یہ اشعار کس کے ھیں؟؟؟

عمر اثری — مئی 7، 2016 3:04 شام
ارے بھئی! کہیں ایسے پڑھا سنا تھا ۔۔۔
وہ اپنے گھر کے دریچے سے جھانکتا کم ہے
تعلقات تو اب بھی ہیں مگر رابطہ کم ہے!!!
جی ھاں ایک ساتھی نے تصدیق کر دی. اور شاید نواز دیوبندی صاحب کا شعر ھے
عمر اثری — مئی 7، 2016 7:25 شام
محترم محمد فرقان صاحب.
پلیز پورے اشعار بتا دیں.
عمر اثری — مئی 7، 2016 7:26 شام
محترم زیک صاحب
براہ کرم رہنمائ فرمائیں
فرقان احمد — مئی 7، 2016 9:15 شام
محترم محمد فرقان صاحب.
پلیز پورے اشعار بتا دیں.

وہ اپنے گھر کے دریچوں سے جھانکتا کم ہے
تعلقات تو اب بھی ہیں ۔۔۔ رابطہ کم ہے
تم اس خموش طبیعت پہ ۔۔۔ طنز مت کرنا
وہ سوچتا ہے بہت ۔۔۔۔ ۔اور بولتا کم ہے

فضول ۔۔۔۔۔۔۔ تیز ہواؤں کو دوش دیتا ہے
اسے ۔۔۔ چراغ جلانے کا حوصلہ ۔۔۔۔ کم ہے
حریفو! خوب اڑاؤ ۔۔۔ سروں پہ خاک اپنے
مِرا چراغ بجھانے کو یہ ہوا ۔۔۔۔۔ کم ہے!
بِلا سبب ہی میاں ۔۔۔ تم اداس رہتے ہو
تمہارے گھر سے تو مسجد کا فاصلہ کم ہے !!!
میں اپنے بچوں کی خاطر ہی جان دے دیتا
مگر غریب کی جان کا معاوضہ کم ہےِ !!!


صاحب! 'اوزان' کی کوئی گارنٹی نہیں ہے، جیسے تیسے ملی ہے، آپ کی نذر کر دی ہے! قبول فرمائیے گا!
عباد اللہ — مئی 7، 2016 9:49 شام
صاحب! 'اوزان' کی کوئی گارنٹی نہیں ہے،
ان اوزان نے بہت لوگوں کو پریشان کر رکھا ہے:)
محمد وارث — مئی 7، 2016 10:35 شام
محترم زیک صاحب
براہ کرم رہنمائ فرمائیں
زیک کو بُلا رہے ہیں یہاں، ایک پنجابی لوک گیت کا مکھڑا یاد آ گیا۔
واجاں ماریاں بھلایا کئی وار وے، کسے نے میری گل نہ سنی
(میں نے بہت صدائیں لگائیں، کئی کئی بار بُلایا لیکن کسی نے مری بات نہ سنی)
زیک — مئی 8، 2016 2:15 صبح

محترم زیک صاحب
براہ کرم رہنمائ فرمائیں
شاعری سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے لہذا مدد نہیں کر سکتا۔
عمر اثری — مئی 8، 2016 2:27 صبح
وہ اپنے گھر کے دریچوں سے جھانکتا کم ہے
تعلقات تو اب بھی ہیں ۔۔۔ رابطہ کم ہے
تم اس خموش طبیعت پہ ۔۔۔ طنز مت کرنا
وہ سوچتا ہے بہت ۔۔۔۔ ۔اور بولتا کم ہے

فضول ۔۔۔۔۔۔۔ تیز ہواؤں کو دوش دیتا ہے
اسے ۔۔۔ چراغ جلانے کا حوصلہ ۔۔۔۔ کم ہے
حریفو! خوب اڑاؤ ۔۔۔ سروں پہ خاک اپنے
مِرا چراغ بجھانے کو یہ ہوا ۔۔۔۔۔ کم ہے!
بِلا سبب ہی میاں ۔۔۔ تم اداس رہتے ہو
تمہارے گھر سے تو مسجد کا فاصلہ کم ہے !!!
میں اپنے بچوں کی خاطر ہی جان دے دیتا
مگر غریب کی جان کا معاوضہ کم ہےِ !!!


