نقد و نظر

ادب دوست — مارچ 11، 2015 8:27 شام
قوم کی آس نہ ٹوٹے آخر
ان کو زنجیر کئے دیتے ہیں

فاروق بھائی کچھ واضح نہیں ہو رہا کہ کس کو"پا بہ زنجیر" کرنے کی بات کر رہے ہیں -
محمد یعقوب آسی — مارچ 12، 2015 3:47 صبح
جانے کب جان گنوا بیٹھیں ہم
کچھ تو تحریر کئے دیتے ہیں

ردیف کا مسئلہ ہے بھائی۔ یہاں تحریر کر دینے کا نہیں کر جانے کا تقاضا ہے کہ اوپر جان گنوا بیٹھنے کی بات ہوئی ہے۔
وہ بھی اگر "جان سے جانے" کی بات ہوتی تو بہتر تاثر دے سکتی تھی۔
محمد یعقوب آسی — مارچ 12، 2015 3:49 صبح
قوم کی آس نہ ٹوٹے آخر
ان کو زنجیر کئے دیتے ہیں
پہلے مصرعے میں لفظ "آخر" کا کیا محل ہے؟
شعر سے لگ رہا ہے کہ قوم ہی کو زنجیر کرنے کی بات ہو رہی ہے، کہ شاید یہ قوم زنجیر ہونا ہی پسند کرتی ہے؟ یہاں عجزِ بیان ہے صاحب!
محمد یعقوب آسی — مارچ 12، 2015 3:54 صبح
خواب جو دیکھے کئی برسوں سے
ان کی تعبیر کئے دیتے ہیں

پہلے مصرعے کو نکھارئیے۔ خواب دیکھے جو گئے برسوں میں؟
تعبیر کرنا کے معانی کسی قدر مختلف ہیں۔ یا تو کہئے کہ ان کو تعبیر کئے دیتے ہیں؛ پھر بھی ردیف کا مسئلہ اپنی جگہ موجود ہے۔
آپ کے ہاں تعقیدِ لفظی بہت ہے، اس سے گریز کیا کیجئے۔ دوسرے یہ کہ مصرعے کے اندر الفاظ کو ذرا سا ادھر ادھر کرنے سے اخفاء کی ضرورت باقی نہ رہے تو اچھا ہے نا! ۔
محمد یعقوب آسی — مارچ 12، 2015 3:57 صبح
سوزشِ عشق نہ سمجھے کوئی
اس کی تفسیر کئے دیتے ہیں
اس میں ابہام در آیا ہے۔ نہ سمجھے (فعل مضارع کا استعمال)۔ یہاں دو مفہوم بن رہے ہیں۔ (1) حال کے معانی میں: کوئی نہیں سمجھ رہا، (2) مضارع یا امر غائب کے معانی میں: کوئی ایسا نہ سمجھ لے یا سمجھ بیٹھے۔ اپنے قاری کو اس ابہام سے نکالئے۔
محمد یعقوب آسی — مارچ 12، 2015 3:59 صبح
راہبر بھول گئے را ہبری
کوئی تدبیر کئے دیتے ہیں
یہاں بھی وہی ردیف کا مسئلہ ہے۔
یہی مضمون کئی شعرا باندھ چکے ہیں اور اس سے بہتر انداز میں باندھ چکے ہیں۔ یا تو کوئی نئی بات، نیا نکتہ، نئے معانی پیدا کیجئے، یا پھر ایک مسلسل واقع ہونے والی بات کو کسی نئے رخ سے دیکھئے۔
محمد یعقوب آسی — مارچ 12، 2015 4:00 صبح
پھر سے اک بار ادا مل کے ہم
رسمِ شبیرؔ کئے دیتے ہیں

گویا رسمِ شبیر ادا کرنا ذرا سا کام ہی تو ہے؟ "کئے دیتے ہیں"؟ ۔۔
محمد خلیل الرحمٰن — مارچ 12، 2015 4:13 صبح
ہجوں کے لیے مدد درکار ہے
کیے
کیجیے
ہوگا یا
کئے
کیجئے
ادب دوست — مارچ 12، 2015 8:05 صبح
اس میں ابہام در آیا ہے۔ نہ سمجھے (فعل مضارع کا استعمال)۔ یہاں دو مفہوم بن رہے ہیں۔ (1) حال کے معانی میں: کوئی نہیں سمجھ رہا، (2) مضارع یا امر غائب کے معانی میں: کوئی ایسا نہ سمجھ لے یا سمجھ بیٹھے۔ اپنے قاری کو اس ابہام سے نکالئے۔

