جی، اصل میں 1st Class On Board 1st Class Survived2nd Class On Board2nd Class Survived3rd Class On Board 3rd Class Survived Crew On Board Crew Survived
Men 1755716814 462 75 192
ابھی ان رنگوں کو ان کے ساتھی رنگوں کی مطابقت سے دیکھیں
بےبی ہاتھی
شمشاد — جون 29، 2006 3:25 شام
شکریہ قیصرانی صاحب، اب اتنا بھی گیا گزرا نہیں ہوں۔
ارے نہیں شمشاد بھائی، یہ دراصل دوسرے دوستوںکے لیے تھا۔ آپ نے تو ٹیبل کا حوالے دے کر بات واضح کر دی تھی۔
بےبی ہاتھی
شمشاد — جون 29، 2006 4:31 شام
اچھا کیا وضاحت کر دی، نہیں تو مجھے اپنی نالائقی پر شبہ ہونے لگ گیا تھا۔
جیہ — جون 29، 2006 5:59 شام
شکریہ قیصرانی رنگ بھرنے کا
در اصل شمشاد بھائی کو آپ کھانے کے ساتھ ساتھ پیڑ گننے کا بھی شوق ہے
محب علوی — جون 29، 2006 6:17 شام
شمشاد نے کہا:
میں نے ربط دیکھ لیا ہے، وہاں ٹیبل بنا ہوا ہے اور یہاں تم نے تو ۔۔۔۔۔ لیکن اب میں نے تم سے تمہاری عمر ہی نہیں پوچھنی لیکن تم رضوان اور محب سے پرانی نہیں ہو سکتی کہ وہ تو جنگ پلاسی میں بھی شرکت کر چکے ہیں اور اس سے پہلے کی لڑائیوں میں بھی۔
ہاں میں نے اور رضوان نے بڑی کوشش کی کہ جنگ پلاسی میں شکست نہ ہو مگر عین لڑائی میں رضوان کا گھوڑا پنکچر ہوگیا اور مجھے اسے لفٹ دینی پڑ گئی اپنے نئے نکور سکوٹر پر ، ذرا مہلت کیا ملی انگریزوں کو وہ چڑھ دوڑے ہمارے فوج پر جب تک میں سکوٹر ریورس کر کے واپس لایا پانسہ پلٹ چکا تھا۔
قیصرانی — جون 29، 2006 6:30 شام
گھوڑا پنکچر، بہت خوب
بےبی ہاتھی
جیہ — جون 29، 2006 7:07 شام
شکر کرو صرف پنکچر ھوگیا تھا۔ پھٹا نہیں
ظفری — جون 29، 2006 7:37 شام
محب علوی نے کہا:
ہاں میں نے اور رضوان نے بڑی کوشش کی کہ جنگ پلاسی میں شکست نہ ہو مگر عین لڑائی میں رضوان کا گھوڑا پنکچر ہوگیا اور مجھے اسے لفٹ دینی پڑ گئی اپنے نئے نکور سکوٹر پر ، ذرا مہلت کیا ملی انگریزوں کو وہ چڑھ دوڑے ہمارے فوج پر جب تک میں سکوٹر ریورس کر کے واپس لایا پانسہ پلٹ چکا تھا۔
محب کیوں تاریخ مسخ کر رہے ہو۔ رضوان کے گھوڑے کا پنکچر نہیں ہوا تھا بلکہ اُس کا ٹائی راڈ ٹوٹ گیا تھا ۔ پھر تم رضوان کو اپنی تین پہیوں والی سائیکل پر بیٹھا کر مستری جھٹکے کے پاس لے گئے تھے ۔ مگر واپسی پر تمہاری سائیکل کے گیئر نہیں لگ رہے تھے تو پھر تم نے ایک رکشہ رکوالیا تھا ۔۔۔ مگر ایک موڑ پر رکشے کے ایک ہیرو کٹ کی وجہ سے تم رکشے سے دوسری طرف نکل گئے تھے ۔ مجبوراً پھر تمہیں اپنے پیروں پر سوار ہوکر دوبارہ میدانِ جنگ میں آنا پڑا ۔ اس سے پہلے کہ تم اپنی تلوار نکال کر فائر کرتے ۔۔۔ پتا چلا کہ اب اُس میدانِ جنگ میں تو بڑے بڑے شاپنگ پلازہ بن چکے ہیں ۔
شمشاد — جون 29، 2006 7:45 شام
میں گیا تھا ایک پلازے میں دکان لینے لیکن پگڑی آسمان سے باتیں کر رہی تھی اس لیے بے نیل و مراہم واپس آ گیا۔
ظفری — جون 29، 2006 7:51 شام
اگر آپ محمود غزنوی کے گیارہوں حملے کے دوران وہاں زمین بُک کروالیتے تو شاید پھر دوکان سستی مل جاتی ۔۔۔ آپ گئے بھی تو پلاسی کی جنگ کے بعد ۔۔۔
