السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ.
ماشاء اللہ یہاں پر شعراء کرام کثرت دے پائے جاتے ھیں

لہذا میرے مدد فرمائیں اور یہ بتانے کی زحمت گوارا کریں کہ یہ اشعار کس کے ھیں. مزید اس سلسلے کے پورے اشعار اگر لکھ دیں تو مہربانی ھوگی:
ہم بھی تو انساں ہیں آخر ہم سے یہ نفرت کیسی
سب سے لپٹ کر ملنے والو ہم سے کیوں کتراتے ھویہ کلام حفیظ میرٹھی کاہے مکمل ملاحظہ فرمائیں
مظلوموں کی آہ و فغاں پر برہم کیوں ہو جاتے ہو
شوق نہیں رونے کا ہم کو، تم ہی تو رلواتے ہو
ہم بھی تو انسان ہیں آخر ہم سے یہ نفرت کیسی
سب سے لپٹ کر ملنے والو! ہم سے کیوں کتراتے ہو
ہم سایوں سے ہم وطنوں سے لاشیں پوچھا کرتی ہیں
پیار کی باتیں کرنے والو! قاتل کیوں بن جاتے ہو
پیتے تھے جب تک پیتے تھے، چھوڑی تو بس چھوڑ ہی دی
تم بھی بہکنا چھوڑو یارو، ہم کو کیوں بہکاتے ہو
ہم توجذباتی ٹھہرے، اپنی کہو دانش مندو!
ٹھیس انا کو جب لگتی ہے، تم پاگل ہو جاتے ہو
ہم نے تمھارے ہاتھوں سے بھی سر پہ کفن بندھوایا تھا
تم بھی سرخ سویرے والو! درباری ہوجاتے ہو
کومل کومل غزلوں میں طوفانوں کے پیغام حفیظ
میٹھی میٹھی باتوں سے بھی تم تو آگ لگاتے ہو
"حفیظ میرٹھی—"