جیل دیکھے سب آبادی سے دور۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔
اب تو سینٹرل جیل کے ارد گرد ہی بہت سے رہائشی کالونیاں بن گئی ہیں
محمد علم اللہ — مئی 8، 2014 6:45 شام
ساقی۔ بھیا کہاں سے رینگتے رینگتے یہاں پہنچ گئے ۔
جاسمن اپو ذرا اس شرارتی بچے کے لئے بوتل میں دودھ گرم کر دیجئے گا

محمد علم اللہ — مئی 8، 2014 6:46 شام
میرا خیال ہے آپ "تب سے" نہیں بلکہ "تب کے" ملتان کو جانتے ہیں
ممکن ہے

محمد علم اللہ — مئی 8، 2014 7:13 شام
ویسے اب تک کتنی جیلیں دیکھ لیں اور کیوں؟

یعنی آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ گاؤں میں انسان نہیں بستے؟
ایم اے میرا ریسرچ پیپر تھا Representation of the prisoners in Bollywood movies
تو اس کے لئے برسا منڈا سینٹرل جیل رانچی میں یونیورسٹی کی طرف سے ریسرچ کرنے کے لئے ایک ہفتہ جیل میں رکے بھی تھے ۔
جاسمن — مئی 8، 2014 7:13 شام
ہم اِس ویک اینڈ پہ ملتان گئے تھے اپنے ادارے کے لئے کتابیں لینے۔ دو دن رہے۔
محمد علم اللہ — مئی 8، 2014 7:17 شام
اور نہیں تو کیا آبادی میں ہونی چاہئے جیل کو ہم نے اب تک جتنی جیل دیکھے سب آبادی سے دور۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔
ایوئی اپو یہ غیر متفق کی ریٹنگ کیوں
قیصرانی بھیا والا بدلہ لے رہے کیا

جاسمن — مئی 8، 2014 7:25 شام
نہیں۔۔ میں نے جتنی جیل دیکھی ہیں سب آبادی میں ہیں۔ شاید جب بنی ہوں تب آبادی نہ ہو لیکن اب تو ہے۔
جیہ — مئی 8، 2014 7:27 شام
میں سمجھی یہاں شعر پڑھیں گے مگر ..........
جیہ — مئی 8، 2014 7:29 شام
اب تو سینٹرل جیل کے ارد گرد ہی بہت سے رہائشی کالونیاں بن گئی ہیں
سینٹرل جیل نہ ہوا آنندی ہو گیا
احسن محی الدین — مئی 9، 2014 1:52 شام
سینٹرل جیل نہ ہوا آنندی ہو گیا
آہ! یہ بلڈرز۔۔۔ جہاں کوئی قطعہء اراضی ملتا ہے ، رہائشی کالونی بنا دیتے ہیں۔ لوگ بھی منافع کے چکروں میں زرعی زمین بیچ دیتے ہیں
احسن محی الدین — مئی 13، 2014 10:09 صبح
ایک اور متنازع شعر
لہو پر قرض ہوتی جا رہی ہے
محبت فرض ہوتی جا رہی ہے
(نوشی گیلانی سے منسوب)
عمران خان کے جلسے کے سلسلے میں سوشل میڈیا پر درج ذیل شعر گردش کرتا رہا ہے
لہو پر قرض ہوتی جا رہی ہے
بغاوت فرض ہوتی جا رہی ہے