صاحب! 'اوزان' کی کوئی گارنٹی نہیں ہے، جیسے تیسے ملی ہے، آپ کی نذر کر دی ہے! قبول فرمائیے گا!
بہت بہت شکریہ. جزاک اللہ خیرا.
آپ نذرانہ پیش کریں اور ہم قبول نہ کریں؟؟؟ یہ کیسا ممکن ھے. ھذا محال فی القیاس بدیع.
شاعر کی تصدیق بھی کر دیں کہ کس کا شعر ھے.
عمر اثری — مئی 8، 2016 2:28 صبح
زیک کو بُلا رہے ہیں یہاں، ایک پنجابی لوک گیت کا مکھڑا یاد آ گیا۔
واجاں ماریاں بھلایا کئی وار وے، کسے نے میری گل نہ سنی
(میں نے بہت صدائیں لگائیں، کئی کئی بار بُلایا لیکن کسی نے مری بات نہ سنی)
لیجئے جناب اب ہم آپ کو دل کی گہرائیوں سے آواز دیتے ہیں کہ آپ میری مدد فرمائیں. امید ہے کہ آپ مطلع فرمائیں گے.
فرقان احمد — مئی 8، 2016 6:14 صبح
بہت بہت شکریہ. جزاک اللہ خیرا.
آپ نذرانہ پیش کریں اور ہم قبول نہ کریں؟؟؟ یہ کیسا ممکن ھے. ھذا محال فی القیاس بدیع.
شاعر کی تصدیق بھی کر دیں کہ کس کا شعر ھے.
محترم عمر اثری صاحب! یہ اشعار جناب نواز دیوبندی سے ہی منسوب ہیں۔ آپ کی اطلاع درست ثابت ہوئی۔ سلامت رہیں۔
عمر اثری — مئی 8، 2016 2:08 شام
محترم عمر اثری صاحب! یہ اشعار جناب نواز دیوبندی سے ہی منسوب ہیں۔ آپ کی اطلاع درست ثابت ہوئی۔ سلامت رہیں۔
جزاک اللہ خیرا.
اللہ الآپکے علم میں اضافہ عطا فرمائے.
مزمل حسین — جون 3، 2016 4:31 شام
منیر اس شہر پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے
کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ
محمد وارث صاحب،
کیا اس شعر کا دوسرا مصرع بحر میں ہے؟
محمد وارث — جون 3، 2016 5:50 شام
منیر اس شہر پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے
کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ
محمد وارث صاحب،
کیا اس شعر کا دوسرا مصرع بحر میں ہے؟
جی بحر میں ہے، آپ کو کیا اشکال ہوا ہے؟
اور پہلے مصرعے میں شہر کی بجائے مُلک ہے۔
مزمل حسین — جون 4، 2016 1:14 شام
جی بحر میں ہے، آپ کو کیا اشکال ہوا ہے؟
اس کا مطلب "حرکت" کی "ر" ساکن ہے۔ میں اسے متحرک ہی پڑھتا رہا۔
اور پہلے مصرعے میں شہر کی بجائے مُلک ہے۔
بجا فرمایا آپ نے، میں ہر بار نادانستہ طور پر ملک کو شہر سے بدل دیتا ہوں۔
محمد وارث — جون 4، 2016 4:15 شام
اس کا مطلب "حرکت" کی "ر" ساکن ہے۔ میں اسے متحرک ہی پڑھتا رہا
۔
آپ یقینا درست پڑھتے رہے ہیں، لیکن بات یہ ہے کہ عربی کے کئی ایک الفاظ جن میں پے درپے حرکت ہے اردو میں اکثر وہ درمیانی حرف کے سکون کے ساتھ مستعمل ہیں اور فصیح ہیں، حرکت ان میں سے ایک ہے، برکت بھی ایسا ہی لفظ ہے۔
مزمل حسین — جون 4، 2016 4:46 شام
آپ یقینا درست پڑھتے رہے ہیں، لیکن بات یہ ہے کہ عربی کے کئی ایک الفاظ جن میں پے درپے حرکت ہے اردو میں اکثر وہ درمیانی حرف کے سکون کے ساتھ مستعمل ہیں اور فصیح ہیں، حرکت ان میں سے ایک ہے، برکت بھی ایسا ہی لفظ ہے۔
بہت شکریہ سر۔ کیا میں جان سکتا ہوں کہ عربی الفاظ کی حرکات میں تبدیلی کا کیا قاعدہ ہے اور کیا اردو میں حرکت اور برکت کو اصل تلفظ (ر متحرک) کے ساتھ نظم کیا جا سکتا ہے؟
محمد وارث — جون 4، 2016 11:09 شام
بہت شکریہ سر۔ کیا میں جان سکتا ہوں کہ عربی الفاظ کی حرکات میں تبدیلی کا کیا قاعدہ ہے اور کیا اردو میں حرکت اور برکت کو اصل تلفظ (ر متحرک) کے ساتھ نظم کیا جا سکتا ہے؟
یہ تو کسی قواعد کی کتاب ہی سے علم ہوگا۔ ویسے ان الفاظ کو اصل تلفظ کے ساتھ بھی باندھ سکتے ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ مقامی تلفظ اتنا رایج ہے کہ ہو سکتا ہے کوئی ناواقف اصل تلفظ ہی پر اعتراض جڑ دے :)
ادب دوست — اگست 5، 2016 7:41 شام
ویسے سائنٹیفیکلی کئی تارے در حقیقت سورج سے کئی گنا زیادہ روشن بهی ہیں اور کئی گنا بڑے بهی.

