یہ اصطلاح شاپر اعظم کسی کے لیے مخصوص نہیں ہے۔ کوئی بھی اپنا مقام بڑھا کر اس مقام عالی کا حقدار ہو سکتا ہے۔ آپ اپنے آپ کو یوں ابجد خواں نہ سمجھیں۔ انکساری ٹھیک لیکن اپنے ہی فن کی ناقدری بھی درست نہیں۔
یہ اصطلاح شاپر اعظم کسی کے لیے مخصوص نہیں ہے۔ کوئی بھی اپنا مقام بڑھا کر اس مقام عالی کا حقدار ہو سکتا ہے۔ آپ اپنے آپ کو یوں ابجد خواں نہ سمجھیں۔ انکساری ٹھیک لیکن اپنے ہی فن کی ناقدری بھی درست نہیں۔
شاپری ہوتے ہیں شاپر بنانے والے ..۔ دغا تو آپ سے سیکھے کوئی ..۔۔ پہلی دفعہ آپ کو دیکھا اس لڑی میں انعام ڈبل ..گویا تقاضہ شاپری ہے
ہم تو اس محفل میں نئے ہیں ..۔ آپ آئیں قیام و طعام کریں تاکہ آپ سے سب سے بڑا شاپر بنانا سیکھا جائے. کل کو آپ نہ ہوئے تو ہم آپ کے جانشین بننے کو تیار ..استادِ محترم شاپری
ہائے۔۔۔ کیا خاک ہوئے وہ آداب تلامذہ۔۔۔۔ یاد نہیں آتا ہمیں کہ ہم نے بھی کبھی کسی استاد کے "کل نہ ہونے" کا تذکرہ بھی کیا ہو۔۔۔ صد حیف یادداشت کہ اب یہ بھی یاد نہیں کہ کبھی کسی کو استاد بھی کہا کہ نہین۔۔۔۔۔
"کل کو آپ نہ ہوئے" سن کر بڑا افسوس ہوا۔ آج کل کے شاگرد (وہ جو ابھی شاگرد ہوئے بھی نہیں) سب سے پہلے استاد کی جانشینی کے خواب دیکھتے ہیں چاہے ان کو اس مقام تک بٹھانے کے لیے اپنے استاد کو جان سے کیوں نہ گزار دینا پڑے۔
اجی ہم اور دغا؟ ایسا ہرگز ممکن نہیں۔ ہم تو نہایت معصومیت سے کہہ بیٹھے کہ دوسری بار خوش آمدید کہہ رہے ہیں تو دو بار تو شکریہ بنتا ہے ورنہ شاپری تو یہ ہوتی کہ ہم اس بات پر ڈٹ جاتے اور لگے ہاتھوں برہم بھی ہو جاتے کہ ایک تو دو دو بار خوش آمدید کہو اور کوئی شکریہ کا ایک لفظ دو بار کہنے سے بھی کترائے۔
Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85-%D8%B9%D9%84%DB%8C%DA%A9%D9%85.81845/page-8