شکریہ
شکریہ

راہنمائی فرمانے کے لئے بہت بہت شکریہ استادِ محترم
اس غزل کی بحر ہے: مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن (ہزج مثمن اخرب سالم)
یہ مصرع اسی حالت میں وزن میں نہیں، یوں کر لیں تو وزن میں آجائے گا: لا دے کوئی گوہر تو اے واقفِ فکر و فن
یہ مصرع بھی وزن میں نہیں، یوں کر لیں تو وزن برقرار رہے گا: میں ان سے ہوں نا واقف، ہے خام گمان و ظن
عہد کہن بھی وزن میں نہیں۔ فعلاتن کے وزن پر کچھ چاہیے۔ میرے ذہن میں کوئی صورت فی الحال نہیں
یہاں بھی زبانِ دہن وزن میں نہیں۔ دوسری بات یہ کہ زبانِ دہن کی ترکیب بہت اوچھی ہے۔
عیش و دھن کی ترکیب بھی غلط ہے۔ فارسی اور عربی الفاظ (جیسے عیش) ہندی الفاظ (جیسے دھن) کے ساتھ ترکیب نہیں بناتے۔
اس مصرع میں بھی آسانی کا مد گر رہا ہے، جو کہ ذرا اچھا نہیں لگ رہا۔
صبح کا تلفظ بھی ٹھیک نہیں باندھا گیا۔ بحر سے خارج ہو رہا ہے۔
مصرع بحر میں نہیں!
بہت بہت شکریہ جناب آپ نے قابلِ التفات سمجھا اور اپنی گراں قدر آرا سے نوازا
جی استادِ محترم جیسا آپ کا حکم
واقعی اتنے سارے مسائل بیان کر ڈالے میں نے یقین نہیں ہو رہا میں ذرا غور سے دوبارہ پڑھ لوں ؟ بہت شکریہ جناب حوصلہ افزائی کا وہ کیا کہتے ہیں کے اصل میں حسن دیکھنے والے کی نظر میں ہوتا ہے
ارے حضور
نوازش جناب کوشش کروں گا کے آپ کے حسن ظن پہ پورا اتروں پر وہ کیا ہے کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے


Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%86%D9%82%D8%AF-%D9%88-%D9%86%D8%B8%D8%B1.78618/page-12