چونکہ محفل میں ہر ایک کو اپنی رائے کی آزادی کا حق ہے لہذا میں بھی اپنی ناقص سمجھ کے مطابق اپنی رائے کے اظہار کی جسارت کر رہی ہوں۔ امید ہے کہ منتظمین اور اہل محفل اسے کھلے دل سے تسلیم کریں گے۔ میں اپنی رائے کسی پر مسلط کرنا نہیں چاہتی اور یہ بھی ضروری نہیں کہ میری رائے سو فیصد درست ہو بلکہ عین ممکن ہے کہ میں غلطی پر ہوں لیکن زیک بھائی کی پوسٹ
’’ اگر ظفری کی تحریر پڑھنے سے کام نہ بنے تو کئ بار لکھنے کی مشق کریں۔‘‘ کی ہدایت کی روشنی میں میں نے دوبارہ ظفری بھائی کی پوسٹ کو غور سے پڑھا اس کی روشی میں کچھ سوالات ذہن میں ابھرے جنہیں لکھنے کی جسارت کرہی ہوں امید ہے کہ ہمیشہ کی طرح وسعت قلبی وشفقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے میری اس جسارت کا برا نہیں منایا جائے گا۔ میری اس پوسٹ سے (خاکم بدہن) کسی کی دل آزاری مقصود نہیں نہ ہی کسی کو تنقید کا نشانہ بنانا مقصود ہے پھر بھی اگر کہیں نادانستگی میں کوئی گستاخی سرزد ہوجائے تو اس کے لئے پیشگی معذرت کی خواست گار ہوں۔ امید ہے کہ میری اس جسارت کو میری بچپنے کی نادانی پر محمول کرکے اس سے صرف نظر کیا جائے گا۔
ہمیشہ کی طرح مصروفیات کی وجہ سے یہ دھاگہ بھی نظروں سے اوجھل رہا ۔ مگر ابھی موقع ملا تو اس کے کچھ صفحات پڑھے ۔ ہمیشہ کی طرح یہاں پھر وہی روایتی رویہ کارفرما رہا جو عموماً مذہب کے معاملے میں کچھ ایسے اہلِ فکر کی طرف سے سامنے آتا ہے ۔ جہاں ہدایت و تلقین کیساتھ صبر وتحمل کا دامن چھوڑ کر اپنی مذہبی حمیت کو اہمیت دی جاتی ہے ۔ جیسا کہ عثمان نے کہا کہ ایسے معاملات میں اتنہائی باریک بینی ، نفسیاتی مطالعہ اور صبر کی ضرورت ہوتی ہے ۔ مگر جب ہم اپنی دلیل کو ضائع ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں تو پھر معاملات کو ایسے قوانین میں گھیسٹ لیتے ہیں ۔ جہاں مخالف کے لیئے حتمی حجت صرف آخرت کی سزا بن جاتی ہے ۔ اور اگر اس مقام پر کسی کے لیئے واپسی کا کوئی راستہ باقی بھی ہوتا ہے تو وہ بھی ناپید ہوجاتا ہے ۔ اور مخالف اپنے موقف پرمزید ڈٹ جاتا ہے ۔
میرے خیال سے جتنے صبروتحمل سے جناب یوسف ثانی صاحب نے سوالات کئے ہیں اس کی مثال کم دیکھنے میں آتی ہے برخلاف Atheist صاحب کے جنہوں نے اکثر سوالات کے جوابات (میری سمجھ کے مطابق) کافی سخت لہجے میں دیئے ہیں۔ دوسرے یہ کہ یوسف ثانی صاحب کے دلائل ایسے بھی نہیں تھے کہ کہیں ایسا محسوس ہوکہ ان کے دلائل ضائع ہورہے ہیں اور نہ انہوں نے حتمی حجت کے طور پر Atheist صاحب پر آخرت کی سزا کا فتوی صادر کیا ہے۔یہ البتہ ضرور ہے کہ انہوں نے اپنی سمجھ کے مطابق Atheist صاحب سے اپنے تئیں بھلائی کی نیت سے انہیں دوبارہ دین اسلام اختیار کی دعوت ضرور دی ہے لیکن اس میں بھی انہوں نے اس بات کا خیال رکھا ہے کہ ان کے ہاتھ سے شائستگی کا دامن نہ چھوٹنے پائے۔
عبداللہ کو میں بہت اچھی طرح جانتا ہوں ۔ بہت ہی خوبصورت دل کا انسان ہے ۔ اور بہت کم عمر ہے ۔
