خاصا تپ کے جواب دیا ہے ۔۔۔ محب ایسا بالکل نہیں ہے ۔۔ قیصرانی بہت جلدی بے تکلف ہونے والے انسان ہیں۔۔اور کچھ ان کو بھی شکریہ کہنے کی خاصی عادت ہے تو بس اس لیے ان کے ساتھ شکریہ برائے شکریہ چلتا رہتا ہے۔۔۔اور کوئی بات نہیں ہے
خاصہ ایک طرف ذرا بھی تپ کر جواب نہیں دیا کیونکہ اس طرح جواب دینے کی تو عادت ہی نہیں البتہ لطیف طنز کرنے کی عادت ضرور ہے وہ کیا تھا
جی بالکل آپ بنا کے رکھنے والے ہیں۔۔لیکن یہاں میری سمجھ کا بھی قصور ہے نا۔۔مجھے آپ کی اتنی بڑی بڑی اور گہری باتیں تھوڑا دیر سے سمجھ آتی ہیں
اس انٹر ویو میں شاید تھوڑی ہوگئی ہوں ورنہ عموما تو ایسا نہیں ہوتا ، اب سوال بھی تو مشکل مشکل تھے اس لیے لمبے لمبے جواب دینے پڑے اور کچھ جگہوں پر سمجھا نہیں جا رہا تو اور طویل اور گہرے ہو گئے ، سارا تمہارا اپنا قصور ہے
محب کبھی کبھی اس طرح کی شعوری کوشش انسان کو بہت تھکا بھی دیتی ہے ۔۔اور دل چاہتا ہے کہ بس کوئی بہت اپنا ہو جس کے سامنے انسان پوری طرح کھل جائے۔۔۔ لیکن میں اب آپ کو اور تنگ نہیں کروں گی۔۔: )
شعوری کوشش تو نہیں کی کبھی مگر اگر کوئی نہ پوچھے تو خود سے بتاتا بھی نہیں ورنہ پوچھنے پر تو داستانیں سنا ڈالتا ہوں ، دیکھا نہیں سب سے طویل جواب میں نے ہی دیے ہیں

۔ میں نے کب کہا کہ مجھے تنگ نہ کیا جائے میں تو خود تنگ کرنے میں پیش پیش ہوتا ہوں ، ماورا کے انٹر ویو پر سب سے زیادہ تنگ کرنے والے سوال میرے ہی ہیں
بہت شکریہ اور یہ ذرہ نوازی ہے آپ کی۔۔۔ورنہ مجھ سے پوچھیں تو میں اب بھی وہی بات کہوں گی جو کہ کہتی آ رہی ہوں ۔۔۔کہ مجھے محب سمجھ نہیں آئے ۔۔۔ محب اس ٹاپک کو شروع کرنے کا مقصد بھی صرف یہی تھا کہ ہماری ذات جو اس دنیا کی افراتفری میں کہیں کھو گئی ہے ۔۔اسے تلاش کیا جائے۔۔ہمیں کیا پسند ہے۔۔کیا نہیں پسند ۔۔۔کیا کھویا۔۔کیا پایا۔۔اس سود و ضیاع کا حساب کیا جائے۔۔۔۔ اور بس۔۔: )
آ جائے گی بلکہ آ رہی ہے کسی الجبرے کے سوال کی طرح ، اب کیا رٹا لگانا ہے محب کا
ویسے یہ ہے کہ پسند نا پسند اور سود و ضیاع کا احساس پھر سے ہورہا ہے اور بھولے ہوئے عہد اور مقاصد یاد آرہے ہیں۔
ہ آپ کی زندگی کا کوئی خاص مقصد۔۔یا خواہش۔۔جس کے پورا ہونے تک آپ زندہ رہنا چاہتے ہوں؟
زندگی کا کوئی ایک مقصد تو نہیں ہے مگر تین چار مقاصد ہیں وہ ایک دوسرے سے مربوط ہیں ان کا ذکر کرتا ہوں۔ ایک مقصد سے زیادہ خواہش یہ ہے کہ بہت زیادہ علم حاصل کروں اور جب جہانِ فانی سے جاؤں تو عاِلم کے طور پر یاد رکھیں، ابھی تو زیادہ وقت نہیں دے پا رہا مگر کوشش یہ ہے کہ مطالعہ اور حصول علم وقت سے بڑھے کم نہ ہو۔ اب مقاصد کی طرف آتا ہوں جو مقاصد سے زیادہ خواب ہیں
1۔اردو کو اس کے اصل مقام تک دیکھنا ، عالم میں زبانوں کے اونچے سنگھاسن پر جہاں دیکھ کر پھر کوئی اردو بولنے میں شرمندگی اور ہچکچاہٹ محسوس نہ کرے اور انگریزی کے احساسِ کمتری میں مبتلا نہ ہو۔
2۔ پاکستان کی ترقی اور استحکام ایسا کہ وہ اقوام عالم میں ایک ترقی یافتہ اور سرفراز ملک کے طور پر جانا جائے ۔
3۔ عالم اسلام اپنی موجودہ تنزلی کی حالت سے باہر آجائے اور ایک قوت کے طور پر ابھرے، کم از کم اس مقام تک ضرور آ جائے کہ مسلمانوں کو بطور مسلمان شک اور حقارت کی نگاہ سے نہ دیکھا جائے بلکہ اہم اور محترم گردانا جائے۔
یہ سب ایسے خواب ہیں جن میں سے ایک بھی زندگی میں پورا ہوتا دیکھ لوں تو سمجھوں گا کہ زندگی کا سفر کامیاب رہا۔