عمران خان کوئی فرشتہ نہیں ہے۔ اسکے بہت سے اقدام و اعمال کو جائز تنقید کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ البتہ اسے ملک دشمن ثابت نہیں کیا جاسکتا۔
عمران خان کوئی فرشتہ نہیں ہے۔ اسکے بہت سے اقدام و اعمال کو جائز تنقید کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ البتہ اسے ملک دشمن ثابت نہیں کیا جاسکتا۔
اسی لئیے میں آئی کے کے ذکر سے پرہیز کر رہی تھی، ورنہ دل تو بہت کیا کہ لکھوں میری مووی کے ہیرو آئی کے ہوں گے۔ ایویں لوگ ایموشنل ہو جاتے ہیں۔
ہم تو کسی لیڈر کو غدار نہیں سمجھتے۔ آپ کے انصافین بھائی سوشل میڈیا پر عمران کے مخالفین کو غدار ثابت کرنے پر تلے رہتے ہیں
یہ انکی تنگ نظری ہے۔ اور یہ ضروری بھی نہیں کہ سوشل میڈیا پر ہر تحریک انصاف کا جیالا اصلی ہو۔ ابھی کل ہی میں نے یہاں پر ایک جعلی جنگ سے متعلق معلومات فراہم کی تھیں جہاں کسی بیرون ملک میں مقیم عراقی نے بوریت سے تنگ آکر سوشل میڈیا پر ایک بے پرکی اڑائی تھی۔ اور پھر اسکے جواب میں داعش اور شیعہ جنگجوؤں کے شیدائی کمربستہ ہو کر میدان جہاد میں اتر آئے تھے
جناب آپ کی یاد دہانی کے لئے عرض ہے کہ انصافینز سوشل میڈیا پر عمران کے مخالفین کو گالیوں سے نوازتے رہنے کے لئے بدنام ہیں۔ کوئی صحافی یا ٹی وی اینکر جس نے عمران مخالف بات کی ہو وہ ان کے شر سے محفوظ نہیں ۔ آپ سٹیج پر خود عمران کے لب و لہجہ کا موازنہ باقی قومی لیڈروں سے کر کے دیکھ لیں ۔ آپ کو اندازہ ہو جائے گا۔ انصافینز کے بارے میں تاثر درست ہے یا غلط
فیس بک کسی پاکستانی کی جاگیر نہیں ہے کہ گالی گلوچ سے بھرپور مراسلوں اور گروپس کو بین کرتے پھریں۔ میرا فیس بک پر تحریک سے رابطہ بس سرسری سا ہے۔ مجھے نہیں معلوم وہاں دیگر انصافینز اور مختلف جماعتوں کے لوگ آپ میں کیا گُل کھلا رہے ہیں۔ اور ویسے بھی اس قسم کی ایکٹیویٹی کو کنٹرول کرنا بے سود ہے۔ اسکا حل یہی ہے کہ ان سوشل ویب سائیٹس کا رُخ ہی نہ کیا جائے جہاں یہ سب معمول کا کام ہو۔ یاد رہے کہ فیس بک، ٹویٹر وغیرہ پر عموماً کوئی ماڈریشن کا نظام موجود نہیں ہوتا۔ اگر کہیں کوئی متنازع پوسٹ ہو تو اسکو ہٹانے میں کئی گھنٹوں سے لیکر کئی دن بھی لگ سکتے ہیں۔
میں نے کب فیس بک اور ٹوٹر پر ماڈریشن نا ہونے پر احتجاج کیا ہے۔ بات یہ ہے کہ آپ کا کپتان اپنے چاہنے والے انصافینز کی کیسی تربیت کر رہا ہے۔ جب کپتان خود سٹیج پر چڑھ کر اوئے توئے کرے گا تو اس کے چاہنے والے جذباتی کارکن تو فخر سے اوئے توئے سے آگے بڑھین گے
غلطی ہو گئی۔۔۔۔ معافی مل سکتی ہے؟
عمران خان ایک سیاسی لیڈر ہے ، کوئی مذہبی لیڈر نہیں جو لوگوں کو اخلاقیات کا درس دیتا پھرے۔ دھرنے کے دوران جہاں دیگر مخالفین کیخلاف اوئے طوئے ہوتی رہی ہے وہاں اسنے کارکنان کو پر امن رہنے کی اپیل بھی کی تھی۔
جو دوسرے لیڈر سٹیج پر چڑھ کر اوئے توئے نہیں کرتے وہ بھی مذہبی نہیں ہیں۔ عمران کم از کم اپنی زبان تو کنٹرول کر سکتا ہے نا۔ عمران خود کرتا رہا ہے اوئے توئے۔ ناصرف دھرنے کے دوران بلکہ اس کے علاوہ بھی
بالکل۔ اور اسکا خمذیادہ بھی بھگت چکا ہے جب کئی ماہ اوئے طوئے کرنے کے بالآخر اسی ایوان میں داخل ہوا جہاں سے بھاگا تھاتو خواجہ آصف نے اگلی پچھلی ساری اوئے طوئے کی کسر پوری کر لی
لیکن حساب برابر نہیں ہوا
بار بار اسی ایوان میں واپس جائے گا جسے سال قبل گالیوں سے نوازا تھا تو یہ حساب بھی برابر ہو جائے گا


اللہ پوچھے گا آپ سب کو۔۔۔۔
چسکے لینے میں تو آپ بھی پیچھے نہیں ہٹ رہے، آپ کون سا لحاظ کر رہے ہیں رمضان کا جو مجھے کہہ رہے تھے