کیا خوب صورت دل کے انسان ہونے کا پیمانہ دین اسلام اور خالق کائنات کا (نعوذ باللہ) مذاق اڑانا اور فساد والے دستخط لگاکر لاکھوں مسلمانوں کی دل آزاری کرنا ہے؟؟؟ اور جو ایسا نہیں کرتا اس کی شخصیت گویا اس کے برخلاف ہے؟؟
کیا کوئی دین اسلام چھوڑ کر مرتد ہوجائے تو اسے اس کے حال پر محض اس لئے چھوڑ دیا جائے کہ وہ بہت کم عمر ہے؟؟ کیا ہم پر اس ملحد کی اصلاح محض اس لئے فرض نہیں ہے کہ وہ بہت کم عمر ہے؟؟ میری ناقص عقل کے مطابق تو کم عمر اگر تباہی کے گڑھے میں گر رہا ہو تو ایسی صورت میں تو بزرگوں کا زیادہ فرض بنتا ہے کہ اسے اس سے پیار ومحبت اور دلائل سے سمجھا بجھا کر روکیں جیسے والدین بچوں کی غلطی پر انہیں روک ٹوک کرتے ہیں کبھی پیار محبت سے، کبھی سمجھا مناکر اور کبھی ناگزیر حالات میں اگر سختی بھی کرنا پڑے تو اس سے بھی دریغ نہیں کرتے کیوں کہ وہ اپنا برا بھلا اس طرح نہیں سمجھ سکتے جس طرح ان کے والدین سمجھتے ہیں۔
زندگی مسلسل نشیب وفراز کا نام ہے۔ جس میں ایسے معاملات بھی آتے ہیں ۔ جن سے انسانی شخصیت اپنے مرکز سے ہٹ جاتی ہے ۔ انسان طرح طرح کے وہم و گمان کا شکار ہوجاتا ہے ۔ اگر انسانی رحجان مذہب کی جانب ہو تو اس میں شدت اور انتہا پسندی اس درجے گماں میں آجاتی ہے کہ اس کو جنت کے حصول کے لیئے کسی کی جان لیتے ہوئے بھی کوئی تردد محسوس نہیں ہوتا ۔ اور اگر مذہب سے دوری ہو تو ایسے حالات میں ٹارگٹ کلرز بن جاتا ہے ۔ اس میں درمیان کے لوگ دہریئے اور مختلف نظریات کے حامی بن جاتے ہیں ۔ جب ہم ہدایت و تلقین کا بیڑا اٹھاتے ہیں تو ہمیں چاہیئے کہ پہلے اچھی طرح مخالف کے حالات اور اس کی نفسیات سے آگاہ ہوجائیں ۔
اکثر لوگ بشمول فورم کے کئی ممبران کے مذہبی رجحان رکھتے ہیں تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ یہ سب لوگ جنت کے حصول کے لئے کسی کی بھی جان بھی لے سکتے ہیں؟؟ایسا ہی اس کے برعکس کہ تمام مذہب سے دور لوگ ٹارگٹ کلرز ہیں؟؟
کیا مذہبی رجحان اور مذہب سے دوری کے درمیان کی کیفیت اپنے دین کو چھوڑ کر دہریہ ہونا اور دوسرے نظریات کا حامل ہونا ہے؟؟
کیا انٹرویو کسی شخص (مخالف) کے مکمل یا اکثر حالات جاننے کا نام نہیں ہے؟؟ اور کیا اس انٹرویو میں مختلف لوگوں کی طرف سےمختلف سوالات کی صورت میں مخالف کے حالات جاننے کی سعی نہیں کی گئی؟؟
کیا یوسف ثانی صاحب نے ہدایت وتلقین کا بیڑا اٹھانے سے پہلے شروع میں بالکل دوستانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے مخالف کی نفسیات کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی تھی؟؟ اور اس سلسلے میں انہوں نے ہی پہل کرتے ہوئے کیا یہ تحریر نہیں کیا کہ فی الحال مذہب کو ایک طرف رکھ کر بات کریں گے؟؟
[
میں نہیں سمجھتا کہ عبداللہ کوئی دہریہ یا کسی منفی نظریات و خیالات کا حامی ہے ۔
قبل ازیں یہ بات کہی گئی کہ:
اس میں درمیان کے لوگ دہریئے اور مختلف نظریات کے حامی بن جاتے ہیں ۔ جب ہم ہدایت و تلقین کا بیڑا اٹھاتے ہیں تو ہمیں چاہیئے کہ پہلے اچھی طرح مخالف کے حالات اور اس کی نفسیات سے آگاہ ہوجائیں ۔
اب ان دونوں میں سے کس بات کو درست مانا جائے؟
