اردو محفل پر خوش آمدید یاز صاحب، آپ نے شعر اچھا لکھا ندا فاضلی کا، امید ہے یہاں محفل پر آپ کو فیض کی طرح یہ گلہ نہیں کرنا پڑے گا۔
کہاں گئے شبِ فرقت کے جاگنے والے
ستارۂ سحری ہم کلام کب سے ہےاور اگر میں غلطی نہیں کر رہا تو آپ وَن اردو والے یازغل بھائی ہیں، اور ماشاءاللہ کافی فعال ہیں وہاں۔
وارث صاحب یہ ندا فاضلی کا نہیں بلکہ مخدوم محی الدین کا شعر ہے - ندا نے اسے چرایا ہے - میں یہاں حیدرآبادی کی پوسٹ کے حوالے سے نقل کر رہا ہوں -
مخدوم کے کلام کو اکثر ہندی/اردو فلموں میں فلمایا بھی گیا ہے۔ لیکن ، 1997ء کی فلم "تمنا" میں مخدوم کی ایک نظم (شب کے جاگے ہوئے) کا کھلے عام سرقہ کیا گیا اور اس کو ندا فاضلی کے نام سے پیش کیا گیا تھا۔ جس پر مخدوم کے اکلوتے فرزند نصرت محی الدین نے ، جو کہ خود بھی حیدرآباد کے معروف ترقی پسند تخلیق کار ہیں ، پروڈیوسر پوجا بھٹ ، ڈائرکٹر مہیش بھٹ اور نغمہ نگار ندا فاضلی پر مقدمہ دائر کر ڈالا۔
اور یہ رہا وہ کلام از مخدوم محی الدین لیکن افسوس اسکا عنوان نہیں پتہ چل سکا کیونکہ یہ بظاہر نظم نظر آتی ہے - لیکن یہ بات تو تصدیق شدہ ہے کہ یہ کلام مخدوم کا ہی ہے کیونکہ پنجاب پبلک لائبریری سے مخدوم کا انتخاب نکلوایا تھا اور اس میں یہ کلام میںنے پڑھا تھا لیکن اسکا عنوان یاد نہیں رہا -
رات بھر دیدہء غمناک میں لہراتے رہے
سانس کی طرح سے آپ آتے رہے ، جاتے رہے
خوش تھے ہم اپنی تمناؤں کا خواب آئے گا
اپنا ارمان برافگن دہ نقاب آئے گا
نظریں نیچی کئے شرمائے ہوئے آئے گا
کاکلیں چہرے پہ بکھرائے ہوئے آئے گا
آ گئی تھی دلِ مضطر میں شکیبائی سی
بج رہی تھی میرے غم خانے میں شہنائی سی
شب کے جاگے ہوئے تاروں کو بھی نیند آنے لگی
آپ کے آنے کی اک آس تھی اب جانے لگی
صبح نے سیج سے اٹھتے ہوئے لی انگڑائی
او صبا تو بھی جو آئی تو اکیلے آئی
میرے محبوب میری نیند اڑانے والے
میرے مسجود میری روح پہ چھانے والے
آ بھی جا تاکہ میرے سجدوں کا ارماں نکلے
آ بھی جا کہ تیرے قدموں پہ میری جاں نکلے