زیک بھائی کے ساتھ تو انٹرویو چل رہا ہے۔ لیکن نور بہنا، مقدس اور حمیرا بہنا کے سوالات کیونکہ ختم ہوگئے ہیں اس لئے اس موقعے پر ان کا شکریہ ادا کرنا ضروری ہے۔ خاص کر
نور سعدیہ شیخ بہنا نے بہت محنت سے سوالات تیار کئے تھے۔ ان کے پہلے راونڈ کے سوالات کو ابھی جب دوبارہ دیکھا تو یہ نوٹ کیا کہ سوالات بہت محنت اور سوچ سمجھ کر ایسے منتخب کئے تھے جن میں ہر سہہ فریق کے لئے دلچسپی کا کچھ نہ کچھ سامان ہو۔ انٹرویو دینے والے کا بھی خیال رکھا گیا اور لینے والے کی دلچسپی کے سوالات بھی اور پڑھنے والوں کی دلچسپی کو بھی مدنظر رکھا گیا تھا۔ اس لئے نور بہنا کی اس محنت کی داد اور شکریہ تو واقعی بہت زبردست بنتا ہے۔ بہت عمدہ نور بہنا۔
حالانکہ ان کا یہ پہلا انٹرویو تھا لیکن کہیں ایسا محسوس نہیں ہونے دیا۔ البتہ خاکسار ان سے اس بات پر بہت معذرت چاہتا ہے کہ ان کے سوالات کے دوسرے حصہ یعنی سیاسی سوالات کو جلدی جلدی مذاق میں ٹال دیا لیکن یہ میری مجبوری تھی کہ نظریں گھڑی پر تھیں کہ صرف آدھ گھنٹہ رہ گیا ہے تو یہ پرچہ سوالات کیسے حل ہو اس لئے پھر ان سوالات کو جلدی جلدی اس طرح ایک جملے میں نپٹایا۔ امید ہے نور بہنا اس مجبوری کو مدنظر رکھ کر درگذر کریں گی۔
مقدس بہنا اور
حمیرا عدنان بہنا کے سوالات کے جوابات بھی بہت جلدی جلدی اور آدھے سنجیدہ اور آدھے مذاق میں دئیے گئے۔ وہاں بھی یہی مجبوری تھی۔ مقدس اور حمیرا بہنا سے بھی دلی معذرت اس بات پر چاہتا ہوں۔ لیکن خاکسار کو اپنی تینوں پیاری بہنوں سے امید ہے کہ وہ جس طرح بھائی نے ان کے سوالات کا سامنا کرکے ان کا جیسا بھی مان رکھا اب وہ بھی میری باتوں سے درگذر کرکے بھیا کا مان رکھیں گی۔ انٹرویو سے صحیح لطف پہلے دن یعنی ہفتے کو ہی آیا کیونکہ فرصت تھی اور پتا تھا کہ کوئی مصروفیت نہیں۔ اس لئے انٹرویو کا پہلا حصہ نور بہنا کی بدولت خوب انجوائے کیا لیکن پھر اچانک آنے والی مصروفیات نے باقی کے انٹرویو سے لطف اندوز ہونے کا موقع ہی نہیں دیا۔ اور یہ تو سب کو پتہ ہے کہ جلدی ہو اور نظریں گھڑی پر ہوں تو پھر تو گاجر کا حلوہ بھی لطف نہیں دیتا۔
فاتح بھائی کے سوالات کے جوابات بھی مذاق میں ٹالے گئے لیکن شکر ہے کہ انہوں نے خود ہی بتادیا کہ انہوں نے یہ سوالات مذاق میں کئے تھے ورنہ ابھی مجھے ان سے بھی معذرت کرنا پڑتی کہ سوری بھائی سائنس کی کتابیں دیکھنے کا وقت نہیں مل سکا جوابات دینے سے پہلے۔
نور بہنا کو ایک مشورہ دوں گا کہ اب اس زمرے کو زندہ کیا ہے تو اسے جاری رکھیں کہ فی الحال اس زمرے کا کوئی والی وارث دور دور تک نظر نہیں آتا۔ ایسے میں اب پہلا قدم اٹھایا ہے تو اسے چلتا رہنا چاہئے۔ اور آجکل یہ اس وجہ سے بھی آسان ہوگا کہ نور بہنا بھی ایکٹو ہیں اور کئی محفلین بھی فعال ہیں تو ہر ہفتے ایک انٹرویو تو بڑے آرام و سکون کے ساتھ چل سکتا ہے۔ اور اب جبکہ نور بہنا نے یہ ثابت بھی کردیا ہے کہ انٹرویو کا سیکشن سنبھالنے کی صلاحیت ان میں بھی کسی سے کم نہیں تو اب انہیں پیچھے نہیں ہٹنا چاہئے۔ نور بہنا اگلے انٹرویو کے لئے کوئی بندہ یا بندی ڈھونڈنا شروع کردیں۔

اگلا ہفتہ خالی نہیں جانا چاہئے۔