واقعی؟;);)
بہت ترقی کرلی بھئی سائنس نے ۔۔۔ :p:p
Hedayatullah — اگست 6، 2016 7:37 صبح
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ.
ماشاء اللہ یہاں پر شعراء کرام کثرت دے پائے جاتے ھیں:D
لہذا میرے مدد فرمائیں اور یہ بتانے کی زحمت گوارا کریں کہ یہ اشعار کس کے ھیں. مزید اس سلسلے کے پورے اشعار اگر لکھ دیں تو مہربانی ھوگی:
ہم بھی تو انساں ہیں آخر ہم سے یہ نفرت کیسی
سب سے لپٹ کر ملنے والو ہم سے کیوں کتراتے ھو

یہ کلام حفیظ میرٹھی کاہے مکمل ملاحظہ فرمائیں
مظلوموں کی آہ و فغاں پر برہم کیوں ہو جاتے ہو
شوق نہیں رونے کا ہم کو، تم ہی تو رلواتے ہو
ہم بھی تو انسان ہیں آخر ہم سے یہ نفرت کیسی
سب سے لپٹ کر ملنے والو! ہم سے کیوں کتراتے ہو
ہم سایوں سے ہم وطنوں سے لاشیں پوچھا کرتی ہیں
پیار کی باتیں کرنے والو! قاتل کیوں بن جاتے ہو
پیتے تھے جب تک پیتے تھے، چھوڑی تو بس چھوڑ ہی دی
تم بھی بہکنا چھوڑو یارو، ہم کو کیوں بہکاتے ہو
ہم توجذباتی ٹھہرے، اپنی کہو دانش مندو!
ٹھیس انا کو جب لگتی ہے، تم پاگل ہو جاتے ہو
ہم نے تمھارے ہاتھوں سے بھی سر پہ کفن بندھوایا تھا
تم بھی سرخ سویرے والو! درباری ہوجاتے ہو
کومل کومل غزلوں میں طوفانوں کے پیغام حفیظ
میٹھی میٹھی باتوں سے بھی تم تو آگ لگاتے ہو
"حفیظ میرٹھی—"
Hedayatullah — اگست 6، 2016 7:44 صبح
مظلوموں کی آہ و فغاں پر برہم کیوں ہو جاتے ہو
شوق نہیں رونے کا ہم کو، تم ہی تو رلواتے ہو
ہم بھی تو انسان ہیں آخر ہم سے یہ نفرت کیسی
سب سے لپٹ کر ملنے والو! ہم سے کیوں کتراتے ہو
ہم سایوں سے ہم وطنوں سے لاشیں پوچھا کرتی ہیں
پیار کی باتیں کرنے والو! قاتل کیوں بن جاتے ہو
پیتے تھے جب تک پیتے تھے، چھوڑی تو بس چھوڑ ہی دی
تم بھی بہکنا چھوڑو یارو، ہم کو کیوں بہکاتے ہو
ہم توجذباتی ٹھہرے، اپنی کہو دانش مندو!
ٹھیس انا کو جب لگتی ہے، تم پاگل ہو جاتے ہو
ہم نے تمھارے ہاتھوں سے بھی سر پہ کفن بندھوایا تھا
تم بھی سرخ سویرے والو! درباری ہوجاتے ہو
کومل کومل غزلوں میں طوفانوں کے پیغام حفیظ
میٹھی میٹھی باتوں سے بھی تم تو آگ لگاتے ہو
"حفیظ میرٹھی—"

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DB%8C%DB%81-%D8%A7%D8%B4%D8%B9%D8%A7%D8%B1-%DA%A9%D8%B3-%DA%A9%DB%92-%DA%BE%DB%8C%DA%BA%D8%9F%D8%9F%D8%9F.89784/page-3