شب کے جاگے ہوئے

تیلے شاہ — مارچ 24، 2008 11:33 صبح
میں پپو بھائی خوش آًًمدید آپ شب کے جاگے ہوئے ہیں تھوڑا آرام کر لیں پھر ملاقات ہوگئی
ل و ل
پپو بھائی پڑھ کے پتہ نہیں کیوں بے اختیار ہنسی آجاتی ہے
تیلے شاہ — مارچ 24، 2008 11:35 صبح
یاز بھائی بہت خوشی ہوئی آپکا تعارف پڑھ کے
انشاء اللہ آپ سے بہت کچھ سیکھنا ہے ٹریکنگ کے بارے میں
زونی — مارچ 24، 2008 3:12 شام
نام : یاز
جگہ: راولپنڈی
تعلیم: الیکٹریکل انجینئر
مشاغل: کتابیں، شاعری، میوزک،،،،،،
جنون: ٹریکنگ و سیاحت

بڑی دیر کر دی تو نے مہرباں آتے آتے :grin:
محفل پہ خوش آمدید یاز بھائی ، آپ شاید جاسوسی کا دس سالہ تجربہ لکھنا بھول گئے ہیں اپنے تعارف میں;):grin:
یاز — مارچ 24، 2008 4:27 شام
بڑی دیر کر دی تو نے مہرباں آتے آتے :grin:
محفل پہ خوش آمدید یاز بھائی ، آپ شاید جاسوسی کا دس سالہ تجربہ لکھنا بھول گئے ہیں اپنے تعارف میں;):grin:
شکریہ زونی جی،
اب اپنے منہ سے کیا تعریف کرنی،،،،، باقی کا تعارف آپ کروا دیں،،،،،، ہم تو ویسے بھی ہسٹری شیٹر ہیں۔
فرذوق احمد — مارچ 24، 2008 4:37 شام
شب کے جاگے ہوئے تاروں کو بھی نیند آنے لگی
آپ کے آنے کی اک آس تھی اب جانے لگی
یہ ایک نظم یا گیت ہے جو ایک فلم تمنا میں شامل تھا۔ شاعر ندا فاضلی

اور گلوکار کمار سانو
درست ؟؟؟؟؟//
یاز صاحب دل کی گہرائیوں سے آپ کو اس پیاری سی ننھی سی خوشذائقہ سی میٹھی سے ۔۔کچھ کھٹی سی ۔کچھ بزرگ سی ،،کچھ جوان سی مگر ایک نہایت ہی عمدہ محفل میں خوش آمدید کہتا ہوں
یاز — مارچ 24، 2008 4:56 شام
شکریہ جناب
اندازہ درست ہے،،،،، بس اتنا کہ یہ گانا الکا نے بھی گایا اور کمار سانو نے بھی،،،، دونوں ہی فلم میں شامل ہیں
محمد وارث — مارچ 24، 2008 6:03 شام
شکریہ جناب وارث بھائی، آپ غلطی کر ہی نہیں سکتے، آپ نے صحیح پہچانا

ایسا نہ کہیں یاز صاحب، سبھی انسان غلطیاں کرتے ہیں اور میں بھی کرتا ہوں، بلکہ غلطی کرنے کو اپنے انسان ہونے پر دال سمجھتا ہوں۔ :)
خوشی اس بات کی ہے کہ وَن اردو سے کئی اچھے دوست اور اعلٰی ذوق کے مالک احباب اردو محفل پر تشریف لا رہے ہیں۔
یاز — مارچ 24، 2008 6:17 شام
شکریہ وارث بھائی،
بس بہتری کی تلاش کسی نہ کسی منزل پہ پہنچا دیتی ہے، سو ہم بھی بھٹکتے پھرتے کہیں آ ہی گئے ہیں۔
بلال — مارچ 24، 2008 6:22 شام
محفل پر خوش آمدید۔۔۔ امید ہے یہاں آپ کا اچھا وقت گزرے گا۔۔۔ اللہ تعالٰی آپ کو خوش رکھے۔۔۔آمین
تعبیر — مارچ 24، 2008 7:45 شام
لیں آپ کی اس پوسٹ نے تو میری ساری امیدیں توڑ دیں :( کہ ہنگامی حالات میں میں نے سوچا تھا کہ میں ون اردو کا رخ کروں گی
یاز — مارچ 24، 2008 7:51 شام
کس پوسٹ نے امیدیں توڑ دیں
شعیب خالق — مارچ 24، 2008 8:26 شام
شب کے جاگے ہوٕئے یاز کو وش اتکے بلوچی میں اور اردو میں خوش آمدید
یاز کے معنی کیا ہیں؟
تعبیر — مارچ 24، 2008 8:32 شام
کس پوسٹ نے امیدیں توڑ دیں

