سر، یہ شعر اقبال کا نہیں، وقار انبالوی کا ہے جو ان کے ہفت روزہ جریدے 'سفینہ' کی پیشانی پر یوں شائع ہوا کرتا تھا:
اسلام کے دامن میں اور اِس کے سِوا کیا ہے
اک ضرب یَدّاللہی، اک سجدہء شبیری
عاطف بٹ — اگست 21، 2012 5:50 صبح
شعیب صاحب، خوش آمدید۔
عید مبارک۔
محمود احمد غزنوی — اگست 21، 2012 8:02 صبح
خوش آمدید جناب
ساجد — اگست 21، 2012 8:29 صبح
خوش آمدید ، شعیب صاحب۔ امید کرتے ہیں کہ آپ سے خوب گپ شپ رہے گی۔
لڑی کا عنوان دیکھ کر معاً خیال آیا کہ شاید حضرتِ اقبال عالمِ بالا سے اردو محفل پر تشریف لے آئے ہیں۔ اگر آپ حکم کریں تو لڑی کا عنوان آپ کے اسمِ گرامی سے موسوم کیا جا سکتا ہے۔
سر، یہ شعر اقبال کا نہیں، وقار انبالوی کا ہے جو ان کے ہفت روزہ جریدے 'سفینہ' کی پیشانی پر یوں شائع ہوا کرتا تھا:
اسلام کے دامن میں اور اِس کے سِوا کیا ہے
اک ضرب یَدّاللہی، اک سجدہء شبیری