دوسرے یہ کہ ایک شخص کھلم کھلا اپنے دہریہ ہونے کا فخریہ اظہار کرتا ہے اور اپنے دہریہ ہونے کےحق میں دلائل بھی دیتا ہے اور بحث بھی کرتا ہے، حتی کہ اپنی آئی ڈی بھی Atheist رکھتا ہے پھر اس کے دہریہ ہونے میں کسی کو کیا شک ہوسکتا ہے؟؟
جہاں تک میں سمجھتا ہوں کہ وہ بھی اسی ذہنی ارتقاء کے عمل سے گذر رہا ہے جیسا کہ سب گذرتے ہیں ۔ ہاں ۔۔۔ حالات اور دیگر معاملات جن سے انسانی نفسیات متاثر ہوتی ہے ۔ اس کی نوعیت شاید عبداللہ کے ساتھ قدرے مختلف ہو ۔ میں یہاں کسی کے خلوص کو بھی موضوعِ تنقید نہیں بنا رہا ہوں ۔ مگر ہمارا خلوص اس وقت بے معنی اور بے وقعت ہوجاتا ہے ۔ جب ہم پس منظر کو نظر انداز کرکے اپنی ذہن میں تخلیق کی ہوئی تصویر سے مخالف کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اس موضوع پر بہت بات ہوچکی میں مذید کیا لکھوں ۔
کم از کم میرے علم میں Atheist صاحب کا ایسا کوئی پس منظر نہیں ہے جس کے تحت ان کے خیالات ونظریات اور نفسیات متاثر ہوئی اور مجھے یقین ہے کہ یوسف ثانی صاحب کے علم میں بھی ایسا کوئی پس منظر نہیں ہوگا۔ اس لئے کم از کم میرے نزدیک یوسف ثانی صاحب کا خلوص بے وقعت اور بے معنی ہرگز نہیں ہے۔
جہاں تک پس منظر نظر انداز کرنے کی بات ہے تو اس انٹرویو میں یوسف ثانی صاحب اور ایک دو اور ساتھیوں نے بھی ابتداء میں پس منظر جاننے کی کوششیں کیں اور اس غرض سے مختلف الجہت سوالات کرکے انہیں بار بار کریدنے کی سعی کی گئی مگر ایسا کوئی پس منظر سامنے نہ آنے کے بعد اصلاح کی کوششیں کی گئیں۔
ایک تحریر بہت پہلے یہیں کہیں میں نے اردو محفل پر پوسٹ کی تھی ۔ میں یہاں دوبارہ پوسٹ کررہا ہوں ۔ شاید اس سے میری بات سمجھنے میں نہ صرف آسانی پیدا ہوسکے ، بلکہ عبداللہ کے پس منظر کو صحیح طور پر سمجھ کر ہم اللہ کی ذات کے بارے میں کوئی ایسی حجت پیش کرسکیں ۔ جس سے یہ پیچیدگی دور ہوجائے ۔ پیغمبروں نے عشروں پہ عشرے ہدایت و تلقین میں لگا دیئے اور ہم چند روز میں اس غریب کے پیچھے ڈنڈے لیکر پڑ گئے ۔
ہدایت وتلقین صرف یوسف ثانی صاحب کررہے تھے اور دیگر تقریبا تمام ساتھی خاموشی سے یہ مکالمہ پڑھ رہے تھے لیکن بعد میں چند باتیں ایسی ہوگئیں جس سے مجھ سمیت کچھ ساتھیوں کے مذہبی جذبات کو شدید ٹھیس پہنچی اور انہوں نے محض اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا اور میرے خیال میں یہ ان کا حق تھا۔ اس سلسلہ میں ہوسکتا ہے کہ ذاتی طور پر میں کچھ زیادہ جذباتی ہوگئی ہوں اور کچھ سخت الفاظ تحریر ہوگئے ہوں لیکن اس میں بھی میں نے گلہ یوسف ثانی صاحب سے ہی کیا ہے لیکن پھر بھی اپنی حد تک میں اپنی ان سخت باتوں کی معافی چاہتی ہوں۔
پوسٹ ملاحظہ ہو ۔
پہلے سمجھیئے پھر سمجھایئے
اختلافات اور ہمارے رویئے ۔ پہلے دوسروں کو سمجھیئے پھر سمجھایئے ۔