ارے یاز وہاں سے سب ادھر کا رخ کر رہے ہین نا۔ جب کے میں وہاں جانے کا سوچ رہی تھی
یاز — مارچ 24، 2008 8:47 شام
شب کے جاگے ہوٕئے یاز کو وش اتکے بلوچی میں اور اردو میں خوش آمدید
یاز کے معنی کیا ہیں؟
شکریہ جناب
یاز کے کوئی خاص معنی نہیں ہیں۔ یہ میرے نک کا نک ہے
ویسے "نک کا نک" کسی ناول کا نام بھی ہو سکتا ہے۔
تو عرض یہ ہے کہ ون اردو نامی سائٹ پر اپن یازغل کے نام سے آتا تھا۔ بس کچھ دل وہاں سے اکتا سا گیا تو اپن نے ادھرچ لاگ ان بنایا۔ اب کوئی تو نک رکھنے کا تھا تو یاز ہی رکھ لیا، بولے تو صحیح کیا یا غلط
شعیب خالق — مارچ 24، 2008 9:09 شام
میں یہی سجمھا کہ یہ ایاز ہے جس کا آپ نے ا لف ہٹا دیا ہے۔:)
یاز — مارچ 24، 2008 9:12 شام
جیسے الف کا الف ہٹا دیں تو وہ لف جاتا ہے
فرخ منظور — مارچ 25، 2008 5:19 صبح
اردو محفل پر خوش آمدید یاز صاحب، آپ نے شعر اچھا لکھا ندا فاضلی کا، امید ہے یہاں محفل پر آپ کو فیض کی طرح یہ گلہ نہیں کرنا پڑے گا۔ :)
کہاں گئے شبِ فرقت کے جاگنے والے
ستارۂ سحری ہم کلام کب سے ہے
اور اگر میں غلطی نہیں کر رہا تو آپ وَن اردو والے یازغل بھائی ہیں، اور ماشاءاللہ کافی فعال ہیں وہاں۔

وارث صاحب یہ ندا فاضلی کا نہیں بلکہ مخدوم محی الدین کا شعر ہے - ندا نے اسے چرایا ہے - میں یہاں حیدرآبادی کی پوسٹ کے حوالے سے نقل کر رہا ہوں -
مخدوم کے کلام کو اکثر ہندی/اردو فلموں میں فلمایا بھی گیا ہے۔ لیکن ، 1997ء کی فلم "تمنا" میں مخدوم کی ایک نظم (شب کے جاگے ہوئے) کا کھلے عام سرقہ کیا گیا اور اس کو ندا فاضلی کے نام سے پیش کیا گیا تھا۔ جس پر مخدوم کے اکلوتے فرزند نصرت محی الدین نے ، جو کہ خود بھی حیدرآباد کے معروف ترقی پسند تخلیق کار ہیں ، پروڈیوسر پوجا بھٹ ، ڈائرکٹر مہیش بھٹ اور نغمہ نگار ندا فاضلی پر مقدمہ دائر کر ڈالا۔
اور یہ رہا وہ کلام از مخدوم محی الدین لیکن افسوس اسکا عنوان نہیں پتہ چل سکا کیونکہ یہ بظاہر نظم نظر آتی ہے - لیکن یہ بات تو تصدیق شدہ ہے کہ یہ کلام مخدوم کا ہی ہے کیونکہ پنجاب پبلک لائبریری سے مخدوم کا انتخاب نکلوایا تھا اور اس میں‌ یہ کلام میں‌نے پڑھا تھا لیکن اسکا عنوان یاد نہیں رہا -
رات بھر دیدہء غمناک میں لہراتے رہے
سانس کی طرح سے آپ آتے رہے ، جاتے رہے
خوش تھے ہم اپنی تمناؤں کا خواب آئے گا
اپنا ارمان برافگن دہ نقاب آئے گا
نظریں نیچی کئے شرمائے ہوئے آئے گا
کاکلیں چہرے پہ بکھرائے ہوئے آئے گا
آ گئی تھی دلِ مضطر میں شکیبائی سی
بج رہی تھی میرے غم خانے میں شہنائی سی
شب کے جاگے ہوئے تاروں کو بھی نیند آنے لگی
آپ کے آنے کی اک آس تھی اب جانے لگی
صبح نے سیج سے اٹھتے ہوئے لی انگڑائی
او صبا تو بھی جو آئی تو اکیلے آئی
میرے محبوب میری نیند اڑانے والے
میرے مسجود میری روح پہ چھانے والے
آ بھی جا تاکہ میرے سجدوں کا ارماں نکلے
آ بھی جا کہ تیرے قدموں پہ میری جاں نکلے
محمد وارث — مارچ 25، 2008 5:27 صبح
شکریہ فرخ صاحب اتنی قیمتی معلومات کیلیئے۔
میں نے نہ کبھی یا نظم پڑھی یا سنی اور نہ ہی فلم دیکھی، یاز صاحب نے اسے فاضلی کا شعر لکھا تو اعتبار کر لیا۔
خرم شہزاد خرم — مارچ 25، 2008 5:37 صبح
السلام علیکم یاز بھائی میں بھی آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں میں بھی راولپنڈی کا ہوں ہم دونوں ‌تو پھر پنڈی وال ہو گے ویسے شمشاد بھائی بھی پنڈی کے ہیں‌نام سے کیوں‌کے وہ یہاں نہیں‌ہوتے ہیں آج کل
فرخ منظور — مارچ 25، 2008 6:25 صبح
شکریہ فرخ صاحب اتنی قیمتی معلومات کیلیئے۔
میں نے نہ کبھی یا نظم پڑھی یا سنی اور نہ ہی فلم دیکھی، یاز صاحب نے اسے فاضلی کا شعر لکھا تو اعتبار کر لیا۔

آپ تمنّا فلم ضرور دیکھیے بہت خوبصورت فلم ہے اور پاریش راول جو کہ ایک مزاحیہ ایکٹر کے طور پر مشہور ہیں‌اس فلم میں ایک بہت سنجیدہ کردار میں نظر آئیں گے اور اس کردار میں وہ اپنی ایکٹنگ کی معراج پر ہیں -

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B4%D8%A8-%DA%A9%DB%92-%D8%AC%D8%A7%DA%AF%DB%92-%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92.11351/page-2