دیکھیں جی پھر وہی بات ہو گئی نا
اور یاد رہے میں نے اس پورے دھاگے میں یا کبھی بھی یہ نہیں کہا کہ میں عقل کل ہوں پوچھیں جو پوچھنا ہے ۔ جس طرح ہزاروں احادیث آپ کو یاد نہیں نا پتہ ہے جس طرح 7 بھگوت گیتائیں ہر ہندو نہیں جانتا اسی طرح مجھے بھی محدودیت سے نکال کر اس کرسی پر مت بٹھائیں کہ بابا بتاؤ یہ سب ۔ویسے عورت اوور مرد ایکدوسرے کے علاوہ رہ بھی سکتے ہیں اور نہیں بھی یہ انسان پر منحصر ہے ۔کوئی لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو مستقل تو نہیں پر وقتی رہتے ہیں ۔ رہی بات ضابطے اور قانون کی میرا نہیں خیال اس کی کوئی ضرورت ہے انسانوں کو آزاد چھوڑ دیا جائے تو بہتر ہے ناکہ اس طرح باندھا جائے کہ نا چاہتے ہوئے بھی بھگتنا پڑے اسطرح کے شادی قوانین جو مذاہب یا ممالک میں بنائے گئے ہیں روزانہ ان کا مس یوز ایک پارٹی کر رہی ہے کہیں مرد تو کہیں عورت۔
اس رشتے کے لیے اگر صرف رجسٹریشن تک کر دیا جائے تو ٹھیک ہو گا تاکہ مستقبل میں ملک کے قوانین (نیششیلٹی کاروبارتعلیم جائداد) کے نظام میں اندراج ہو اور ڈیٹا بیس میں سب کچھ ہو ۔لیکن پابندیاں کوئی نہیں ہونی چاہیے ۔

سوال تھا کہ اگر محدود ہے تو لا محدود کیوں نہیں ہے؟ سائنسدان کہتے ہیں کہ وہ سب کچھ ممکن ہے، جسے انسان سوچ سکے۔ لامحدود کا تصور نیا نہیں بہت قدیم ہے۔ یا تو آپ بتلائیے کہ لا محدود کوں نہیں ہے (آپ کے خیال میں) جب دنیا کے اکثر لوگ کسی نہ کسی طرح لا محدود کے "وجود" کو تسلیم کرتے ہیں تو آپ کا نہ ماننا کیا معنی؟ ابھی آپ نے کہا کہ اکثریت جس بات کو مانے، وہ ٹھیک ہے، جیسے گالی دینا اکثر کے نزدیک برا ہے تو آپ بھی اسے برا جانتے ہیں
؟؟؟؟؟؟؟؟