سوزش عشق نہ سمجھے کوئی
اس کی تفسیر کئے دیتے ہیں
یہ ابہام مجھے بھی محسوس ہوا تھا مگر بیان کیسے کیا جائے یہ سمجھ نہیں آرہا تھا - بہت نوازش آپ کی آپ نے عمدگی سے بیان کیا - اس غزل پر آپ کی تنقید سے یقین کیجئے میں نے بہت کچھ سیکھا ہے .
محمد یعقوب آسی — مارچ 12، 2015 9:51 صبح
ہجوں کے لیے مدد درکار ہے ۔۔۔ کیے، کیجیے ہوگا یا کئے، کیجئے

اصولی طور پر سبز رنگ والے درست ہیں۔ مگر میری عادت سرخ رنگ والوں پر پختہ ہو چکی ہے، اس کا کیا کروں!
فاروق احمد بھٹی — مارچ 12، 2015 11:48 صبح
گویا رسمِ شبیر ادا کرنا ذرا سا کام ہی تو ہے؟ "کئے دیتے ہیں"؟ ۔۔
بہت بہت نوازش ایک دفعہ پھر سے استاد محترم کہ آپ ذرہ نوازی فرما رہے ہیں بہت کچھ سیکھنے کو مل رہا ہے جو کہ بغیر استاد صرف کتابوں سے حاصل کرنا قریب قریب ناممکن ہے اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے
فاروق احمد بھٹی — مارچ 13، 2015 1:06 شام
استاد گرامی جناب محمد یعقوب آسی صاحب فورم کا سکوت مجھ سے دیکھا نہیں جاتا اس لیے ایک غزل اور برائے تنقید نیلے رنگ والے مصرع کو عروضی حوالے سے بھی دیکھ لیجئے
آتشِ عشق جلا دے مجھ کو
پھونک دے راکھ بنا دے مجھ کو
تیرگی عہدِ رواں کی ہے عجب
صبح کا تارا دکھا دے مجھ کو
آ بھی جا دل کے نگر اے ساقی
دید کا جام پلا دے مجھ کو
زندگی تلخ ہے ذہرابہِ ناب
عشق تریاق، پلا دے مجھ کو
مصلحت تیری عجب ہے ساقی
ہوش کی تُو نہ سزا دے مجھ کو
ہمسفر کون بنے ہے میرا
تو ہی اب ہاتھ ذرا دے مجھ کو
محمد یعقوب آسی — مارچ 13، 2015 3:30 شام
استاد گرامی جناب محمد یعقوب آسی صاحب فورم کا سکوت مجھ سے دیکھا نہیں جاتا اس لیے ایک غزل اور برائے تنقید نیلے رنگ والے مصرع کو عروضی حوالے سے بھی دیکھ لیجئے
آتشِ عشق جلا دے مجھ کو
پھونک دے راکھ بنا دے مجھ کو
تیرگی عہدِ رواں کی ہے عجب
صبح کا تارا دکھا دے مجھ کو
آ بھی جا دل کے نگر اے ساقی
دید کا جام پلا دے مجھ کو
زندگی تلخ ہے ذہرابہِ ناب
عشق تریاق، پلا دے مجھ کو
مصلحت تیری عجب ہے ساقی
ہوش کی تُو نہ سزا دے مجھ کو
ہمسفر کون بنے ہے میرا
تو ہی اب ہاتھ ذرا دے مجھ کو

فی الحال ملتوی ۔۔ شکریہ
محمد یعقوب آسی — مارچ 13، 2015 3:37 شام
زندگی تلخ ہے ذہرابہِ ناب
عشق تریاق، پلا دے مجھ کو

ذہر ؟؟ یا زہر ؟؟ ۔۔ زہراب تو سنا ہے، زہرابہ نہیں سُنا؛ چلئے مان لیتے ہیں کہ اس کے معانی زیریلے مشروب کے ہیں تو پھر ناب کیوں کر ہوا؟ (ناب کے معانی لغت سے دیکھ لیں، یہ غالباً اچھے معانی میں آتا ہے)۔
بحر کا یہاں بہر حال کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
محمد یعقوب آسی — مارچ 13، 2015 3:39 شام
ہمسفر کون بنے ہے میرا
تو ہی اب ہاتھ ذرا دے مجھ کو

کتنی سہولت سے یہاں "بنے ہے" کی بجائے "بنے گا" آ سکتا تھا! ترجیح بہر حال آپ کی ہے۔
محمد یعقوب آسی — مارچ 13، 2015 3:40 شام
مصلحت تیری عجب ہے ساقی
ہوش کی تُو نہ سزا دے مجھ کو