قیصرانی — جون 29، 2006 7:56 شام
ظفری نے کہا:
محب علوی نے کہا:
ہاں میں نے اور رضوان نے بڑی کوشش کی کہ جنگ پلاسی میں شکست نہ ہو مگر عین لڑائی میں رضوان کا گھوڑا پنکچر ہوگیا اور مجھے اسے لفٹ دینی پڑ گئی اپنے نئے نکور سکوٹر پر ، ذرا مہلت کیا ملی انگریزوں کو وہ چڑھ دوڑے ہمارے فوج پر جب تک میں سکوٹر ریورس کر کے واپس لایا پانسہ پلٹ چکا تھا۔
محب کیوں تاریخ مسخ کر رہے ہو۔ رضوان کے گھوڑے کا پنکچر نہیں ہوا تھا بلکہ اُس کا ٹائی راڈ ٹوٹ گیا تھا ۔ پھر تم رضوان کو اپنی تین پہیوں والی سائیکل پر بیٹھا کر مستری جھٹکے کے پاس لے گئے تھے ۔ مگر واپسی پر تمہاری سائیکل کے گیئر نہیں لگ رہے تھے تو پھر تم نے ایک رکشہ رکوالیا تھا ۔۔۔ مگر ایک موڑ پر رکشے کے ایک ہیرو کٹ کی وجہ سے تم رکشے سے دوسری طرف نکل گئے تھے ۔ مجبوراً پھر تمہیں اپنے پیروں پر سوار ہوکر دوبارہ میدانِ جنگ میں آنا پڑا ۔ اس سے پہلے کہ تم اپنی تلوار نکال کر فائر کرتے ۔۔۔ پتا چلا کہ اب اُس میدانِ جنگ میں تو بڑے بڑے شاپنگ پلازہ بن چکے ہیں ۔
ہاں میں نے اور رضوان نے بڑی کوشش کی کہ جنگ پلاسی میں شکست نہ ہو مگر عین لڑائی میں رضوان کا گھوڑا پنکچر ہوگیا اور مجھے اسے لفٹ دینی پڑ گئی اپنے نئے نکور سکوٹر پر ، ذرا مہلت کیا ملی انگریزوں کو وہ چڑھ دوڑے ہمارے فوج پر جب تک میں سکوٹر ریورس کر کے واپس لایا پانسہ پلٹ چکا تھا۔
محب کیوں تاریخ مسخ کر رہے ہو۔ رضوان کے گھوڑے کا پنکچر نہیں ہوا تھا بلکہ اُس کا ٹائی راڈ ٹوٹ گیا تھا ۔ پھر تم رضوان کو اپنی تین پہیوں والی سائیکل پر بیٹھا کر مستری جھٹکے کے پاس لے گئے تھے ۔ مگر واپسی پر تمہاری سائیکل کے گیئر نہیں لگ رہے تھے تو پھر تم نے ایک رکشہ رکوالیا تھا ۔۔۔ مگر ایک موڑ پر رکشے کے ایک ہیرو کٹ کی وجہ سے تم رکشے سے دوسری طرف نکل گئے تھے ۔ مجبوراً پھر تمہیں اپنے پیروں پر سوار ہوکر دوبارہ میدانِ جنگ میں آنا پڑا ۔ اس سے پہلے کہ تم اپنی تلوار نکال کر فائر کرتے ۔۔۔ پتا چلا کہ اب اُس میدانِ جنگ میں تو بڑے بڑے شاپنگ پلازہ بن چکے ہیں ۔
ظفری ، تم بھی ہمارے ساتھ کے نکلے تم کہیں میر جعفر کے ساتھ مل کر شاپنگ پلازوں کے لیے جاگیریں انگریزوں سے الاٹ تو نہیں کروا رہے تھے۔ میں اور رضوان میدان جنگ میں دادِ شجاعت دیتے رہ گئے اور تم سارے کارنر پلاٹ الاٹ کروا گئے ، خوب اتنا بھی نہ سوچا کہ ہم دو محبِ وطنوں کے لیے کوئی دو چار گاؤں ہی رکھ چھوڑتے ۔
پاکستانی — جون 29، 2006 8:32 شام
بہت خوب
یہاں تو زور دار لڑائی جاری ہے اب دیکھیں ‘کندھ‘ کس کی لگتی ہے، ہمت کرو یارو
شمشاد — جون 29، 2006 11:42 شام
کنڈ لگنے کی نوبت ابھی نہیں آئے گی، انگریز بہادر نے رج کے زمینیں بانٹی تھیں، کون سا کوئی اس کے باپ کا مال تھا۔ آجکل کے حکومتی عہدیدار رج کے زمینیں الاٹ کروار رہے ہیں، کون سا کسی کے باپ کا مال ہے جو روکے۔
شمشاد — جون 29، 2006 11:47 شام
ظفری نے کہا:
اگر آپ محمود غزنوی کے گیارہوں حملے کے دوران وہاں زمین بُک کروالیتے تو شاید پھر دوکان سستی مل جاتی ۔۔۔ آپ گئے بھی تو پلاسی کی جنگ کے بعد ۔۔۔