جاسم بھائی آپ نے اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ کسی بھی چیز کے غلط یا صحیح ہونے کا کوئی پیمانہ ہوتا ہے لیکن یہ پیمانے تو ہم مذہبی لوگوں کے لیے ہیں کسی لادین کو آپ ان پیمانوں کا کیسے پابند کریں گے۔ ایک ملحد جب کسی قسم کی اخلاقیات کو مانتا ہی نہیں ہے اور وہ اس کا فخریہ اظہار بھی کرتا ہے تو آپ اس سے کیسے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ یوسف ثانی صاحب کے اٹھائے گئے سوالات کے جوابات دے۔ مجھے یوسف ثانی صاحب کے اٹھائے گئے سوالات پر اعتراض نہیں انہوں نے بہت زبردست علمی اور قائل کرنے والے سوالات کئے ہیں لیکن اعتراض اس پر ہے کہ غلط شخص سے یہ سوالات کئے جارہے ہیں۔ اس سلسلے میں ہمارے لئے قرآن کی یہ دو آیتیں کافی ہیں:
اذا خاطبھم الجاھلون قالوا سلامًا
لکم دینکم ولی دین
جہاں تک دین اسلام کا مذاق اڑانے سے دین کی افادیت واہمیت کم نہ ہونے کا تعلق ہے تو میرے علم کے مطابق اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ اسے ایسے لادین کے سامنے پیش کیا جائے جسے اخلاقیات کے مفہوم کا بھی علم نہیں اور جو اخلاقی اقدار اپنی ٹھوکر پر رکھتا ہے۔ ایسے شخص سے گفتگو کرنا اور جواب میں خدا تعالی کی ذات اور دین اسلام کے خلاف مغلظات سننا کہاں کی عقل مندی ہے۔ بخاری شریف کی حدیث ہے کمی بیشی اللہ معاف فرمائے:
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ سب سے بڑا کبیرہ گناہ یہ ہے کہ آدمی اپنے ماں باپ کو گالی دے۔” لوگوں نے عرض کی کہ بھلا اپنے ماں باپ کو گالی کون دے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس طرح کہ کوئی شخص کسی کے باپ کو گالی دے اور وہ شخص (جس کو گالی دی گئی ہو جواب میں) اس (گالی دینے والے) کے باپ کو گالی دے .... اور یہ کسی کی ماں کو گالی دے اور وہ اس کے بدلے میں اس کی ماں کو گالی دے۔‘‘
مجھے اقرار ہے کہ یہاں یوسف ثانی صاحب نے ایسی کوئی بات نہیں کی جس کے جواب میں یہ خدشہ ہو کہ کچھ غلط سننے کو ملے گا۔ لیکن یہ وضاحت کئی بار کی جاچکی ہے کہ اصل مسئلہ مخاطب کا ہے کہ وہ کس مزاج کا حامل ہے۔ جہاں تک صحت مندانہ بحث کی بات ہے تو اس کے لئے
یہ لڑی ملاحظہ کریں اور دیکھیں کہ اس میں ایک دوسرے کی بات کو کیسے برداشت کیا گیا ہے۔ میں ذاتی طور پر قادیانیت کے خلاف ہوں لیکن اس بحث میں رانا کو داد دوں گی کہ انہوں نے غلط ہوتے ہوئے بھی کس طرح برداشت کا مظاہرہ کیا گو آخر میں کچھ ذاتیات پر اتر آئے مگر بحیثیت مجموعی ان کا رویہ درست رہا۔
جاسم بھائی اس پوسٹ سے آپ کی بات رد کرنا مقصود نہیں بس تصویر کے دوسرے رخ کا رائے کے درجے میں اظہار کرنا تھا پھر بھی اگر میری کسی بات سے آپ کی دل آزاری ہوئی ہو تو معافی کی خواستگار ہوں۔