امن ایمان۔ ۔ ۔ بات سمجھ نہیں آئی۔۔؟
میری معذرت کہ میں نے بات کو اتنا گنجلک بنادیا جو آپ کو سمجھ نہیں آئی، کہنے کا مطلب یہ تھا کہ جب کسی موقع پر یا کسی کی فرمائش پر کچھ لکھنا پڑتا ہے تو مزا نہیں آتا۔ مجھے یہ تو نہیں پتہ کہ تک بندیاں کیا ہوتا ہے ۔۔ ۔۔لیکن نیناں آپ کی شاعری میں بہت سچ ہے۔۔ وہ سچ جو کہ بہت کم لوگ بیان کرتے ہیں۔ اور آپ کی شاعری بہت تلخ بھی ہے اکثر جگہ۔۔اب پتہ نہیں آپ نے کبھی یہ نوٹ کیا ہے یا نہیں۔۔؟
امن آّپ کے جواب سے علم ہوا کہ آپ نے میری شاعری کا بغور مطالعہ کیا ہے، خوشی ہوئی۔
میں اپنی کتاب شائع ہونے کے بعد جب اسلام آباد گئی تو اکیڈمی آف ادبیات پاکستان اسلام آباد میں جناب افتخار عارف سے تین دن برابر ملاقات رہی باتوں کے دوران وہ روز ہی میری کتاب کا مطالعہ بھی کرتے جاتے، ساتھ ساتھ قیمتی مشوروں سے بھی نوازتے رہے،
اکیڈمی کی جانب سے میرے اعزاز میں ایک بہت بڑا مشاعرہ کیا گیا جس میں اسلام آباد اور راولپنڈی کے تمام نامی گرامی شعرا کو مدعو کیا گیا تھا،صرف ایک شاعر کو دعوت دینے کے لئے میں نے کہا تھا اور وہ تھے اعتبار ساجد کہ ان کی شاعری سے میں کافی متاثرہوں،
اس مشاعرے میں ان سب بڑی شخصیات نے میری شاعری کو بیحد سراہا،
خیر قصہ مختصر، جناب افتخار عارف نے آخری دن مجھے ایک بات کہی جس سے اندازہ ہوا کہ ظاہری شخصیت سے اندر کی کیفیت کو پہچاننا ممکن نہیں۔
شاعری الفاظ کو جذبات کا روپ دیتی ہے، جذبات کو یہی الفاظ روح کی گہرائی تک محسوس کرواتے ہیں کبھی رنگ طرب چھلکتا ہے تو کبھی المیہ انداز دل کو گداز بخشتا ہے،
محنت اور ریاضت اس فن کی بلندی کے لیئے ضروری ہے، جب بھی میں کوئی ایسا کلام پڑھتی ہوں جو ان محسوسات کا احاطہ کرتا ہے تو اپنے لکھے ہوئے سے تسلی نہیں ہوتی، اسی لئے مجھے تک بندیوں سے تشبیہ دینی پڑی،
اپنے جذبات کے اظہار کی مہارت ہی شاعری ہے اور مجھے لگتا ہے کہ میں ابھی تک اس قدرت کو حاصل نہیں کرسکی۔
جہاں تک سچائی یا تلخی کا تعلق ہے تو لکھتے ہوئے جو محسوس ہوا وہی لکھا،
ظاہری آن بان اور شخصیت سے الگ ایک اندر کی دنیا بھی ہوتی ہے جس کے بارے میں کبھی کبھی آپ خود بھی پوری طرح واقف نہیں ہوتے۔۔۔!
اسی پس منظر میں جب کوئی آپ کو پرکھتا ہے تو بعض اوقات ایسا سماں ہوتا ہے جیسے دور سمندر کے کنارے پر زمین آسمان ملنے کا حقیقت میں فرق !
‘‘ان کے دیکھے سے جو آجاتی ہے منہ پہ رونق
لوگ کہتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے‘‘ واقعی آپ پہچان لیتی ہیں کیا۔۔؟؟ میرے خیال سے ایسا صرف چھوٹے لوگ کرتے ہیں۔۔بڑے شاعر ایسا نہیں کرتے۔۔آپ کیا کہیں گیں۔؟
امن، میں تو آج تک اپنے آپ کو نہیں پہچان سکی،دوسروں کی تو بات ہی کیا۔
جب میں نے شاعری کی دنیا میں قدم رکھا تو میں پردیس میں تھی، میرے ارد گرد کوئی ادبی حلقہ نہیں تھا، تمام لکھنے والوں کے کلام سے واقف تھی شخصیات سے نہیں!
بہر الحال جب میرا ایکسپوژر ہوا اور مجھے ان سب سے ملاقاتوں کے مواقع ملے تب قول و فعل کا تضاد دیکھ کر زیادہ تر بت ایک ایک کرکے ٹوٹ گئے!
یہ نرم و لطیف جذبات کو پیش کرنے والے ایک دوسرے کے اسقدر خلاف دیکھے کہ جیسے پتھر مارنے کے لئے ڈھونڈ رہے ہوں پر مل نہیں رہا،سب کے سب اپنے آپ کو ابن الوقت سمجھتے ہیں اور ماں کے پیٹ سے سیکھے سکھائے پیدا ہوئے تھے!
بہت سی خوبصورتیاں بد صورتیوں میں بدلنے پر میں خود حیرت کدے میں ہوں۔
میں نے اسی تناظر میں آپ کو جواب دیا تھا، آپ کو بد دل کرنا مقصد نہ تھا، اس بحر بے کنار میں کچھ گوہر صفت شخصیات بھی کبھی کبھار مل جاتی ہیں جن کی وجہ سے بھرم قائم ہے۔