اب تو وہ ایک اڈلٹ ہے لیکن میں ہمیشہ سے اس سے برابری کی سطح پر بات کرتا ہوں۔ اس سے اپنے خیالات شیئر کرتا ہوں اور اسے اینکریج کرتا ہوں کہ وہ بھی ہر بات مجھ سے شیئر کرے چاہے وہ بری ہی کیوں نہ ہو۔ یہاں تک اسے کہا ہوا ہے کہ وہ اگر کوئی قتل کرے تو فوری مجھے بتائے۔ میں پہلا کام پولیس کو فون کروں گا اور ساتھ ہی اس کے لئے بہترین وکیل بھی۔ مقصد یہی ہے کہ صرف اچھی باتیں نہیں بتانیں بلکہ سب کچھ۔
ہماری بہت اچھی دوستی ہے اور ہم اکٹھے ہوں تو ہر قسم کے ذاتی سے یونیورسل موضوع پر لمبی گفتگو کرتے ہیں۔ ویسے بھی تقریبا روزانہ ٹیکسٹ یا سنیپ کرتے ہیں۔
جہاں تک سختی کی بات ہے تو اس میں میں یقین نہیں رکھتا۔ اب تو وہ اڈلٹ ہے لہذا اپنے فیصلے خود کرتی ہے اور ہمیں بخوشی قبول ہیں کہ ہم اس پر اعتماد کرتے ہیں۔ جب بچی تھی تو کچھ اصول تھے جن پر عمل لازم تھا۔ ان کی تعداد کم سے کم رکھی اور اسے نہ صرف حکم سنایا بلکہ یہ واضح بھی کیا کہ کیوں یہ ضروری ہے اور اس طرح اسے کنونس کیا۔
بات یہ ہے کہ ہمیں بچوں کو اڈلٹ لائف کے لئے تیار کرنا ہوتا ہے۔ یہ تبھی ممکن ہے جب ہم اپنے فیصلے، سوچ بچار وغیرہ سب ان سے شیئر کریں۔
نوٹ: میری اردو زنگ آلودہ ہو چکی ہے لیکن پھر بھی کیا اڈلٹ لائف کا کوئی اچھا اردو متبادل ہے؟ مجھے اکثر لگتا ہے کہ پاکستانی اپنے جوان اور ادھیڑ عمر کے بچوں کو بھی بچہ ہی سمجھتے ہیں۔
بہت عمدہ اور شاندار طرزِ عمل ہے۔ this is how it should be
اس کے برعکس ہمارے ہاں کا عمومی (بولے تو 99 فیصد) چلن وہی ہے جو آپ نے آخری فقرے میں کہا۔
کسی دل جلے نے کچھ ایسی ٹویٹ کی تھی کہ۔۔۔ ہمارے ہاں بڑھاپا دوسروں کی جوانیاں برباد کرنے کے کام آتا ہے۔