اُس نے مجھے سگریٹ سمیت قبول کیا تھا، سگریٹ تو میں نکاح سے عین پہلے بھی پی رہا تھا اور بعد بھی
میرے بہنوئی (میری ایک کزن کے شوہر جو مجھ سے عمر میں کافی بڑے ہونے کے باوجود اچھے دوست بھی ہیں) نے بڑا اچھا گر بتایا تھا۔
جب میں نے ان سے پوچھا کہ آپ شادی کے بعد بھی سگریٹ پی رہے ہیں! باجی نے سگریٹ چھڑوائے نہیں اب تک؟
تو کہنے لگے کہ میں نے اسے جذباتی داؤ پیچ کے ساتھ ہینڈل کر لیا ۔
میری جانب سے تفصیل پوچھنے پر بتایا کہ اس نے تو اصرار کیا تھا سگریٹ نوشی ترک کروانے پر لیکن میں نے اسے کہا کہ دیکھو! یہ ماں کی توہین ہو گی۔۔۔ وہ ماں جس نے مجھے جنم دیا، پال پوس کر بڑا کیا، اس کا حق بہت زیادہ ہے لیکن میں نے اس ماں کے کہنے پر سگریٹ نوشی ترک نہیں کی۔۔۔ آج اگر میں بیوی کے کہنے پر ترک کر دوں تو اول تو میرا ضمیر مجھے تا زندگی ملامت کرتا رہے گا اور دوم میری ماں کے دل پر کیا گزرے گی۔ لہٰذا آج کے بعد سگریٹ چھوڑنے کو مت کہنا۔ میں نہ تمہیں چھوڑ سکتا ہوں اور نہ سگریٹ۔
کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا جیسا ایک لطیفہ میں ہوا ۔
ایک بندے کی شادی ہوئی تو بارات والے دن اس نے ایک شادی شدہ دوست سے ، جس کی بیوی اس سے بہت امپریس تھی، پوچھا۔ "کہ مجھے بھی اپنی بیوی کو امپریس کرنے کا کوئی طریقہ بتاؤ؟"
دوست بولا"ایک ترکیب ہے۔ تم سگریٹ بہت پیتے ہو۔ کمرے میں جاتے ہی سگریٹ لگا لینا۔ اسے برا لگے گا تو تم کہنا"آپ کو سگریٹ پینا برا لگا ہے ؟ کہیں تو میں سگریٹ چھوڑ دوں"
بندے نے ایسا ہی کیا۔ پہلی رات کمرے میں جاتے ہی سگریٹ لگا لیا۔ تو نئی دلہن نے اس کی طرف غور سے دیکھا۔
وہ بولا" جناب! سگریٹ برا لگدا تے حکم کرو سگریٹ چھڈ دیاں؟"
(سگریٹ برا لگتا ہے تو بتائیں سگریٹ چھوڑ دوں؟)
بیوی بولی " نہیں ! میں کہن لگی ساں جے گولڈ لیف اے تے 2 کش مینوں وی لوانا"
(نہیں، اگر گولڈ لیف کا سگریٹ ہے تو 2 کش مجھے بھی لگوا دیں )