دونوں مصرعے بہت دور جا پڑے۔
محمد یعقوب آسی — مارچ 13، 2015 3:42 شام
اس غزل پر میری طرف سے مزید کچھ نہیں، کہ وہی پہلے کی کہی ہوئی باتیں ہیں، خود دیکھ لیجئے گا۔
دیگر احباب کی رائے کا انتظار کیجئے۔
فاروق احمد بھٹی — مارچ 13، 2015 4:19 شام
ذہر ؟؟ یا زہر ؟؟ ۔۔ زہراب تو سنا ہے، زہرابہ نہیں سُنا؛ چلئے مان لیتے ہیں کہ اس کے معانی زیریلے مشروب کے ہیں تو پھر ناب کیوں کر ہوا؟ (ناب کے معانی لغت سے دیکھ لیں، یہ غالباً اچھے معانی میں آتا ہے)۔
انٹرنیٹ پہ ہی سرچ کرنے پر ایک جگہ یہ ملا ہے
زہرابہ : مرکب ہے زہرا اور آب سے بمعنی زہر والا پانی،آخر پہ "ھا" مختفی ہے جو اپنے ماقبل پہ حرکت کو ظاہر کرنے کے لئے لگائی جاتی ہے جیسے قرآن پاک میں "ہاسکتہ" ہے۔
ناب : خالص، اصلی، زہرابہ ناب کا معنی ہوا خالص زہر آلود پانی۔

اور آپ کا بہت بہت شکریہ کے آپ نوازش فرماتے ہیں
محمد یعقوب آسی — مارچ 13، 2015 9:46 شام
انٹرنیٹ پہ ہی سرچ کرنے پر ایک جگہ یہ ملا ہے
زہرابہ : مرکب ہے زہرا اور آب سے بمعنی زہر والا پانی،آخر پہ "ھا" مختفی ہے جو اپنے ماقبل پہ حرکت کو ظاہر کرنے کے لئے لگائی جاتی ہے جیسے قرآن پاک میں "ہاسکتہ" ہے۔
ناب : خالص، اصلی، زہرابہ ناب کا معنی ہوا خالص زہر آلود پانی۔

اور آپ کا بہت بہت شکریہ کے آپ نوازش فرماتے ہیں
ہائے سکتہ کے بارے میں تو مجھے کچھ معلوم نہیں، ہائے مختفی عربی سے خاص نہیں کیا؟ جب زہراب ایک مکمل لفظ ہے تو زہرابہ؟ زہراب کی ب کو حرکت دینے کے لئے کسی ہائے کی ضرورت تو نہیں۔ مثال کے طور پر آبِ رواں، آبِ گم، آب و آتش، آبِ حیات؛ فارسی کی معروف اور مقبول تراکیب ہیں، اور بغیر ہائے کے ہیں۔
خیر! آپ جانئے! دوآبہ ضرور پڑھا ہے، وہ بھی ہندی اسلوب میں بنا ہے۔ اسی اسلوب پر پنجابہ بن سکتا ہو گا، مگر نہیں بنا؛ اب کیا عرض کریں۔
معاملہ علمی نہ ہوتا تو یہاں میرا خاموش رہنا بہتر تھا۔ معذرت خواہ ہوں۔
فاروق احمد بھٹی — مارچ 14، 2015 9:43 صبح
ہائے سکتہ کے بارے میں تو مجھے کچھ معلوم نہیں، ہائے مختفی عربی سے خاص نہیں کیا؟ جب زہراب ایک مکمل لفظ ہے تو زہرابہ؟ زہراب کی ب کو حرکت دینے کے لئے کسی ہائے کی ضرورت تو نہیں۔ مثال کے طور پر آبِ رواں، آبِ گم، آب و آتش، آبِ حیات؛ فارسی کی معروف اور مقبول تراکیب ہیں، اور بغیر ہائے کے ہیں۔
خیر! آپ جانئے! دوآبہ ضرور پڑھا ہے، وہ بھی ہندی اسلوب میں بنا ہے۔ اسی اسلوب پر پنجابہ بن سکتا ہو گا، مگر نہیں بنا؛ اب کیا عرض کریں۔
معاملہ علمی نہ ہوتا تو یہاں میرا خاموش رہنا بہتر تھا۔ معذرت خواہ ہوں۔
معذرت تو میری طرف سے ہونی چاہیے استادِ محترم نہ کہ آپ کی طرف سے مجھے تو سیکھنا ہے تو اگر کوئی کوتاہی میری طرف سے ہوئی ہے تو میں اس کے لئے معذرت خواہ ہوں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%86%D9%82%D8%AF-%D9%88-%D9%86%D8%B8%D8%B1.78618/page-11