ٹرین کے اُس ڈبے میں ہر کوئی خاموشی سے سفر کر رہا تھا۔ اسی اثنا میں ٹرین ایک اسٹیشن پر رکی تو ایک صاحب اپنے چار بچوں کے ساتھ داخل ہوئے۔ بچوں نے آتے ہی اودھم مچانا شروع کر دیا جبکہ ان کا باپ آنکھیں بند کر کے اپنی سیٹ پر نیم دراز ہوگیا۔ بچوں کے شوروغل سے مسافر بہت پریشان ہوئے ہر کوئی یہ توقع کر رہا تھا کہ ان کا باپ مداخلت کر کے ان بچوں کو باز کرے گا مگر وہ بدستور اپنی دنیا میں مگن تھا۔ اس صورت حال میں ایک مسافر کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور اس نے کہا، جناب، توجہ فرمائیے، براہ کرم اپنے بچوں کو اپنے پاس بٹھائیے اور انہیں چیخ و پکار سے منع کیجیے۔ اسکی آواز سے بچوں کا باپ چونکا اور کہنے لگا، ہاں، ہاں شاید آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ مجھے ان کو واقعی منع کرنا چاہیے۔ اصل میں ہم سب ہسپتال سے آرہے ہیں۔ جہاں ابھی دو گھنٹے قبل ان کی ماں کا انتقال ہوگیا ہے۔ اور اصل میں ان بچوں کو بھی یہ سمجھ نہیں آرہا کہ انہیں کیا کرنا چاہیے ۔ مسافر کی اس بات کے ساتھ ہی اُس ڈبے کا ماحول یکسر بدل گیا۔ وہ لوگ جو پہلے اسے بیزاری سے دیکھ رہے تھے، اب اسے ہمدردی سے دیکھنے لگے اور کئی ایک نے تو یہ پیشکش بھی کی کہ وہ اس موقع پر اس کی کیا مدد کرسکتے ہیں۔ یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے اس بات کی کہ دوسرے کے حالات، واقعات اور خیالات نہ جاننے اور سمجھنے کی وجہ سے کس قدر غلط فہمی اور بدگمانی جنم لے سکتی ہے اور اگر یہ سب سمجھ لیا جائے تو پیش منظر اور ماحول کس طرح بدل جایا کرتا ہے۔
ایسی ہی مثالیں 90 کی دہائی کی پنچابی فلموں میں بھی بہت تھیں کہ ایک غنڈہ کشتوں کے پشتے لگاتا جاتا ہے بات بات پر قتل کردیتا ہے، اخلاقیات چھوکر بھی اسے نہیں گزری ہوتیں اور پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس غنڈے کے سامنے بے بس ہوتے ہیں۔ لیکن فلم کی دلچسپ بات یہ ہوتی تھی کہ وہی غنڈہ فلم کا مرکزی کردار ہوتا ہے اور فلم کے درمیان میں جب اس کا پس منظر معلوم ہوتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ وہ غنڈہ تو پہلے انتہائی شریف انسان تھا بعد میں حالات نے اسے ایسا بنادیا۔
یہ تو خیر فلم کی مثال تھی لیکن اگر کہیں حقیقت میں بھی حالات کا مارا کوئی شخص ہتھیار اٹھاکر کسی کی ہتھیا کرلے تو کیا دنیا کا کوئی بھی قانون اسے محض اس بناء پر معاف کردے گا کہ اسے اس پر حالات نے مجبور کیا؟؟
یہی وہ بات ہے جس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت خوبصورت جملے میں بیان کر دیا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ "جو تم اپنے لیے پسند نہیں کرتے وہ دوسرے کے لیے کیوں پسند کرتے ہو؟ "
میری ناقص عقل کے مطابق مجھے یقین ہے کہ یہی حدیث یوسف ثانی صاحب کے بھی پیش نظر ہوگی اور چونکہ وہ اپنے لئے الحاد پسند نہیں کرتے لہذا ان کی ایمانی غیرت یہ گورا نہیں کرسکی کہ وہ اس کو ایک (سابقہ) مسلمان بھائی کے لئے پسند کریں۔
ظفری بھائی میری اس پوسٹ کا مطلب آپ پر تنقید کرنا ہرگز ہرگز نہیں ہے بس اس ضمن میں کچھ سوالات ذہن میں آئے تو اسے حوالہ فورم کردیا۔ میری کوئی بات بری لگی ہو تو دست بستہ معافی کی خواست گار ہوں۔ امید واثق ہے اسے کہ ایک ناسمجھ وناتجربہ کار مبتدی کی بچگانہ حرکت پر محمول کرتے ہوئے صرف نظر فرماکر اعلی ظرفی کا ثبوت دیں گے۔