یا ناطق کے لہجے میں
نا امیدی سے امید
بےخوابی میں دیکھے خوابخوب کہی جناب
یا پھر شاعر ڈینائل کی کیفیت میں ہے جہاں تو کیا ہے سے خود کو تسلی تو دی جاسکتی ہے
میری ناقص رائے میں "تو" کے بغیر شعر کا حسن مانند پڑ جاتا ہے کسی طور پر بھی اضافی محسوس نہیں ہوتا
جب پہلے مصرعے میں وضاحت کر دی ہے
مجھ ایسے تبصرہ کرنے والے اور اعتراض اٹھانے اور داد دینے والے تو بلاشبہ صرف اپنے ذہن سے ابھرنے والی سوچ و خیال پر کسی بھی" تخلیق " کو ناپتے ہیں ۔ اور جتنی ہماری علمی استعداد ہوتی ہے اسی کے زیر اثر تبصرہ کرتے ہیں ۔ میرے ناقص خیال میں لکھنے اور پڑھنے والے کا " علمی و ذہنی تفادت " ابلاغ کی ترسیل و تفہیم میں کبھی رکاوٹ نہیں بنتا ۔ کوئی بھی تخلیق جب منصہ شہود پر آتی ہے ۔ تو خود اپنا ابلاغ کرتی ہے ۔ جو کہ دیکھنے والے کی ذہنی علمی اور مشاہداتی سطع پر استوار ہوتا ہے ۔۔۔۔۔
کسی بھی مطالعے کی بنیاد تو حقیقتاً ہماری علمی اور فکری استعداد پر ہی ہوتی ہے۔ لیکن اس کا تجزیاتی اور منفعلی پہلو تخلیق کرنے والے کے تراشیدہ پہلؤوں پر بھی لامحالہ ہوتا ہے اور اس تمام تعامل میں پوشیدہ لطف عیاں ہی تب ہوتا ہے جب قاری تخلیق کے ان تراشیدہ پہلوؤں سے اپنی فکر کے زاویوں کو سنورتا ہوا محسوس کرپائے۔جہاں تک انصاف کرنے کا تعلق ہے تو یہ بالکل درست ہے البتہ اس میں علمی سطح اور فکری نقطہ ءنگاہ دونوں عوامل اہم ہو تے ہیں۔
آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں نایاب بھائی سوال بذاتِ خود علم کی ہی ایک کڑی ہے سوال نہیں اٹھے گا تو جواب کیسے آئے گا وضاحت ، تفصیل ، باریکیاں یہ سب علم کے ہی سلسلے ہیں اور بے شک ہم سب اپنی استطاعت کے مطابق سوال کرتے ہیں اور جواب دینے والا اپنی فراست سے ہمارے سوال کو مزید سوالوں میں بھی تقسیم کر سکتا ہے اور مزید تشنگی بھی پیدا کر سکتا ہے حاصل یہ کہ سب علم کے حصول کے ذریعے ہیں یہ جستجو یہ کرید اس کے بغیر علم کا وجود ہی کہاں ہے
شاعر نے کہا تھا
Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%86%D9%82%D8%AF-%D9%88-%D9%86%D8%B8%D8%B1.78618/page-3