سوتے میں فون بجے تو بیزاری سے اٹھتا ہوں لیکن دوسری طرف جو بھی ہو، اچھی طرح بات کرتا ہوں۔ عموما یہ بات چیت بہت زیادہ طویل بھی ہوجاتی ہے (یعنی کہ گھنٹوں پر محیط)۔ یہاں تک کہ اگر دوسری طرف سے مجھ سے یہ پوچھا جائے کہ سورہے تھے تو اس کو شرمندگی سے بچانے کے لیے صرف اتنا کہتا ہوں کہ نہیں، بس لیٹا ہوا تھا۔
ساجداقبال — مارچ 29، 2008 9:50 صبح
پہلا تاثر: کس کے ہاتھ میں خارش ہو رہی ہے اسوقت۔
اگلا تاثر: فارغ بندہ۔۔۔۔۔فون بند۔ ”کام“ کا بندہ: فون اٹھاؤ اگر دو گھنٹے بھی بات کرنی ہو۔ نو پرابلم
چاند بابو — مارچ 30، 2008 5:15 شام
دل کرتا ہے کہ فون کرنے والے کو مار ہی ڈالوں لیکن اس کا اظہار ذرا کم ہی کرنے کا موقع ملتا ہے کیونکہ کبھی تو فون پر باس ہوتا ہے اور کبھی کوئی ایسی آواز آ جاتی ہے جو ہمیں مار ہی ڈالتی ہے۔ ہاں اگر غلطی سے کوئی دوست ہو تو پھر مارتا تو نہیں لیکن کم بھی نہیں کرتا۔
جہانزیب — مارچ 30، 2008 5:21 شام
میں جاگتے ہوئے بہت کم توجہ کرتا ہوں فون کی طرف، سوتے ہوئے تو مجھے کبھی پتہ ہی نہیں چلتا ۔
پپو — جون 24، 2008 7:54 صبح
میرا کام چونکہ ہسپتال سے متعلقہ ہے اس لئے فون بند کرنے کا تو میں سوچ بھی نہیں سکتا ایمرجنسی کا معاملہ ہوتا ہے لیکن جب رات گئے فون بجے تو ایک ہی بات ذہن میں آتی ہے ''ایمرجنسی''
گرو جی — جون 24، 2008 8:02 صبح
میںاس لئے فون بند نہیں کر سکتا کیوں کہ میرے خاندان میں آج کل ایمرجنسی بہت چل رہی ہے۔ لہذا کسی بھی وقت کسی کا بھی فون آسکتا ہے۔
لہذا بند کرنا بھی مسئلہ ہے۔
ابو کاشان — جون 24، 2008 8:13 صبح
کوئی خاص تاثرات نہیں ہوتے کیوں کہ میں دوبارہ پھر آرام سے سو جاتا ہوں۔
ایک مزے کی بات بتاتا ہوں۔ سونا میرے لیئے مسئلہ نہیں ہے۔ جب چاہوں سو سکتا ہوں۔ زمین پر، پلنگ پر، صوفے پر، حد یہ ہے کہ چلتی بس میں بھی سو سکتا ہوں۔
اصل مسئلہ تو مجھے سُلانے کا ہے۔ میں سونے کے لیئے لیٹتا بڑی مشکل سے ہوں۔ امّی جی یا بیگم صاحبہ سونے کے لیئے کہیں 11 بجے تو کمپیوٹر کی جان چھوڑتے چھوڑتے 3 سے 4 بج جاتے ہیں۔ ہاں لائٹ چلی جائے تو 10 بجے ہی سو جاتا ہوں۔
اب تو عادت سی ہے مجھ کو ایسے جینے کی۔
شکاری — ستمبر 14، 2008 6:04 صبح
رات کو سوتے ہوئے مجھے معلوم ہی نہیں ہوتا کہ موبائل کہاں پڑا ہے بس ایسے ہی ادھر اُدھر رکھ کے سوجاتا ہوں رات کو کم ہی فون آتے ہیں اگر آئے تو سن کر دوبارہ سوجاتا ہوں۔ کوئی ٹینشین نہیں
فاروقی — ستمبر 14، 2008 6:24 صبح
ارے فون آیا.......آ ہا. . .
امکانات — ستمبر 19، 2008 6:15 شام
بسا اوقات سر میں چوٹ لگتی ہے
عزیزامین — ستمبر 19، 2008 6:48 شام
سیل فون نہ ہونا ہی خوش قسمتی ہے اسطر ح میں بھی خوش قسمت ہوں
طارق راحیل — فروری 8، 2009 8:18 صبح
اب وقت ملا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حمنہ — جنوری 31، 2010 5:51 شام
اللہ خیر کرے اس ٹا ئم کس کا فون آگیا
کاظمی بابا — ستمبر 14، 2010 8:13 شام
گھنٹی بند کر کے اسے دراز میں پھینک دیتے ہیں
کھوکھر — ستمبر 15، 2010 5:32 صبح
اگر رات دیر سے فون آئے تو
یا اللہ خیرہو
کیونکہ مجھے رات گئے فون نہیں آتے
گل بکاؤلی — اگست 30، 2014 6:19 شام
اول تو ہم سوتے ہی دنیا و مافیا سے بے خبر ہو کر ہیں۔۔۔۔۔۔اگر غلطی سے پتہ چل جاے تو بند آنکھوں بند کانوں کے ساتھ ریسیو کر کے " ہیلو۔۔۔جی۔۔۔۔ہوں۔۔۔۔ سو رہی تھی۔۔۔۔۔۔ٹیییںںںں (کیونکہ عموما" دوسری طرف بہن ہوتی ہے)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسکے علاوہ ردعمل آگے سے سنائ دینے والی آواز پر منحصر کرتا ہے۔
اے خان — دسمبر 25، 2016 5:13 صبح
میرا موبائل اکثر سائلینٹ موڈ پر ہوتا ہے. کبھی اسطرح کی صورتحال سے واسطہ نہیں پڑا
آوازِ دوست — دسمبر 25، 2016 5:33 صبح
عموما" سوتے وقت موبائل سائلنٹ پر ہوتا ہے. ضروری کال کسی بھی وقت ہو وہ اپنا جواز آپ ہوتی یے. جبکہ پیکج زدہ, غیر ضروری, طویل اور بلا مقصد کالز کسی بھی وقت ہوں وہ بیزاری کا باعث بنتی ہیں لیکن کال آ جائے تو جیسی بھی ہو اُسے اٹینڈ نہ کرنا بڑی بد اخلاقی محسوس ہوتی یے سو ہر کال کو ویلکم کہنا پڑتا ہے
فہد اشرف — دسمبر 25، 2016 6:16 صبح
کال نوعیت پر منحصر ہے، اگر غیر ضروری ہوئی تب غصہ آتا ہے پر اظہار نہیں کرتا
طاہر راجپوت ملتان — جنوری 2، 2017 11:44 شام
مجھی سیلولر موبل استعمال کرت ہو کافی عرصہ ھو گیا ہے اور آج تک ایسا نہیں بصورت مرگ ناگہانی کے مجھے میرے موبل نی نا معقولات دخل انداز کیا ہو دوران نینید
اب چونکہ وطن سے دور ہوں اسلیے عموما سیل ٍفون ساٰیلنت پر ہوتا ہے
بہر حال میری طبیعت بوجھل نہیں ھوتی میں کال اٹھا کر بات کرتا ہوں چاھے جیسے بھی نیند ھو